پاکستان نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیدیا جبری نقل مکانی ناقابل قبول قرار

ساحل دوست

Well-known member
پاکستان نے ایسے خطاب کیے ہیں جو فلسطین کے مسئلے کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام اور لبنان میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو فوری طور پر ختم کر دیاجئے اور فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم کرنا ہوگا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔

انھوں نے یو این سیکرٹری جنرل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عمل در آمد کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی۔ انھوں نے غزہ میں جبری نقل مکانی اور تباہی کو قائم کیا وہ پاکستان بھر میں حملے پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ یو این ٹانصیبات اور یو این آر ڈبلیو ای پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عمل در آمد ضروری ہے، فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی غیر متزلزل ہے اور وہ اسرائیل کو اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ایک آزاد فلسطین کی ضرورت ہے۔
 
اس بات پر مجھے یہ سوچنا پسند آتا ہے کہ فلسطینی مسئلے کا حل ایسا نہیں ہوسکتا جس میں اسرائیل کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکے اور وہ فلسطین کی آزادی کے لیے بھی کچھ انحصار کرنے والا ہوسکے 🤔

مگر دیکھو کہ انسکوالیڈ نیشنز سیکریٹری جنرل کی ایک بار پھر ایسی قرارداد کی تجویز کی جائی جائے جس میں اسرائیل کو یو این ٹانصیبات اور یو این آر ڈبلیو ای پر حملے کا الزام لگایا جائے تو وہ کیسے اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرے گا؟

اس کے ساتھ اس بات پر مجھے یہ سوچنا پسند آتا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے ایسے معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے جو اسرائیل کو کمزور نہ کر دیں تو وہ آگے بڑھ سکتا ہے اور فلسطینی عوام کے لئے وہ کیا کرسکتا ہے؟
 
اس خطاب میں فلسطین کے مسئلے کی بنیادی وجہ کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے طور پر قرار دیا گیا ہے، جو شام اور لبنان میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں سے متعلق ہے 🚨 . یہ بات بھی صاف کرتی ہے کہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم کرنا ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت قدس الشریف ہوگا۔ یہ واضح بات ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عمل در آمد ضروری ہے، اور غزہ میں جبری نقل مکانی اور تباہی کو قائم کیا گیا ہے۔ یو این ٹانصیبات اور یو این آر ڈبلیو ای پر حملوں کی مذمت بھی کی گئی ہے، اور پاکستان بھر میں حملوں کو بھی مذمت کیا گیا ہے۔

اس سارے خطاب میں یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی غیر متزلزل ہے اور وہ اسرائیل کو ایک آزاد فلسطین کی ضرورت سے انکار نہیں کر سکتے، جس کاMeans ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی صاف ہے کہ اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو فوری طور پر ختم کر دیا جانا چاہیے اور فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم کیا جانا چاہیے۔
 
اس خطاب میں فلسطین پر زور دلا رہے ہوئے تو یقینی طور پر اسرائیل بھی اپنی طرف سے کیا کرتا ہو۔ پاکستان نے صرف ایک بات پکڑی ہے، فلسطین کی آزادی کی وکالت کر رہے ہیں لیکن اسرائیل کو تو اس بات پر زور دلانا چاہئے کہ وہ بھی ایسا بنتا ہو، بالکل ایسا نہیں جیسا کہ وہ لگاتار کر رہے ہیں۔

علاوہ گزہ میں جبری نقل مکانی اور تباہی کو قائم کیا تو یہ بھی ایک بد عمل ہے، اس پر کوئی آواز نہیں کی جاسکی، اس سے فلسطینی عوام کا حال بہت بिगڑا ہوگا اور وہی چلے گا جو اچھا ہوگا۔

لیکن ایسا سمجھنا ضروری ہے کہ یو این کی ایسی قرارداد کبھی نہیں بنتی جو فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر قائم کر دیجے، اس میں کوئی حل نہیں ہے، وہ صرف Problem ہی پیدا کر رہا ہے۔
 
