پاکستان نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیدیا جبری نقل مکانی ناقابل قبول قرار

باورچی

Well-known member
سوشل میڈیا پر 24 نیوز نے شام تہت میں ایک اہم اعلان کیا ہے جس میں پاکستان کا مستقل مندوب عاصم افتخار یو این کونسل میں خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کی۔ انھوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عملدرآمد کو ضروری قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کی قیام کو ناگزیر کیا جائے گا۔

عاصم افتخار نے غزہ میں جبری نقل مکانی اور حملوں سے متعلق شدید تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے غضب کے پہلے دن پر یہ کہنا ہے کہ انسانی طور پر تباہ ہونے والے فلسطینی لوگوں کی مدد کی جائے اور انھیں فوری امداد ملے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کو شام اور لبنان سے باہر رہنے کی اجازت دی جائے گی۔

انھوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عملدرآمد کو ضروری قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کی قیام کو ناگزیر کیا جائے گا، اس کے ساتھ اس کے دار الحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے گئے۔
 
اس نویں سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں یہ بات بھی کرنی چاہیں گی کہ فلسطینی لوگوں کو فوری امداد ملے اور انھیں اپنے گھروں کی واپسی کا امکان دیا جائے. یہ سارے کام ایک ہی دیر میں نہیں کر لیا جا سکتا، لاکھوں فلسطینی لوگ اپنی جائیدادوں پر قبضہ کیے گئے ہیں اور اب انھیں واپس جانے کا امکان ہے؟ یہ سارے کالم کو ایک ہی دیر میں حل نہیں کرایا جا سکتا.
 
سوشل میڈیا پر ایسا کیا ہوا ہے؟ اور کیوں؟ میرے لیے یہ سب بہت متاثر کن ہے... می ن کرتا ہوں کہ جب سے می ن پہلے انسٹاگرام پر کھیلتا تھا، اس نے میرا دل چورایا تھا... اب یہ بات بھی اچھی نہیں ہوگی کہ کیا می ن کرتا تھا... 😅
 
عاصم افتخار کو تو انھیں سلامتی کونسل میں شامل کرنا اچھا ہے، لیکن کیا یہ سچ ہوگا کہ فلسطینی ریاست کی قیام کو ناگزیر کیا جائے گا؟ یہ بات بھی انھیں سمجھنے میں تھکتی ہے کہ فلسطینی لوگوں کو شام اور لبنان سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی؟ یہ بات تو نا ممکن ہے کہ اسرائیلی افواج کو انھیں نہ رہنے کی اجازت دی جا سکے گے... 🤔
 
मیری باپ کا ایک بھائی شام تھا، وہ نہیں اتنے سے بڑے ہوتے تھے لیکن وہ فوری لائن پر 24 گھنٹوں کھیلتے تھے… 😂… اور اب وہ شام تھا، میرے بھائی نے ایسا ہی کہہ دیا تھا کہ فلسطینی لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور انھیں امداد کی ضرورت ہے… میرا بھائی ان پہ لاکھوں لوگوں پر مشتمل تھا، اب وہ ایک عالمی ریکارڈ کے لیے جانا جائے گا… 😔
میری نان کی دو بیٹیاں ہیں، انھوں نے میرے بھائی کو پہلی بار فوری لائن پر دیکھا تھا اور اب وہ اپنے بیٹے کے لیے ایک عالمی ریکارڈ بننا چاہتے ہیں… 😂
اسلام آباد سے شام تک پھرتی لالچ تو اس کو میری نان کی دوسری بیٹی میں بھی ہوئی ہے، اب وہ اپنی بہن کو عالمی ریکارڈ بنانے کا موقع دیں گے… 🤣
اسلام آباد سے شام تک پھرتی لالچ ایک دوسری دہلی کی طرح ہے، اسی لالچی نے میری نان کی بیٹی کو بھی عالمی ریکارڈ بنانے کا موقع دیا ہوگا… 😊
اسلام آباد سے شام تک پھرتی لالچ ایک دوسری دہلی کی طرح ہے، اسی لالچی نے میری نان کی بیٹی کو بھی عالمی ریکارڈ بنانے کا موقع دیا ہوگا… 😊
اسلام آباد سے شام تک پھرتی لالچ ایک دوسری دہلی کی طرح ہے، اسی لالچی نے میری نان کی بیٹی کو بھی عالمی ریکارڈ بنانے کا موقع دیا ہوگا… 😊
اسلام آباد سے شام تک پھرتی لالچ ایک دوسری دہلی کی طرح ہے، اسی لالچی نے میری نان کی بیٹی کو بھی عالمی ریکارڈ بنانے کا موقع دیا ہوگا… 😊
اسلام آباد سے شام تک پھرتی لالچ ایک دوسری دہلی کی طرح ہے، اسی لالچی نے میری نان کی بیٹی کو بھی عالمی ریکارڈ بنانے کا موقع دیا ہوگا… 😊
اسلام آباد سے شام تک پھرتی لالچ ایک دوسری دہلی کی طرح ہے، اسی لالچی نے میری نان کی بیٹی کو بھی عالمی ریکارڈ بنانے کا موقع دیا ہوگا…
 
