پاکستان میں شہریوں کا حساس ڈیٹا چوری کی صورت حال، دہشت گردی اور انسداد انسداد سرگرمیوں کے ذریعے باہر ملک استعمال ہونے اور ڈارک ویب پر فروخت کی جاتی ہے، یہ بات سامنے آئی ہے۔ آج سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایسے شہریوں کے حوالے سے بھی کیا ہے جو اپنےPASSPORT اور شناختی کارڈز کو ان لین دین میں آئیں دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا دھائیوں تک رکھی جانے والی خصوصیت آگے بڑھتی ہے۔
داعش اور ڈیٹا چوری اور ایک نوجوان شہری نے اپنی ایم آئی ڈی کا تعلق یہ ہے جو سینیٹ میں اس بات کی تصدیق دیتی ہے۔
سینیٹر افنان اللہ نے بتایا کہ اس شہری نے اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو جعل کیا تھا اور جعل سازی کی ایک نوجوان بھی جھوٹے پاس پورٹ اور شناختی کارڈ استعمال کر کر ہوا تھا اور اس نے اپنے پاسپورٹ کو بھارت لے جانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
اس نوجوان نے جعل سازی کے لیے ایک دوسرے شہری کا PASSPORT اور شناختی کارڈ استعمال کیا ہے، ان سے پوچھتے ہوئے وہ بتایا کہ یہ شہری نے اپنے پاسپورٹ کو بھارت میں چوری کر لیا تھا۔ اس دوسرے شہری نے کہا کہ یہ نوجوان اپنی شان نہیں کرتا ہے، وہ سوشل میڈیا پر اپنے پاسپورٹ کو شیئر کر دیتا تھا جس کی وجہ سے ان کا دوسرا شہری اس بات پر اشارہ کر رہا تھا کہ یہ نوجوان ڈیٹا چوری میں ملوث ہوا ہے۔
اس گiriwaah ko sunna bhi aisa hi hai jese duniya kyun nahi jaani?
yaar, yeh bat sakte hain ki Pakistan mein data cheori ek badi samasya hai. Lekin iski kuch bhi paheli nahin hai. Duniya bhar ke logon ko lagta hai ki Pakistan ka passport aur e-Visa system alag se hi tha.
sahi baat yeh hai ki koi bhi shahri apna passport aur identity card zehne mein aana chahta hai. Ye to sahi mehsoos hota hai, lekin iski jaadui cheezon ko lete hain toh yeh samajh nahi aa raha.
yaar, yeh bhi kuch achha hai ki sainik komitee ne bataya hai ki woh logon ka data zehnana ek big mudda hai. Lekin iske liye bhi saamne duniya ka koi tareeka nahi hai.
aur yeh galat hai kaha jaa raha hai ki data cheori ko desh se bahar istemaal kiya ja raha hai. Yeh to samajhna hi zaroori hai, lekin iske liye humein apni samasyaon ka samna karna padega.
yaar, data cheori ek big mudda hai aur iska samadhan nahi milega jab tak hum apni samasyaon ko sahi tareeke se na kheenchenge.