اس سے تو یہاں تک کہیں کو بھی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی دیکھنا ہوگی، لیکن یہ بات CERTAIN HAI कہ فلسطین کی समसہ صرف ایک حل نہیں ہوگا بلکہ ایک گرانڈ strategically plan bhi ہوگا جو پوری دنیا کو اپنے ساتھ لے گا
 
سیدوں کی باتیں تو ایک طرف گئیں جن میں فلسطین کی بات کرتی ہے، لیکن باقی نہیں تو یہ بتاتا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان رشتے کس طرح ٹوٹ گئے تھے جبکہ فلسطین میں پہلی جنگ عظیم کا پتہ نہیں لگتا بلکی اور اس کی تاریخ کو میرا خیال ہے وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوا تھا، جس سے یورپ میں پتھر پتھر تھک گئے اور شام میں طالبان کی اگ نے ساحلی علاقوں کو اپنی سرزمین قرار دیا ہے۔
 
اس خطاب میں Pakistan نے فلسطین کے مسئلے کا حل کرنے کی بات کی ہے، لेकिन ابھی تو اس مسئلے کو حل کرنا بہت مشکل ہے۔ میں سمجھतا ہوں کہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم کرنا ممکن نہیں، لیکن اس بات پر اتفاق کرنا ضروری ہے کہ شام اور لبنان میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو ختم کیا جائے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی جانب سے یہ بات قابل توجہ ہے، لیکن اس خطاب میں یو این سیکرٹری جنرل کی قرارداد 2803 کا ذکر ہوتا ہے جو کہ امن منصوبے پر عمل در آمد کو ضروری قرار دیتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات صحیح ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کی کوشش کرنا بھی مشکل ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ایک جہت ہونا ضروری ہے، لیکن اسرائیل کو اس بات سے انکار نہیں کرنا چاہئے کہ ایک آزاد فلسطین کی ضرورت ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات قابل تسلیج ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کی کوشش کرنا بھی مشکل ہوگا۔ میں صرف ایسا چاہوں گا کہ فلسطینی عوام کو شanti aur aman mile 🙏
 
اس خطاب میں فلسطینی مسئلے پر پاکستان کی وضاحت بہت حقیقی اور مستحکم ہے, پھر بھی جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ شام اور لبنان میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے اور فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم کیا جائے تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہاں کونسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں اور اس نئے فلسطین میں کونوں کو اپنی سر فراغت دی جائے گی۔

اس پر یہ بھی بات کہی گئی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عمل در آمد ضروری ہے، لیکن یہ بات نہیں سامنے آئی کہ اس منصوبے کو کس طرح عمل میں لایا جائے گا اور فلسطینی عوام کیسے متاثر ہوں گی, یہ بات بھی بتائی نہیں گئی ہے۔
 
بھارتیوں کو یہ تو چلچلا آ رہا ہے کہ صدر کس لاء فوری طور پر شام اور لبنان میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو ختم کرنا پڑے گا؟ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم کرنا تو اس کا مقصد ہے کہ وہ عرب دنیا میں کوئی بھی طاقت کی نظرانداز نہیں کر سکے؟ اور یہ سب کچھ ان کی صلاحیت کا تعین کرنے والے ہوں گے؟ انھوں نے غزہ میں جبری نقل مکانی اور تباہی کو قائم کیا تو وہ کیا چاہتے تھے؟ انہیں یہ بات بھی پچھاننی ہوگی کہ وہ فلسطینی عوام کی یکجہتی پر ایسا کیسے زور دیتے ہیں جو اس سے مل کر وہ ان لوگوں کو انکار نہیں کر سکائیں جس پر وہ چلچل رہے ہیں؟
 
🤣🇵🇰🚫💥 Israel ke baad Pakistan ne bhi kuch naya kaha? 🤷‍♂️ "Fir ek alag darwaaza khulaya jaata hai" 😂

[GIF: Ek dino mein pehle aur baad ka difference]

Pakistan ka dabaawa Israel par lagta hai, lekin kabhi-kabhi yeh sochta hai ki "Kyun?" 🤔
 
