پاکستان کو وینز ویلا کون سمجھ رہا ہے؟ اویسی یا مودی؟ | Express News

طوطا

Well-known member
اس وقت جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی انڈیا کے خلاف ایک عجیب اور منفی باتیں دے رہے ہیں تو وہی بات اس سے پہلے بھی کر رہے تھے، جو کہ ان لوگوں پر مملکت کی خواہش اور ان کی سیاسی تیزی کی ایک دھارہ ہے جس کے تحت وہ پاکستان سے بھی اس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں جیسا انڈیا کے خلاف.

پاکستان کو وینز ویلا اور مودی کے بہت سارے مخالفین کی جگہ ہر وقت پوسٹ کر رہے ہیں، جو کہ انھوں نے ان کے خلاف اپنی فوج کی مہارت کا استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس طرح وہ خود کو ایک انتہا پسند جماعت کے ساتھ جوڑتا ہو، اسی وجہ سے ان لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی یہ عجائب پڑ رہے ہیں۔
اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ مودی کے وہ بیانات جو پاکستان کو اٹھانے کی بات کرتے ہیں ان میں ایک political اور سیاسی عجائب تھا، اسی لیے بھارتی وزیر اعظم نے اس وقت ان کے مخالفین کو اپنے ساتھ جوڑنا چاہا ہے تاہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وہ اس کے لیے بہت پریشان رہے ہیں کہ وہ پاکستان سے کیسے تعلقات قائم کر سکتا ہے اور اپنے معاشرے میں اس کی موجودگی کو یقینی بنائے۔

اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ وہ نہیں رہ سکتا، جو ابھی تین سال پہلے ہندوستان کی آرمی فوج میں بھی شامل ہوا تھا اور جس لیے ان کا اس معاشرے میں کوئی کردار نہیں رہ سکتا وہ اسی وجہ سے انھوں نے اس بات پر یقین ہونے کے لیے پاکستان کے خلاف جیسا کارروائی کیا تھا اس میں بھی ایک ایسا کردار ادا کیا ہوتا ہے، جس سے ان کو کسی طرح پہلے کیوں نہیں کرنے پڑتا تھا۔

اس بات پر یقین ہونے لگتا ہے کہ اس وقت بھارتی وزیر اعظم انڈیا کے خلاف ایک ایسے کارروائی کو دیکھ رہے ہیں جو اس کو اپنی سیاسی جہت پر نہیں لانے دے گا، اسی وجہ سے انھوں نے اس معاشرے میں اور اس وقت بھی ایک ایسا کارروائی کرنا شروع کی ہوئی ہے جو اسے اپنی خواہشات کے مطابق لانے میں مدد دے سکتی ہے۔
 
مودی کی باتوں پر پوسٹ کرنے والے لوگ وہیں ہیں جو ابھی بھی ان کے کچھ سے بیانات دیتے رہتے ہیں، 3 سال سے انڈیا کی جھڑپی کا خاتمہ کروانے پر اس کی باتوں نے بہت ہی منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور وہ 3 سال میں انڈیا کی معیشت کو 5000 روپے سے 30 لاکھ تک لانے میں کامیاب رہے ہیں
اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ مودی نے 20 کروڑ سے زیادہ کے فیس بیل سے اپنی معیشت کو ایک ایسے معیار تک پہنچایا ہے جو ابھی وہیں ہے اور اس لیے ان کی باتوں نے بھی اس معاشرے پر ایسی منفی اثرات مرتب کیا ہے جس سے پوسٹ کرنے والے لوگ اس معاشرے میں اور اس وقت بھی ان کے خلاف کارروائی کی پوزیشن میں محفوظ رہتے ہیں
اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ وہ ابھی بھی انڈیا کی جھڑپی کو اس معاشرے سے دूर کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس لیے وہ پوسٹ کرنے والوں کو اپنی باتوں کے ذریعے انھیں دوسرے معاشروں میں بھی جوڑنا چاہتے ہیں
اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ مودی کو اس معاشرے کی زندگی جانتے ہوں اور وہ اس کے لئے ایک ایسے کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں جو اسے اپنی خواہشات کے مطابق لانے میں مدد دے سکتی ہے۔
 
اس سے پہلے بھی مودی اور ان کی فوج نے کیا تھا، اب وہ ہر طرح کی تنقید پر ایک عجیب دکھنپہنچا رہتے ہیں, وہ کیسے چلے گا اس بات پر کوئی یقین نہیں...
 