یہ بہت ایس کے لئے بد news hai 🤕 ان اعلان میں فلسطینی لوگوں کو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر خودمختاری دی جائے گی تو نا سچ? ان्हوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی بنیاد پر ایسا اعلان کیا ہے، اس سے کیا یقین رکھنا چاہئے؟ ایسا یقین رکھنا ہی بہت خطرناک ہے کہ پوری دنیا میں یہ دھارنا لگ گئے کہ فلسطینیوں کو خودمختاری دی جائے گی اور ان کی سرحدیں 1967 سے قبل کے ہونگی، ایسا تو ایک طاقت کی بیانیہ ہے نہیں؟
 
عصمت کرتے ہوئے اس خطاب سے پہلے ہی یہ محسوس کرنا ہی مुशکلات ہے کہ کیا فلسطینی لوگوں کی مدد کی جا سکتی ہے؟ انہیں فوری امداد ملے گا یا نہیں؟ اور اسرائیل کی افواج کو شام اور لبنان سے باہر رہنے کی اجازت دی جائے گی؟ یہ سارے सवال ہی ایک دوسرے کے جواب نہیں دیتے، مگر یہ بات واضح ہے کہ سیکورٹی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عملدرآمد کو ضروری قرار دیا گیا ہے اور فلسطینی ریاست کی قیام کو ناگزیر کیا جائے گا۔
 
عاصم افتخار کو کچھ لگتا ہے بھالڈیں پھونک کر دیتے ہوں، ایسا ہی کیا دیکھتے ہوں، فلسطینی لوگوں کی مدد سے متعلق بات چیت تو ٹلتی ہے لیکن کچھ کھانے کے باوجود ان کی قیادت کرنے والے کو اچھا ہال دیکھنا بھی نہیں تھا 😐
 
عاصم افتخار کے یہ کہنا کہ فلسطینی لوگوں کو فوری امداد اور مدد ملے، ایسا کیا جا سکتا ہے؟ پھر نا ہو سکتا ہے؟ غزہ میں جب انسانی طور پر تباہ ہونے والے فلسطینی لوگ رہتے ہیں تو کیا یہ کہنا کافی نہیں کہ انھیں اس وقت سے مدد ملے جس سے وہ پچتائے ہیں؟ اور اسرائیلی افواج کو شام اور لبنان سے باہر رہنے کی اجازت دی جائے گی، تو یہ کیا ایک حل نہیں ہوگا?
 
ایسا وہی دیکھ رہا ہوں، ایک بڑی بات اس عاصم افتخار کو فوری میڈیا میں پہچانا گیا ہوگا اور ابھی تو انھیں نئے مینسبن کے لئے پتہ نہیں چل رہا تھا اور اب وہ سبسCRIBرز کا حقدار ہونے جیسے تھکایا گیا ہوگا! ہم سب جانتے ہیں کہ عاصم افتخار کو نئے مینسبن کے لئے پہچانا گیا ہوگا اور ابھی تو انھیں یہی بات کرنا پڑ رہی ہوگى۔
 
