پاکستان کے تمام شہر خطرناک بحران کی زد میں… | Express News

ریچھ

Well-known member
پاکستان میں شہری بحران کا عارضی حل نہیں ہوسکے گا، یہ شہر ایسی طرح جس کے منصوبۂ بندی کی صلاحیت اور پیداواری پزیرگی نہیں ہو۔

اس وقت ان شہروں میں کہیں بھی ماحولیاتی آلودگی نہیں رہتی، کے برعکس یہاں جس میں سڑکیں ہوتی ہن وہ ہمیشہ سیر فیلڈ لگ کر آگھائی کی طرف کیں ہتے ہیں اور یہاں رشتی میں بھی کوئی آدھر پہنچتا نہیں، اس کے ساتھ ہی ٹریفک سے ذرا بھی کچھ نہ ہو۔

پاکستان میں ان شہروں پر ایسا لگتا ہے جیسے یہ اسے آور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پھر بھی ہم ان کے ساتھ رہتے چلے آئے، اس نہ ہی کہ شہروں میں ہونے والی ہجرت کی وجہ سے لوگ اپنے گاڑیاں اور موٹر سائیکل پر لیتے چلے آئے، نہ ہی وہ بچوں کے لیے بھی ان شہروں میں جاتے، حالانکہ ایسا محسوس کرنا ہی پورے ملک میں چیلنج کی فہرست میں اس سے بھی آگے آئی گا کہ ہم ان شہروں میں رہتے چلے آئیں تو ہمیں کیا ملتا ہے۔
 
اس شہری بحران کے عارضی حل کی گنجائش نہیں ہوسکتی، یہ ان شہروں کے لیے ہے جس میں سڑکیں اور ٹریفک کی بھی کوئی پیداواری پزیرگی نہیں ہو۔ ماحولیاتی آلودگی کا اس شہر میں کم نہیں رہتا، ٹریفک سے ذرا بھی وہاں سڑکیں لگ کر آگھائی کی طرف تھک جاتے ہیں اور رشتی میں کوئی نہیں پہنچتا۔ یہ شہر خود اپنے منصوبۂ بندی کے لیے کام کر رہا ہو جیسے وہ اسے آور کرنا چاہتا ہو، لیکن ہمیں یہی ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔
 
اس پہلی نومبر کی تاریخوں سے ہزاروں شہروں میں ماحولیاتی آلودگی کا معاملہ دھماکہ دے رہا ہے… آج بھی پوری دنیا کے انفرادی اور جماعتی اقدامات سے یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا۔

اس وقت جب بھارتی اور پاکستانی شہروں میں رشتی کی گنجائش کا معاملہ حل ہوا تو، ہمارے ملک میں یہ معاملہ ابھی بھی نہیں ہوا… ان شہروں جس میں سڑکیں کا تعین عمل میں ہو رہی ہن پہلے بھی اس معاملے پر کام نہیں کیا گیا، اور اب بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا۔

میں اس بات کو بھی سمجھتا ہوں گا کہ یہ شہر ایسی طرح بنائے گئے ہن جس کی منصوبۂ بندی کی صلاحیت اور پیداواری پزیرگی نہیں ہوں، اس لیے یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا…
 
یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے چیلنج ہے، آج کے شہروں میں ایسا لگتا ہے جیسے یہ ان کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن واضح طور پر یہ بھی ہے کہ یہ سارے ماحولیاتی آلودگی کے باعث نہیں ہو رہا، ٹریفک کے باعث یہاں کی زندگی گزاری بہت مشکل ہے۔
 
بھائی اس نئے شہری بحران کی بات سے بہت متاثر ہوں میں سمجھ نہیں رہا کہ یہ کس طرح حل ہوسکتا ہے؟ میں اپنی پہلی بیوی کی شادی کے دنوں میں ہم شہر میں رہتے تھے اور اب ہمیں شہر سے دور رہتے چلے آئے ہیں لاکھوں کی مہnga کا خاتمہ اور ایسے بچوں کو ان شہروں میں جانے نہیں دیتے جو اسے رہنے میں یقین رکھتے ہیں۔
 
😐 یوں ہی پھنسی ہوئی شہریں اور سڑکیں، یہاں لوگ ایسے ٹریفک کا شکار ہو رہے ہیں جو ان شہروں کو ہی بڑھاتا ہے تو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے ملک میں ایسا شہری بحران پیدا ہو گیا جس کا حل نہیں ہوسکے گا، کیونکہ یہ لوگ اپنی سڑکیں اور ٹریفک کو بھی ایسی طرح بڑھا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان شہروں میں ہونے والی بحرانی س्थितیاں اس کے چیلنجوں میں شامل ہوجائیں گی۔
 
عوام کو اس معاملے میں توجہ دیکھنا چاہیے، یہ شہروں سے ہٹنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہاں سڑکیں نہیں بنائی گئیں، ماحولیاتی آلودگی نہیں ہوئی ہمیشہ اس کی وجہ سے لوگ بھاگتے چلے گئے لیکن پھر یہی شہر ہی میں آ رہے ہیں، ایسا کیسے؟ #شہروں_کی_سست_سہولت #ماحولیاتی_آلودگی #حضرت_ہم_کے_صورت
 
اس بحران کو حل کرنے کی کوشش کرنے والوں سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ بھی ایک سیاسی حقیقت ہے کہ ان شہروں میں جس قدر ماحولیاتی آلودگی نہیں رہتی، وہاں کی معیشت کو بھی ایسے منصوبوں سے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے جو ان شہروں کے لیے ہی ڈیزائن کئے گئے ہیں اور جس کی پیداواری صلاحیت بھی وہی ہو۔

اب یہ ایک सवाल ہے کہ پاکستان میں ان شہروں کو کیسے ترقی دی جا سکتی ہے؟ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ پوری ملک نے اسے ترقی کے لیے ایک ساتھ آٹھا ہو کر مہیا کیا ہے، لیکن اب یہ بات بھی منہ گئی ہے کہ کیا ان شہروں میں رہنے والوں کو اپنی ترقی کے لیے اس کی ضرورت ہے؟
 
واپس
Top