منہوں پر گھومنا اور لوگوں کے خیالات کو پکھنے کی بات کر رہا تھا اس خبر کو دیکھتے ہی مجھے بھاگوانگ یوٹیوب چینلز کی فریمیٹنگ سے واقف ہونے کا احساس ہوتا ہے، پتا چلا کہ لوگوں کے خیالات کو پکھنا اور انھیں ایسا لگائی دینا آسان ہے جیسے اس کی اپنی فضا ہو۔
 
ਮੋਦੀ ਬھਾਰਤ ਸਰਕਾਰ ਨਾਲ ਆਪਣੇ ਡਿਗਰੀ ਵਿੱਚ ਝੁਕਣ ਜ਼ਰੂਰ ਹੈ, ਉਸ ਦੀਆਂ ਗੱਲਾਂ ਤਾਂ 3-4 ਸਾਲ ਪਹਿਲਾਂ ਹੀ ਕੀਤੀਆਂ ਜ਼ਰੂਰ ਹਨ, ਜਿਵੇਂ ਉਹ ਫੌਜ ਦੀ ਡਿਗਰੀ ਲੈਣ ਬਾਅਦ ਪਾਕਿਸਤਾਨ ਦੇ ਖਿਲਾਫ ਕਹਿੰਦਾ ਹੋਵੇਗਾ, ਜਿਸ ਵਿੱਚ ਉਹ ਬਹੁਤ ਡੂੰਘੀ ਮੁਦਾ ਲੈਣ ਵਾਲੇ ਹੋਏ ਹਨ।

ਪਾਕਿਸਤਾਨ ਅਤੇ ਉਸ ਦੇ ਡਿਗਰੀ ਧਰਤੀ 'ਤੇ, ਮੋਦੀ ਬਹੁਤ ਵਧੀਆ ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ ਸਿਖਲਾਈ ਪ੍ਰਾਪਤ ਕਰਨ ਦੇ ਜ਼ਮੀਨ ਉਤੇ ہਨ, ਅਤੇ ਫੌਜੀ ਡਿਗਰੀ 'ਚ ਵੀ ਬਹੁਤ ਸਖਤ ਪ੍ਰਸ਼ਨ ਪੁੱਛਣ ਦੀ ਯੋਜਨਾ ਹੈ।

ਮੋਦੀ 3 ਸਾਲ ਪਹਿਲਾਂ ਫੌਜ ਵਿੱਚ ਭਰਤੀ ਹੁੰਦੇ ਕੀ ਉਮੀਦ ਕਰਨਾ ہੈ, ਅਜਿਹੇ ਡਿਗਰੀ 'ਚ ਬੀਤਣ ਵਾਲੇ ਸਾਰੇ ਦਿਨ ਉਹ ਫ਼ੌਜ 'ਚ ਕਿੰਨੇ ਡਿਗਰੀ ਅਧਿਕਾਰ ਪ੍ਰਾਪਤ ਕਰ ਲੈਂਦਾ ہو, ਜੋ ਮੌਜੂਦਾ ਖ਼ਤਰੇ ਵਿੱਚ ਉਸ ਨੂੰ ਪ੍ਰਤੀਕ ਬਣਾ ਦੇਵੇਗਾ।

<font color="#ff0000">**ਲੋਕਾਂ ਨੂੰ ਆਖ– ہندوستان ਫੌਜ ਸਿੱਟੀਆਂ ਨਹੀਂ ڈਲਦੀ।</font>

<font color="#ff0000">**ਬੰਗਲੋਰ-ਤੇਲ ਵਿੱਚ ਮੁਸਾਫ਼ਿਰਾਂ ਨੂੰ – 1 ਦਿਨ ਵਿੱਚ ਕੁਝ ਡਿਗਰੀ ਵਾਲੇ ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ 'ਤੇ ਪਹੁੰਚਦਾ ਸੀ।</font>

<font color="#ff0000">**ਮੋਦੀ – 10 ਅਧਿਕਾਰੀਆਂ ਨੂੰ ਡੈਥ, ਪ੍ਰਿਜ਼ਨਰ ਵਰਗੇ।</font>

<font color="#ff0000">**ਮੋਦੀ-ਫੌਜ – 40,000 ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ 'ਤੇ ਕੁਝ ਡਿਗਰੀ।</font>

