امریکی امیگرنٹ ویزا معطلی کا فیصلہ عدالت میں چیلنج
ٹرمپ حکومت کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امریکی امیگرنٹ ویزا پابندی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر ہوا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ معطلی نہ صرف پاکستانی شہریوں کے لیے بلکہ محنت کشوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو بھی جبران دیتا ہے جو امریکہ میں اپنا نئا زندگی شروع کرنے کے لئے امیگرنٹ ویزا لینے کے حق سے محروم ہوئے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ پالیسی امریکی قومیت کی بنیاد پر غیرقانونی ویزا پابندی نافذ کر رہی ہے جو خاندانوں کو اکٹھا ہونے اور محنت کشوں کو قانونی طریقے سے امریکہ آنے کے حق سے محروم کررہی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ زیادہ تر امیگرنٹس کو کئی سال تک سرکاری امداد کے اہل نہیں ہوتے، کانگریس نے یہ واضع کیا ہے کہ قانونی سہولیات کے استعمال کو امیگریشن سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ ویزہ پالیسی امریکی معیشت میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے اور امیگرنٹس ٹیکس ادا کرتے ہیں، لہٰذا عدالت سے حکم جاری کرنا چاہئے۔
جی بھائی یہ پوری تھیں ایک بڑی ناکام پالیسی. ان لوگوں کو جب ان کے وطن سے بھاگنے کی اجازت دی گئی تو وہاں کو کیا چلنا ہے؟ اچھی گھریلو کس کی پوری کرے گا? یہ معطلی ان لوگوں کے لیے بھی نہیں بلکہ ان محنت کشوں کو جب وہ اپنے وطن چلے جائیں گے تو وہاں کس کی ضرورت ہے? ایسی پالیسیوں سے نکلنا چاہئیں تاکہ ان لوگوں کو اپنی زندگی شروع کرنے میں مدد مل سکے.
امریکیوں کی یہ پالیسی جو اس وقت شہرت پانے والی تھی کہ وہ پاکستان سمیت 75 ممالک سے ایسے لوگوں کو روک رہے ہیں جو ان کی جانب سے امیگریشن ویزا لینے جاتے ہیں، اب یہ ایسا ہوا کہ عدالت میں مقدمہ دائر ہو گیا ہے اور اس پر فیصلہ چلنا ہو گا۔ میرے خیال میں یہ معطلی ایسا لگتی ہے کہ وہ جو لوگ امریکہ کے لیے اپنے جسم، مندیری اور ذمہ داری کو قربت پہنچانے کے لئے آ رہے ہیں وہ اب اس سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ معطلی ایک ایسا جھگڑا ہے کہ اسی میں لوگوں کی زندگی بھی پوری طور پر متاثر ہوجاتی ہے، میرے خیال میں یہ معطلی ہر ایک کو متاثر کرے گی، تو انہیں کیا کیا کرو۔
امریکہ کی یہ ویزہ پالیسی تو بھی بہت اچھی نہیں ہوسکتی تو کیا ان میں سے کوئی امریکی معیشت میں مدد کرے گا؟ ایسے میں وہ تو اپنی معیشت کی بھی کچھ کامیابی نہیں دیکھیں گے۔
امریکہ کی یہ ویزہ پالیسی دوسری جنگ عظیم کے بعد لینڈنگ ٹیکس پابندی کی طرح ہوگی... پھر ان لوگوں پر بھی اس طرح کی چیلنج نہیں کی جاسکتا... اب تک یہ ویزہ معطلی کے بعد سے لگایا گیا تھا، اور اس سے ایسے لوگ بھی محروم ہوئے جنہوں نے اپنی زندگی شروع کرنے کے لئے ویزا لینا تھا... اب یہ معطلی ان سب کو جبران دیتی ہے جو بھی اس معطلی سے محروم ہوئے ہیں...
امریکہ کے اس فیصلے کی واضح بات یہ ہے کہ ان شہریوں کو جو پاکستان سمیت 75 ممالک سے آئے ہیں، وہ اپنے نئے زندگی کے لئے ایمگریشن ویزا چاہتے ہیں اور اس معطلی نہ دیا جاسکتا. یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ حکومت کی جانب سے یہ معطلی ان محنت کشوں کو جبران دیتی ہے جو اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے لئے ویزا پابندی کا شکار ہوئے ہیں.
بھول گئی ایسے دنوں کی بات کرنے والے میرے نہیں ہوتے، آج بھی لوگ پتھر کو پتھر سے بدلنا چاہتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ یہ معطلی انہیں پہلے سے ہی جسمانی طور پر اور جذباتی طور پر مریض کئے رکھتے ہیں اور اب یہ انہیں سیاسی طور پر بھی ایسا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماڈل امریکی معاشرے میں جس وہیں اہمیت رکھتے تھے، اب ان کا پچھواڑا ہے جب انہیں اپنے نئے زندگی کی شروعات کرنے کے لئے ویزہ پانے کو منع کیا گیا ہے، اور اس سے ان کی جان و جسم میں گھبراہٹ مچ گئی ہے۔
میری ناز تھی کہ اب لوگ بھول گئے ہوں، اب انہیں پتھر کو پتھر سے بدلنا چاہتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ یہ معطلی انہیں بھی جبتی نہیں دیتی ہے، لہٰذا ہمیں اس معطلی کو توڑنا چاہئے اور لوگوں کو اپنی زندگی شروع کرنے کی سازish کرنی چاہئے
اس ویزا معطلی کو یہاں تک لے جانا نہیں چاہیے کہ وہ امریکی معیشت میں محض ایک بھاری ٹیکس سے بھرا ہوا جہاز بن جائے… اس پالیسی کو بھالپنے والوں کا یہ اہل و عقل نہیں، ان کی سوچ میں ایک بار ویزا پابندی کے بعد کیا ہوتا…
امریکیوں نے یہ پالیسی اپنائی ہوئی تو اس کی سزا نہیں دی گئی کہ اِس کو ہم بھی نہ دیکھتے۔ امریکہ میں لوگ ایسی زندگی چاہتے ہیں جہاں وہ اپنی سولز کچل سکیں اور یوں پالیسی بنائی گئی ہے کہ یہ انھیں محض اس لئے نہیں دی جائے گی۔
امریکی حکومت کا یہ فیصلہ اِس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ امریکہ میں جو پورے دن کام کرتی ہیں، وہاں سے نکلنے کی ساتھ ساتھ ایک نئی زندگی شuru کرنے کی اُس کا حق بھی نہیں دیتی۔
یہی بات ہے جو پاکستانی امیگریٹ ویزا معطل کو لانے والوں کے ساتھ ہوئی، ان کی زندگی ایسی تھی جس سے وہ اپنے نئے رشتے بنانے اور اپنی ایک دوسری زندگی شروू کرنے کا موقع مل گئ۔