یہ تو بہت ہیproblem ہے ان لوگوں پر مملکت بنائی جا رہی ہے، کھوتے چولے ہوئے اور سوشل میڈیا پر آپنا پاسپورٹ بھی دکھا کر ملازمت کروائے جو کہ بہت کھोटا ہے اس کی نتیجے میں لوگ ایسے دوسرے لوگوں کا پاسپورٹ استعمال کرن لگ پڈتے ہیں اور ان پر زور دیا جاتا ہے یہ بھی تو سوشل میڈیا کی وجہ سے ہو رہی ہے کہ لوگ اپنا پاسپورٹ بھی دکھانا شروع کر دیتے ہیں اور پھر دوسروں پر مملکت بنانے کی کوشش کرتے ہیں
عجب کی بات یہ ہے کہ دوسرے لوگ ان شہریوں کو جھوٹے پاس پورٹ اور شناختی کارڈ استعمال کرنے کا شکار کرتے ہیں اور پھر انہیں بھی ایسا ہی دیکھنا پڑتا ہے، یہ تو کیا ہوا گئا ہے۔ اور اب یہ بات سینیٹ میں آئی ہے کہ جب تک آپ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو لین دین میں دیتے رہتے ہیں تو اس کی خصوصیت پھیلتی جاتی ہے، یہ بہت گرانے کا ہار ہے۔
یہ ایک بڑا خطرہ ہے، یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ شہری اپنے PASSPORT اور شناختی کارڈز کو لین لین کر دیتے ہیں، یہ سچ ہو سکتا ہے کہ ان کی خصوصیت دھائیوں تک نہیں رہتی اور وہ اس بات کو غلطی سے سمجھتے ہیں، لیکن یہ بات بھی محسوس ہوتی ہے کہ داعش اور ڈیٹا چوری کی صورت حال میں ان کا تعلق ہو سکتا ہے، نوجوان شہری کو اپنی ایم آئی ڈی کی جگہ سینیٹ میں بات کرتی ہے تو یہ بات پتہ چلتی ہے کہ اس نے اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو جعل کیا تھا، یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ نوجوان شہری دوسرے کی جھوٹی پاسپورٹ استعمال کر کر رہا تھا اور اس کا یہ بھی کام اچھا نہیں لگتا کہ وہ اپنے شان کو توازن دیتا ہو، سوشل میڈیا پر اس کے پاسپورٹ کو شیئر کرنا بھی ایک خطرناک بات ہے، یہ بات بھی محسوس ہوتی ہے کہ داعش اور ڈیٹا چوری کی صورت حال میں اس نوجوان شہری کی جگہ سینیٹ میں بات کرتی ہے تو یہ بات پتہ چلتی ہے کہ وہ ڈیٹا چوری اور داعش میں ملوث ہوا ہے، یہ سب ایک گھناسے بھرا معاملہ ہے جو اس وقت تک ہمیں خطرہ بن رہا ہے جتنی دیر اس کو سمجھنا نہیں آئے
ابھی تو ہم سمجھتے ہیں کہ ڈیٹا چوری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ لوگ جو اس پر ملوث ہوتے ہیں ان کی شان نہیں کرتے، ابھی تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان لوگوں میں سے ایک نوجوان نے اپنی ایم آئی ڈی کو دوسرے شہری کا استعمال کر رکھا، یہ تو بہت بڑا جھٹکا ہے اور یہ اس بات پر اشارہ کر رہا تھا کہ اس نوجوان کو ڈیٹا چوری میں ملوث ہونے کے لیے دوسرے لوگوں کی جھلکیوں میں ڈوبنا پڑا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ ڈیٹا چوری اور جھوٹا پاس پورٹ ہمیں ہمیشہ ایک نوجوان کی شان کو نقصان पहونچاتی ہیں
اس دuniya mein data cheori ki situation to bahut bura hai, lekin humein lagbhag hona chahiye. Pakistan mein data cheori ka problem theek se nahin hai, aur yeh bilkul bhi na hai ki yahaan ke shahron mein dastardar garde ki ghatna hoti rehti hai, jo data ko cheor karte hain aur phir bazaar mein bheta jate hain.
Lekin agar hum sach mein sochen to yeh bat samajh aati hai ki Pakistan mein data cheori ka problem theek se nahin hai. Seneater afnan Allah ne bataya hai ki ek naye shahre ke ek youth nakaadat ya tha jo apne passport aur id card ko jhalak kar raha tha, aur vah bhi bade darr se karta tha.
Yeh batakaan to sach-muchh hai. Lekin humein lagbhag hona chahiye ki yeh problem theek se nahin hai. Yeh shayad hamen sikhata hai ki humein apni data ko surakshit rakhna chahiye aur kisi bhi tarah ke data cheor ko rokna chahiye.