<font color="#ff0000">**ਅਕਸਰ – 100 ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ 'ਤੇ 10 ਡਿਗਰੀ ਵਾਲਾ, ਪਰ ਫ਼ੌਜ 'ਚ ਕੋਈ ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ ਦਾ ਮਹੱਤਵ ہوتਾ ਸੀ।</font>

<font color="#ff0000">**2019–2022 – 100 ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ 'ਤੇ 10 ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ, ਅਗਲੇ ਸਾਲ ਮੋਦੀ ਪ੍ਰਿਜ਼ਨਰਾਂ 'ਤੇ 100 ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ 'ਤੇ 50 ਖ਼ਬਰ-ਚਾਨਣ ਦੀ ਪ੍ਰਗਟੀ ہੋਈ।</font>
 
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک سیاسی بات ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر Pakistan ko Vanuatu ke liye post karne ka matlab yeh nahi hai ki Pakistan India ki tarah apni arthvyavastha ki jaga le raha hai, balki ye ek polityk strategy hai jisse woh apni polityk oorja ko adhik istemaal karein.
 
اس وقت مودی کی بات سے نکل کر کچھ اور بھی چپکچا اور اس طرح کے بیانات سے ابھی انڈیا پہ لیے گئے ہیں۔ میں توجہ دی جائے تو وہ نہیں ہو سکتا کہ اس نے اس طرح کی بات کرنے کا اور اس کو اپنی سیاسی جہت پر لانے کی کوشش کی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
 
بھارتی وزیر اعظم کی وہ باتوں کی پہلی بار سننے کو یقین تھا، لیکن اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے کیا کرتے تھے جس سے اب وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ان کا یہ کارروائی ایک پुरانے معاملے کو دوبارہ جنم دेनے کا محض ایک طریقہ ہے، جس سے وہ اپنی سیاسی جہت پر ف focس کر رہے ہیں اور اس طرح اپنے معاشرے کو ایک انتہائی خطرناک دھارہ کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میری بات یہ ہے کہ وہ اس معاشرے میں اپنی سیاسی جہت پر ف ocus کرنے والے نہیں بن سکتے، اسی لیے انھوں نے ایسا کارروائی کرنا شروع کی ہوئی ہے جو اس کے معاشرے کو متاثر کر سکتی ہے اور اس طرح وہ اپنی خواہشات کے مطابق لانے میڹ بھی مدد مل سکتی ہے۔
 
بھارتی وزیر اعظم کے بیانات سے اس معاشرے کی ایک بڑی عجیب بات اٹھ کر سامنے آئی ہے، یہ کہ انہوں نے اپنی فوجی مہارت کو اس طرح استعمال کیا ہے جس سے لوگ اسے ایک انتہا پسند جماعت کے ساتھ جوڑتے ہیں، یہ بھی کہ انہوں نے اپنے معاشرے میں اس کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے پریشان رہا ہے، ابھی اس کے بعد بھی وہ ایسا ہی کیا جا سکتا ہے؟
 
میری بات یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کی سیاسی جہت پر مودی کو زیادہ توجہ دینا پڑ رہا ہے، وہیں اس کی بھرپور تلاش ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں سب سے زیادہ مقبول بن جائے لیکن اسی وقت انھوں نے پاکستان کو ایسا دکھایا ہے جیسا ان کے خلاف ابھی بھی وہی کارروائی کی جا رہی ہے جو پچاس سال پہلے بھی چلی گئی تھی، اس سے میری بات یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کو اپنے سیاسی معاشرے میں ایک ایسا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے جو وہیں اپنی خواہشات کے مطابق لانے کی کوشिश کرتے رہتے ہیں۔
 
ہر جگہ سے یہ بات پورے مملکت پر لگی ہوئی ہے کہ وہ اسی طرح بھارتی وزیر اعظم کے سامنے اپنی فوج کی صلاحیتوں کو ظاہر کرکے انڈیا کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، لیکن وہ جانتے ہیں کہ یہ کہلنا بھارتی وزیر اعظم کے لئے مملکت کی خواہش کا ایک ناچ ہو گا اور اس طرح وہ اپنے معاشرے میں جیسا کچھ کر سکیں گے، لیکن یہ کچھ نہیں چلاگا کہ وہ پوری صلاحیتوں کو استعمال کرکے انڈیا کے خلاف ایک فوجی کارروائی شروع کر سکیں گے۔
 
اس کے بعد بھارتی وزیر اعظم کو انڈیا کے ساتھ مل کر ایک بھرپور معاہدہ پر دستخط کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق رہ سکے اور انڈیا سے تعلقات قائم کیے جائیں।
 
