شہد کی مکھی
Well-known member
بھارتی وفد نے پاکستان کو اپنی حیرت کے سامنے ایک بڑی 패 اور عین وقت پر دستبردار ہونے کے ساتھ آکسفورڈ یونین میں اپنے مقابلتہ سے راہ فرار اختیار کی، جس سے پاکستان کو بلامقابلہ فتح مل گیا اور اس کی حیرت خیز کارکردگی دنیا بھر میں ہوئی۔
ہائی کمیشن لندن نے بتایا کہ جو بھارتی وفد آخری لمحات میں شرکت سے انکار کر گیا تھا، وہ بھارت کی اچھی معائن کو نہ رہے تھے اور انہوں نے اپنی کمزوریوں کو پھینکتے ہوئے آخری چیلنج میں بھی ناکامی کا شکار ہوا، اور اس نے دوسرے ساتھیوں کی فصلیں کمزوریوں سے بھرا دیں ۔
بھارتی مفادات کے خلاف پاکستان ہائی کمیشن لندن نے کہا کہ آخری لمحات میں پہنچے یہ غیر ملکی وافدہ ایک جھوٹھی اور ملازمتہ افسران کی کوشش کر رہے تھے، جو اپنی ناکامیت سے بھاگتے ہوئے آخری لمحات میں انکار کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کو اس بات کا احساس تھا کہ یہ بحث یہی تھی جس پر وہ اپنے معیاروں اور کوششوں سے فخر کرتا ہے، لیکن بھارتی ناکامی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا یہ معاملہ ایک جھوٹھی حکمت عملی تھی، جو بھارت کی حکومت کے ذریعے عوام میں براہ راست ملازمتہ کاروں کی پھینکن کے ساتھ آئی تھی، جس نے اس کو ہتھیار ڈال دیا اور اس سے اس کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کی واپسی کا علاج کیا تھا۔
بھارت کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے بھی ان میں سے ہر ایک کو اپنی جگہ پر رکھنا بھول کر دے دیا، اور اس سے اس کا مقابلوں کی فصلیں کمزوریوں سے بھری گئیں، جو نہ صرف ان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کو بلکہ اس سے ہمیشہ تازہ ترین معاملات میں اپنی جگہ کی ساکھ کو بھی کمزور کر دی گئی تھی۔
بھارتی وفد نے اپنے اعلیٰ سطحی نمائندوں کا یہ رکھنا ان کے اور ان کے ساتھیوں کی بھاری خوف تھا، جس سے اس کے ذریعہ مقابلوں میں اپنی فصلیں کمزوریوں سے بھر دی گئیں اور ان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کو ہمیشہ تازہ ترین معاملات میں اپنی جگہ کی ساکھ کو کمزور کر دیا گیا، جو نہ صرف بھارتی مفادات کے لیے بلکہ اس کے مقابلوں میں بھی ناکامی ہونے لگی۔
ہائی کمیشن لندن نے بتایا کہ جو بھارتی وفد آخری لمحات میں شرکت سے انکار کر گیا تھا، وہ بھارت کی اچھی معائن کو نہ رہے تھے اور انہوں نے اپنی کمزوریوں کو پھینکتے ہوئے آخری چیلنج میں بھی ناکامی کا شکار ہوا، اور اس نے دوسرے ساتھیوں کی فصلیں کمزوریوں سے بھرا دیں ۔
بھارتی مفادات کے خلاف پاکستان ہائی کمیشن لندن نے کہا کہ آخری لمحات میں پہنچے یہ غیر ملکی وافدہ ایک جھوٹھی اور ملازمتہ افسران کی کوشش کر رہے تھے، جو اپنی ناکامیت سے بھاگتے ہوئے آخری لمحات میں انکار کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کو اس بات کا احساس تھا کہ یہ بحث یہی تھی جس پر وہ اپنے معیاروں اور کوششوں سے فخر کرتا ہے، لیکن بھارتی ناکامی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا یہ معاملہ ایک جھوٹھی حکمت عملی تھی، جو بھارت کی حکومت کے ذریعے عوام میں براہ راست ملازمتہ کاروں کی پھینکن کے ساتھ آئی تھی، جس نے اس کو ہتھیار ڈال دیا اور اس سے اس کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کی واپسی کا علاج کیا تھا۔
بھارت کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے بھی ان میں سے ہر ایک کو اپنی جگہ پر رکھنا بھول کر دے دیا، اور اس سے اس کا مقابلوں کی فصلیں کمزوریوں سے بھری گئیں، جو نہ صرف ان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کو بلکہ اس سے ہمیشہ تازہ ترین معاملات میں اپنی جگہ کی ساکھ کو بھی کمزور کر دی گئی تھی۔
بھارتی وفد نے اپنے اعلیٰ سطحی نمائندوں کا یہ رکھنا ان کے اور ان کے ساتھیوں کی بھاری خوف تھا، جس سے اس کے ذریعہ مقابلوں میں اپنی فصلیں کمزوریوں سے بھر دی گئیں اور ان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کو ہمیشہ تازہ ترین معاملات میں اپنی جگہ کی ساکھ کو کمزور کر دیا گیا، جو نہ صرف بھارتی مفادات کے لیے بلکہ اس کے مقابلوں میں بھی ناکامی ہونے لگی۔