اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک خطاب سے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے جب کہ یہ جبری نقل مکانی ناقابل قبول قرار دی گئی ہے۔ اس خطاب میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عملدرآمد ضروری سمجھا ہے اور فلسطینی ریاست کا قیام ضروری بنایا گیا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے، اس سے قبل کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
غزہ میں حملے، جبری نقل مکانی اور تباہی کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے اور پاکستان یو این تنصیبات اور یو این آر ڈبلیو ای پر حملوں کی مذمت کرتاہے۔ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی غیر متزلزل ہے، اس لئے اسرائیل کو شام اور لبنان میں بھی غیر قانونی کارروائیوں کی فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
فلسطینی عوام کی مایوسی سے محض نمونہ نہیں بننا چاہئے، اس کے حل کو ہم اپنے آپ میں لپٹ لینا چاہئے. کبھی بھی جبری نقل مکانی کی بات کرنی نہیں چاہئے، اس کے بجائے امن منصوبوں پر کام کرنا چاہئے۔ فلسطین کو ایک آزاد ریاست بنانے کی ضرورت ہے اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں پر خودمختار ریاست قائم کرنے کا حق دیا جاتا ہے. غزہ میں حملے، تباہی اور جبری نقل مکانی سب ناقابل قبول ہیں!
یہ سچ ہے کہ فلسطین کی مشکل situation ہے لیکن یہ کہنا بھی سچ ہے کہ ایسے решения جو آئے ہیں وہ فلسطینی لوگوں کے لئے نہیں بلکہ اسرائیل کی مدد سے ہون گے۔ اس خطاب سے قبل فلسطین کے ووٹ پر پہلے انصاف اور جسمانی آزادی کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
اسلامی دنیا میں یہ بات تو چالاکوں کے لئے ہے کہ فلسطین کی ایک ریاست قائم کرنی پوری بھارتیہ کے برعکس ایسا نہیں ہوسکتا لیکن ان سے قبل یہ بات بھی چالاکوں کے لئے ہے کہ فلسطینی عوام کی ایک ایسی رائے عام ہو جس سے یہ نٹیجہ ہوسکے کہ وہ واپس چلے جائیں۔ آئے تو اس سے نتیجہ ہوسکے کہ فلسطینی عوام ایک ایسی رائے عام کی تلاش میں ہیں لیکن وہ نہیں بن سکتیں۔
اس خطاب سے نکلنے والے فیصلے کا مقصد صرف فلسطین کو اچھی طرح لگاتار تباہ کرنا ہوگا۔ جبکہ اسرائیل اس کے خلاف ایسے ہیڈ وٹس کرتا ہے، آج بھی یہ واضح نہیں کر سکا کہ وہ فلسطینیوں کو اپنی سرحدوں میں اچھی طرح رکھنا چاہتا ہے یا اسے جاتی رہنے کی اجازت دی جائے۔ یہ خطاب صرف فلسطین کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو ہی فائدہ ہوا گیا ہے، ابھی تنگ آ کر کہتے ہیں کہ شام اور لبنان میں بھی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف پابندی کی ضرورت ہے۔ ایسا سچمے تھا اس خطاب کو، ایسی واضح رائے نہیں بتائی گئی کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بہت سی باتوں پر معامله کرنی ہوگی।
پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں انصاف کی بات کی گئی ہے، لیکن یہ بات تو سمجھ لینا چاہیے کہ فلسطینی عوام کو پچیس سالوں سے جبری نقل مکانی کا شکار ہے اور ان کی جانوں پر یہ حملے ہوئے ہیں، اس لئے تو ایسے حالات میں امن منصوبوں کو عمل در آمد ہونا ناہیں بھی چاہیے بلکہ اسرائیل کے ساتھ ہدایتہ عمل کی ضرورت ہے، دوسری جانب قدس الشریف پر قبول ہونے والی فلسطینی ریاست کو بھی پورا حق دیا جानا چاہیے