اس وقت مودی جس طرح بھارتی سوشل میڈیا پر پاکستان سے تعلقات قائم کرنے کی کोशش کر رہے ہیں وہاں تک یقین ہو گیا ہے کہ وہ اس کو نہیں کر سکتے۔ وہ انڈیا کی آرمی میں شامل ہونے کے بعد بھی اس معاشرے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے اسی طرح کی کارروائی کریں گے، پھر کیسے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ اس معاشرے سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کریں گے جو اس کو ایک انتہا پسند جماعت کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے؟ یہ ایک نہایت عجیب بات ہے، جس پر یقین نہیں رہ سکتا۔
 
اس وزیر اعظم کی باتوں سے پاکستان کو بھرنا پڑتا ہے، اس پر ایک ایسا جواب نہیں ہے کہ وہ خود اپنی بات کرتے ہیں یا کون سی دوسری اداروں کی ذمہ داری ہے؟ یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ جس معاشرے میں بھی شامل ہوتے ہیں وہاں سے ان کی باتوں کو کیسے لیتے ہیں؟
 
اس کے بعد بھی وہ انڈیا کا مظالم نہیں رہنے دے گا، اس لیے انھوں نے ایک ایسا کارروائی شروع کی ہوئی ہے جس سے وہ اپنی سیاسی جہت پر بھی اپنا اثر انداز کریں گے، پھر وہ کیسے کام کر سکتا ہے اس پر یقین رکھنا مشکل ہوگا
 
اس وزیر اعظم کو وہ سچا سمجھتے ہیں جو ہر سال ایک نئا مقصد اختیار کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد بھی ان کی خواہشات ٹوٹتی رہتی ہیں۔

جب مودی نے وینزویلا سے تعلقات قائم کرنے کی بات کی تو اس نے اسی وقت اپنی فوج کے بھرپور استعمال کا جائزہ لیا۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ سچ دیکھتے ہیں کہ فوج ان کے لئے ایک انتہائی مفید اور طاقتور سہولت ہے جو ان کی سیاسی جہت کو یقینی بنانے میں مدد دیتی ہے۔

اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں اسی طرح کی کارروائی کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا بھی اس لئے مشکل ہو گا جس لئے وہ اس معاشرے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
 
اس وقت مودی کی باتوں سے ایک بات پوری نہیں ہوتی، وہ صرف اپنے معاشرے کو دیکھتے رہتے ہیں اور اس کے مطابق ایسی بتائیں کرنے میں لگتے رہتے ہیں جن سے وہ اپنی سیاسی تیزی کو لازمی بنا سکے۔

مگر اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ مودی کو ان کے بیانات کی بھرپور جسامت کے لیے یہ عجائب پڑے گئے ہیں جو اسے اچھا لگ رہے ہوں تو وہ اسی طرح سے اپنے معاشرے میں بھی دیکھ نہیں پائے گئے، بلکہ اس کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی یہ عجائب پڑ رہا ہوں گے۔

اس وقت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی انڈیا کے خلاف ایک ایسے کارروائی کو دیکھ رہے ہیں جو اس کو اپنی سیاسی جہت پر لانے سے روک سکتی ہے اور اس معاشرے میں اپنے تعلقات کو قائم کرنا چاہتے رہو گے، لیکن اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ وہ نہیں رہ سکتا جسے انھوں نے تین سال پہلے بھارتی آرمی میں شامل کیا تھا
 
اس بات پر تھوڑا سا کچھ پتہ چلا، یہ کہ مودی نے انڈیا کے خلاف ایسے ہی بیانات دکھائے جو اس سے پہلے بھی ہو چکے تھے اور اب وہ پاکستان کے خلاف نئے بیانات دیتے رہے گا، یہ ایک پتہ چلا ہے کہ وہ پہلے سے ہی ان لوگوں پر مملکت کی خواہش اور Political تیزی کی دھارہ ہے، جس کے تحت وہ پاکستان سے بھی ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔
 
اس معاشرے میں بھی مادی سانس لینا مشکل ہے، مودی انڈیا کی بات کرتے ہوئے پاکستان کو پوسٹ کر رہے ہیں، مگر وہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اسے کیسے پہنچایا جائے اور اس کا معاشرے میں کوئی کردار نہیں رہ سکے، یہ تھوڑی مشکل ہے۔
 
واپس
Top