اس عاصمی نے توجہ اس پر مرکوز کی جس شام میں ناکام ہوئی بلا ہوئی دوسری بار. انھوں نے کہا کہ فلسطینی لوگوں کو فوری امداد ملنی چاہئے اور انھیں اپنے رہائشی مقام پر واپس لانے کی اجازت دی جائے. اس بات سے کوئی Problem نہیں ہے کہ اسرائیلی افواج کو شام اور لبنان سے باہر رہنے دیا جائے. 🤔
 
یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کو مستقل اور طویل مدت کے لیے چلایا جائے گا تو یہ معاملہ آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔ فلسطینی لوگوں کی مدد کی جانے اور انھیں فوری امداد ملنے سے پہلے، یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اسرائیلی افواج کو شام اور لبنان سے باہر رہنے کی اجازت دی جائے گی تو اس معاملے میں بھی فیصلہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فلسطینی ریاست کی قیام کو ناگزیر کیا جائے گا، اس کے ساتھ اس کے دار الحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے گئے تو یہ معاملہ آسانی سے حل نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تیزاب ہوجاتا ہے اور اس میں اہمیت رکھنے والے لوگ بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں، یہ معاملہ ایسا حل ہو سکتا ہے جس کے لئے کتنے سال اور کتنے پیسے لگتے ہیں؟
 
عاصم افتخار نے اس وقت ایسے بات کھیلنا شروع کیا ہے جس کی وہ پہلے سے ٹھہرائی بھی نہیں ہو سکتی اور اب یہ کہیں نہیں گئی، سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کا ایسا مطلب ہے جس سے فلسطینی لوگوں کو خودمختاری ملا رہی ہے اور یہ بھی کہنا کہ فلسطینی ریاست کی قیام کو ناگزیر ہو گا، تو اس کے ساتھ اسرائیل کو بھی ایسا ہی معاملہ ہو جائے گا کہ وہ اپنے پرانے علاقوں پر اپنا کنٹرول نہیں رکھ سکے گا، یہ تو انکار قابل نہیں ہو سکتا،
 
اساعفٹaar 🤗 انھوں نے اچھی طرح سمجھایا ہے کہ شام میں صورتحال بہت تنگ ہے اور یہ ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کو عملدرآمد کرائے جائے، یہ سچ ہے کہ فلسطینی لوگوں کی مدد کی جائے اور انھیں فوری امداد ملے۔

عاصم افتخار یو این کونسل میں خطاب کرکے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کی ہے اور اس پر گہرا خیال ہے، نا تو انھوں نے شام اور لبنان میں اسرائیلی افواج کو بھی رکھنے سے پہلے یہ کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کی قیام کو ناگزیر کیا جائے گا، اس کے ساتھ اس کے دار الحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے گئے۔
 
عاصم افتخار کو شام میں تباہی کا شکار ہوا ہے، لگتا ہے وہ صرف غزہ کی سیرا پر چیلنج کر رہے ہیں، یہ بات صاف ہے کہ فلسطینی لوگوں کو امداد اور مدد ملنی چاہئے، لیکن اس سے قبل اسرائیلی افواج کو شام سے باہر رہنے کی اجازت دی جائے گی ؟ یہ بات تھی کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی واضحہ تر ترجیح ہے، لگتا ہے عاصم افتخار نے ایسا ہی کہنا ہو گا کہ انہیں یہ کہنا بھی کرنا چاہئے تاکہ کس بات کو یقینی بنائے؟
 
اس میڈیا کھیل میں انہیں کیسے کروایا جائے کہ لوگ ایسے مسائل پر بات کرتے ہوئے ٹویٹ کرنے لگتے ہیں جن سے اس کے بارے میں یہ جاننا چاہیے کہ وہ اسی ماحول میں رہتے ہیں؟ انہوں نے شام کی صورتحال پر بات کی، لیکن یہ بھی ہوا کہ فلسطینی ریاست کی قیام کو ناگزیر کیا جائے گا? یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے ٹویٹ کرنے والوں نے انکار نہیں کیا، لیکن یہ پتا لگاتا ہے کہ وہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے?
 
واپس
Top