کیا یہ تو ایک بدترین موقف ہے! فلسطین پر اسرائیل کے جس پھرQUODیہ سے بھارپور دباؤ ہے، اب یو ای نے اسے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے؟ اب تو پھر وہ سچ کہتے ہیں، فلسطین پر دباؤ کے نتیجے میں جبری نقل مکانی اور تباہی ہو رہی ہے #FactsMatter
مگر یہ تو اس وقت کی بات ہے، اب ہمیں ایسا ہونا چاہئے کہ اس خطاب سے متعلق ہمیں اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے یو ای کے تمام اقدامات کی مذمت کرنا پڑے #UNfailures
اور اب وہ بھی کہتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی ہونا چاہئے، لیکن یہ تو فلسطینی عوام کو ایسا ملتا ہوا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی لڑائی میں جھیلا رہتی ہے #JusticeForPalestine
سپچر نے فلسطین پر انحصار کرنا ایک بدقسمتی ہے، یہ دیکھنا کہ دنیا بڑی سرزمین پر مشتمل ہے اور اسے کسی ایک جگہ پر محدود کر دیا گیا ہے، ایسا لگتا ہے ایک نوجوان کی جگہ جو دوسرے کو جگہ دے رہا ہے… فلسطین یوں سے 1948 میں ہوئی تباہی کیسے بھول جاسکتا ہے؟ اور اب وہ شام اور لبنان میں بھی اپنی ایسی تاریخ کی وجہ سے تباہی کیا جا رہا ہے… (sad face)
اس خطاب نے مجھے ٹھوس لگا، پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایسا کیا ہے کہ دنیا بھی اس پر توجہ دے گی، فلسطین کی مسئلہ کو حل کرنے کا یہ قدم ایک اہم کदम ہے۔
غزہ میں حملوں سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے، تباہی کی وہی طرح کے معاملات کو حل کرنا چاہئے جو فلسطینی عوام کو پھینکتے ہیں۔
اسلامک ایجنسیز لائسنسنگ ایکٹ میں اس کے تحت امن منصوبوں پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے، یہ ایک بڑا کदम ہے جو امن کو بحال کرنے میں مدد دے گا، اور فلسطین کی عوام نے ایسا ہی مطالبہ کیا ہے جیسا اس نے کہا ہے، یہ ایک اچھا کاروبار ہوگا۔
کیوں آج فلسطین کو ایک غیر مسلم ریاست بنانے پر عملدرآمد کیاجارہی؟ اس لیے کہ یہ خطاب فلسطینی عوام کی مرضی سے نہیں اور اسرائیل کو شام اور لبنان میں بھی حملہ کرنے پر متعذّر ہے؟ اور پھر کیا یہ انساف کونسے کی قرارداد 2803 سے متعلق نہیں جو کہ منصوبے کی واضح نشاندہی کرتی ہے، شام اور لبنان میں اسرائیل کو حملہ کرنا جہل کا کام ہے؟
اس خطاب سے فلسطین کی صورتحال کو بدلتے ہوئے دیکھنا محسوس ہوتا ہے، ایک غیر متزلزل پلاٹ فارم کے ساتھ ہی، اسے تو یہ چاہتا ہوں گا، لیکن پھر بھی وہ یہ کہیں نہیں کہ اس صورتحال کو اور بھی خراب بنایا جا رہا ہے، غزہ میں حملوں سے پٹ کیا گیا تھا، اور یہ دھمکاوات ابھی بھی چلتی ہیں ، اس کے بعد فلسطینی عوام کی آزادی و استقلال کا ایک غیر ملکی فوج کے زور سے قائم کردیا گیا ریاست یوں کے ساتھ تو ہم ایک ہی راسخ الاعتقاد نہیں ہیں، پھر بھی وہ یہ کہیں نہیں کہ اس صورتحال کو حل کیا جا سکتا ہے؟
بھارتی فوج نے نیپال کے قومی ایکسچینج پارک میں حملہ کر دیا ہے؟ چیئس تو ایسی ہی کیوں کرتا ہے؟ اور فلسطینی لوگوں کو جب्रانی Migration سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا ہے تو یہ کیسے چل سکتا ہے؟ یہ سب کچھ غیر متعادل ہے، اسرائیل کی فوری کارروائیوں کو رکھنا پورے региوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