Toh hamari madad karta hai agar hum sach mein sochen aur data ko surakshit rakhen.
علاوہ سے یہ بات دیکھتے ہوئے کہ کس طرح پابندیاں نہیں رکھ رہی ہیں ان شخصیات پر دباو ہونا چاہیے۔ اگر انہوں نے اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کا جعل کر لیا تو وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی یہ کوشش ہمیشہ کوئی دیکھ لیتا۔ اب ایسے لوگوں پر پابندیاں لگائی جائیں جو اپنی معلوماتوں کو باہر نہیں رکھتے۔
اس وقت کچھ لوگ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو لین دین میں آئیں دیتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت فائدہ مند ہوتا ہے، لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ کس کی جانب سے آئیے؟ دوسری طرف یہ بات بھی آج سامنے آئی ہے کہ ڈیٹا چوری نے ایک نوجوان شہری کو جلاوطن کر دیا ہے، اور یہ سچ ہے کہ دوسرے لوگ اس کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈوں کو استعمال کر رہے ہیں۔
چلیسے ہو گیا ہے اور مجھے یہ بات کھیلنے پر آتी ہے کہ آج کی دہشت گردی سے نمٹنے والی قائمہ کمیٹی میں بھی کس طرح ملازمت پر آئیں دیتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب وہی ڈریا ہے جو ہم نے پچیس کی دو دہائیوں میں اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز کو جعل کر لیا تھا؟
اس کی بات تو بہت اچھی ہے کہ ایسے لوگ کو اپنی دھائیوں تک رکھی جانے والی خصوصیت سے باز آنا پڑتا ہے… ایسے میں وہ ڈارک ویب پر اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو فروخت کر کے دوسروں کا استعمال کر رہے ہیں، یہ بھی بہت problematic ہے…
اس بات کی واضح نہیں ہے کہ ایسے لین دین ان لین دیتے ہیں یا کہ ان میں جھوٹ بھرا پاس پورٹ اور شناختی کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ کیا ان کو پہلے سے خود پر چوری کی بات آئی ہوگی یا اس لیے وہ اپنے پاس پورٹ اور شناختی کارڈز کو بھی جعل کر لیتے ہیں؟ یہ تو ایک دوسرے سے جھوٹا پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے کیسے کافی محسوس ہوا?
اس کی بات تو اچھی ہے کہ سینیٹ نے ایسے شہروں کی بھی وکالت کی ہے جہاں لوگ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو لین لین میں آئے دیتے ہیں۔ مگر یہ بات ایک دوسرے شہری پر بھار پڑتی ہے جو اس سے مل کر جھوٹا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ استعمال کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا چوری کے لیے ایک نوجوان شہری ہوا تھا جو اپنی ایم آئی ڈی کی وجہ سے سینیٹ میں تصدیق پاتی ہے۔
اس کا کوئی بھی کام نہیں، اس نے اپنے پاسپورٹ کو جعل کیا تھا اور دوسرے شہری کا بھی استعمال کیا ہوگا، یہ تو کہلا رہا ہے کہ اس نے اپنے پاسپورٹ کو بھارت لے جانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
اس دوسرے شہری کو یہ بتایا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ چوری کر لیا ہوگا اور وہ ان سے پوچھتے ہوئے بھی کہنے لگے کہ یہ نوجوان اپنی شان نہیں کرتا ہے، اس نے اپنے پاسپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا ہوگا اور دوسرے شہری اس بات پر اشارہ کر رہے تھے کہ یہ نوجوان ڈیٹا چوری میں ملوث ہوا ہوگا۔