اس خطاب سے مجھے لگتا ہے کہ پاکستان بھر میں لوگ انکوائران پر حملوں کے بارے میں ہمیشہ چھپتے رہتے ہیں، اور اب وہ فلسطین کی بات کرنے لگے ہیں تو کچھ لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر انکوائریں اسرائیل پر حملے کرتے ہیں تو وہ بدستیز ہو گئے، لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ فلسطین میں کوئی نا کوئی دوسرے بھی حملے کر رہے ہیں تو بھی وہ اس بات پر غور نہیں کرتے، اور یہ سب بھی پکڑنے کی بات ہے۔
 
اس خطاب میں پاکستان کا راز کو دیکھتے ہوئے منظر نامہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے فلسطین کی آزادگی کی وعدہ تیز کر دی ہے اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والی غیر قانونی کارروائیوں کو منہدم کرنا اور فلسطینی عوام کے ساتھ ایک جسمانی تعلق متعین کرنا ہمیشہ سے اپنیriority رکھا تھا، اور اس بات پر یقین کرتے ہوئے کہ دنیا میں امن کی صورت حال حاصل ہوسکتا ہے تاہم کچھ اٹھانے کی ضرورت بھی ہو گئی ہے، کیا یہ خطاب صرف ان کی تحریکی نیت تھی؟
 
اس خطاب میں پاکستان نے ایسے معاملات پر فोकس دیا ہے جو فلسطین اور شام کو متاثر کرتے ہیں... اسرائیل کی جانب سے بھی کچھ کام کیا جا رہا ہوگا اور یہ بات پکے کہ فلسطینی لوگوں کو شہری حقوق ملنے چاہئے... شام اور لبنان میں اسرائیل کی جانب سے ہونے والی غیر قانونی کارروائیوں پر اس وقت تک پابندی کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے جتنی طویل آگ نہ بنے...
 
بھائی یہ بہت حیرانی کا عمل ہے کہ کیا فلسطینی عوام نے کسی نا کسی صورتحال میں دھکے لگائے ہیں؟ ان لوگوں کو اور بھی توئنگ کرنا پڑ گیا ہو گا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اروپائی ممالک نے فلسطینی عوام کی بات سمجھ لی ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا، اب وہ یورپی ممالک اپنی آزادی کو جنت میں بھی دھو رہے ہیں، اس کے بعد آپ لوگ فلسطین کی بات سے جو لگا کر یقین رکھتے ہیں وہ اور بھی توئنگ کر دیتے ہیں۔
 
اس خطاب میں پاکستان کی طرف سے فلسطین کی مسئلہ پر دباو تو ہے، وہ اسرائیل اور شام کے خلاف لڑ رہے ہیں ، یو این نے بھی اس پر دباؤ ڈالا ہے ، ایک آزاد فلسطین کی ضرورت تو ہے لیکن وہ اس سے کیسے آئے گا؟ شام اور لبنان میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں پر تو دباؤ تو ہے ، لیکن فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم کرنا مشکل ہے ، یہ سارے معاملات میں ایک ایسا حل تلاش ہو گا جس پر تمام ممالک متفق ہوں گے 🤞
 
یہ یقینی ہو گا کہ فلسطین کو آزادی ملاے گا اور وہ اس خطے میں امن کا مرکز بنے گا 🙏 وہ شام اور لبنان کی جسمانی تباہی سے نمٹنے میں ہمیشہ تیار رہتے ہیں، لیکن فلسطین کو ایک آزاد ریاست کا درجہ دینا اس کی اہمیت پر مشتمل ہو گا 🚀
 
🤗 یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ ہی انما اچھٹے لچکے سے بیٹھ گئے ہیں کہ وہ فلسطین کی مصلحت کو اس طرح کی ہمت اور زور سے پیش آئے جو اب تک کسی نے پیش نہیں کیا تھا۔ یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ صدر پاکستان کی جانب سے فلسطین کی امیدوں کو جگا رہا ہے اور وہ اس وقت تک آسان ہونے والی ناقابل تسخیر فتحوں پر قائم رہے گا جب تک دنیا میں ایسے عظیم سلوک کی تماشائی نہیں ہوتے۔
 
واپس
Top