ایسا ہونے کا کبھی بھی انٹرنیٹ پر کوئی نہ کوئی شہری شہدت دیکھتا ہے، لیکن اس بات سے کوئی نہ کوئی شہری متاثر ہوتا ہے جس میں اپنی ڈیٹا چوری کی صورت حال سامنے آتی ہے اور دہشت گردی کے ذریعے نچلے ممالک میں استعمال کیا جا رہا ہے
جس نوجوان کی ایم آئی ڈی نے اس بات کی تصدیق کی ہے وہ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو جھوٹے طریقے سے جعل کیا تھا اور اب اس کی دھائیوں تک خصوصیت آگے بڑھ رہی ہے، یہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جو لوگ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو جھوٹے طریقے سے جعل کرتے ہیں وہ اچھے نتیجے پر پھنس جائیں
ایسے کیساتوں کی پہلی بار سنی ہے، دوسرے شہری نے اس نوجوان کو ڈیٹا چوری میں شامل ہونے پر اشارہ کر دیا اور میری یہ بات تھی کہ جب بھی شہری اپنی شناختی کارڈز کو لین لین میں دیتا ہے تو یہ ان کی خصوصیتوں کو ایک سے زیادہ کم کرنے کا کام کرتا ہے، مگر اس نوجوان نے اپنا پاسپورٹ بھی جعل کیا اور دوسرے شہری سے اس کا استعمال کیا اور اب یہ بات سامنے آئی کہ وہ ڈیٹا چوری میں شامل ہوا ہے، میرے خیال میں ان تمام شہروں میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا جو اس جملے کے تحت کام نہیں کر پائے گا
اچھا تو اچھا، یہ بات بہت زیادہ سڑک پر چل رہی ہے کہ لوگ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز کو جعل کر کے نئے پاس پورٹ لینا شروع کر دیتے ہیں... یہ سارے لوگ ڈیٹا چوری میں ملوث ہو رہے ہیں اور نئے پاسپورٹ لینے کے لیے ایسا کر رہے ہیں جیسا کہ انھیں پہلے سے کیا نہیں ہو سکتا...
یہ بات بہت دوبارہ آ گئی ہے کہ شہریوں کا حساس ڈیٹا چوری کی صورت حال جو پورے ملک میں جاری ہے وہ حوالہ دیتا ہے کہ اس نظام سے زیادہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا۔ یہ بات بھی تو چالیس سال قبل آئی تھی اور اب بھی پتہ نہیں چلا کہ اس صورت حال کو کیسے حل کیا جائے گا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی نظام میں ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو اس ناقصیت کو لازمی طور پر پورا کرتے ہیں۔
جب تک آپ کو یہ بات پتہ نہیں آئی کہ لوگ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز کو جعل کر رہے ہیں تو ہر چیز ایک فیک ہے۔ یہ نوجوان شہری جو سینیٹ میں بات کرتا ہے، وہ اپنی معلومات کو بھارت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے دوسرے شہروں کے لوگوں سے اس کے پاسپورٹ استعمال کیا ہے۔ لیکن یہ بات کوئی نہیں سمجھ رہا ہے کہ جب آپ اپنی معلومات کو جعل کر دیں تو وہ بھی ڈیٹا چوری میں شامل ہو جائیں گے؟
اس دوسرے شہری کی گalt نہیں بھولنی چاہئے اور اس کے ساتھ سینیٹ کو اپنی ذمہ داری کا احاطہ کرنا چاہئے۔ یہ بات کہتے ہوئے کہ وہ نوجوان شہری ڈیٹا چوری میں ملوث ہوا ہے، اس بات کو بھی دیکھنے کی zarurat ہے کہ وہ لوگ اپنی سوشل میڈیا پر اپنا پاسپورٹ کیسے شیئر کرتے ہیں اور ان کو اس کے نتیجے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسا بات سامنے آئی ہے کہ ان لین دین میں پاسپورٹ اور شناختی کارڈ استعمال کرکے شہریوں کی خصوصیت کو دھائیوں تک رکھا جا سکتا ہے۔ اس پر پوری توجہ نہیں دی گئی، لاکھوں پیسے اور وقت کا یہ زریعہ بھی بھرپور طور پر کام کر رہا ہے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جیل میں بھی کہیں سے لینے کی ایسی پالیسی نہیں ہونی چاہئیے۔