ایودھیا عصمت دری معاملہ: بیکری پر بلڈوزر حکومت نے چلایا، عدالت نے ملزم معید خان کو بری کر دیا

پروفیسر

Well-known member
ایودھیا میں حادثے کا ایسا ماحول بن گیا تھا جیسے شہر اپنے پچھلے اپنی خودی کی واپسی کی ہو۔ ایک روز بیکری چلا گئی اور اس کے ساتھ ہی ملزم معید خان کو عدالت نے بری کر دیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ حقیقی معذور کے طور پر محکوم نہیں تھا بلکہ اچھے سیاسی منصوبوں کی قیمتی پیداوار تھا۔

جنرل سرکار نے بیکری کو ایک جادو کی طاقت سے دھونے کے طور پر پیش کیا، جس کے بعد معید خان کو ملزم قرار دینے والی عدالت کا فیصلہ ہوا، جس نے اس کے خلاف شہرت منوانے کی کوشش کی اور اسے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک رائے پرتیت گروہ کی سربراہی کرتا ہے جو جاتھی ہو کر برہمنوں، دلوں اور کمزور طبقوں کے خلاف سازش میں پھنسا ہوا تھا۔

ایودھیا کے اس معاملے نے بے پناہ شہرت حاصل کی اور یہ بات واضح ہو گئی کہ جنرل سرکار کے ساتھ سماج وادی پارٹی اور ان کے حامیوں کے درمیان بہت زیادہ تنقید اور جدوجہد ہوئی تھی۔ جس سے یہ بات پورے ملک میں سامنے آئی کہ کس طرح جنرل سرکار نے سماج وادی پارٹی کو بدنام کیا اور ان کے خلاف بھارتیہ جنتا парٹی کی رائے پرتیت گروہ کو اپنی سیاسی چالوں میں استعمال کیا تھا۔
 
😐 ایودھیا کا معاملہ تو ہلچل بھی دلاتا ہے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جس معذور کی واپسی سے لڑنے والے نے بکری چلائی تو اسے دھونا ضروری تھا۔ اب جب عدالت نے اسے بری کر دیا ہے تو یہ معاملہ ملازمت سے گزرتا ہے لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ جنرل سرکار نے اس معاملے کو ایک جادو کی طاقت سے دھونا، اس میں انھیں ہمیشہ سے واضح تھا اور اب یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ اس معاملے نے سماج وادی پارٹی اور ان کے حامیوں کے درمیان بڑی جدوجہد کی ہوئی ہے۔
 
ایودھیا کی یہ صورتحال تو کس طرح ہوئی؟ ملزم معید خان کو ایک ساتھ بیکری کے حوالے کر دیا جائے اور ان پر عدالت نے بری کردی اور اس کے بعد بھی جنرل سرکار نے اپنی سیاسی چالوں میں استعمال کر لیا تو یہ اچانک ہی نہیں ہوتا؟ ملزم کی زندگی پر یہ انصاف کتنا محفوظ ہے؟
 
بھارت میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ عوام کی توجہ اس پر مرکوز ہو جائے جو پوری زندگی بیکری اور معیشت سےOccupied رہتے ہیں، وہیں ایک شخص معید خان کو عدالت میں دھونے کا مظاہرہ کر رہا تھا۔

پچاس سال پہلے اور بیس سال پہلے ہی یہ بات معلوم تھی کہ ملک میں سیاسی معاملات میں ایک نئی طاقت پیدا ہوگی، جس کی وجہ سے عوام کی زندگی بھی بدلتی رہی ہو گی۔

جذب سرکار کا یہ فیصلہ تو اس بات کو دھونے کا نہیں تھا، مگر یہ بات واضح ہو گئی کہ عوام کے ساتھ معزز سرکار کا تعلق بھی اچھی طرح جانتا رہنا چاہیے۔
 
[GIF: ایک برہمن دیکھتا ہوا سوزش واقف ہونے والے سے بچتا ہوا ہمیشہ کی طرح ]

[Emoticon: 😂]

[Image: ایک پیٹرول پंप پر لکھا ہوا "نابینڈرا کے بعد میں کس کو اس سے بچانے کا ایک منصوبہ؟ " ]

[ GIF: ایک بیکری چلتی ہوئی ہاتھوں میں ایک پٹی لے کر دیر رات تک کھانے کی تارہنہیں جاری رکھتی ہوئی ]
 
بیکرچے کا ایسا جواب دہ ماحول، یہ تو کیا ہوا؟ اس معاملے نے بھی پورا ملک متاثر کیا، اور سماج وادی پارٹی کو بدنام کرنے والے نے ایسا جواب دہ ماحول پیدا کیا۔ اب یہ بات سچ کی ہو گئی تھی کہ جنرل سرکار کی چالوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ ہوتا ہے، اور سماج وادی پارٹی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک بڑا ماحول ہے جس سے ملک کے لئے خوفناک نتیجے ہو سکتے ہیں۔
 
عجیب بات یہ ہوئی کہ اس معاملے نے سماج وادی پارٹی کی بدنامی کو بڑھایا، جو سچ کی حقیقت پہنچانے والی تھی کہ ان کے رائے پرتیت گروہ نے کیا ہے۔ جنرل سرکار کا کہنا کہ بیکری ایک جادو کی طاقت سے دھونے کی کوئی معقول و cientفک بھی نہیں ہے، اس میں حقیقت کی پیداوار نہیں تھی بلکہ سیاسی طاقتوں کا استعمال تھا۔ اور اس معاملے میں جنرل سرکار کا فیصلہ یہ کہ وہ بھی ایک حقیقی معذور کے طور پر نہیں بلکہ سیاسی منصوبوں کی قیمتی پیداوار تھی، اچانک اس کا منظر بدل گیا۔
 
ایودھیا کا اس معاملے نے ہمیں تو بے پناہ شاندار دکھایا، لیکن اُس میں سے ایک بات بھی اس پر تبصرہ کرنی چاہئی تھی کہ جنرل سرکار نے اس معاملے کو پچھلے ہی برادریوں اور سماجی فیلڈز میں اپنی سیاسی چالوں کی دکھ بھرنے کا ایک نئا طریقہ بھی پیش کیا ہے۔ اس سے ہمیں سمجھنے والے بے شمار لوگ ہیں جس نے اس معاملے کو دیکھا ہو اور یہ بتایا کہ وہ جنرل سرکار کی سیاسی چالوں سے بہت ہی متاثر ہیں۔

دیکھ لیے کی ہے کہ جنرل سرکار کی پیروکارین اور سماج وادی پارٹی کی پیروکارین میں تنقید کا بڑے پیمانے پر تنाव ہوا تھا، اس بات کو یہ نہیں چھوڑ سکتے کہ جنرل سرکار نے سماج وادی پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو بہت سے حامیوں کے لئے ایک خطرناک اور بدنام کردار بنایا ہے۔

انچارج منصوبوں پر نیند کی سجائی کے بعد، جنرل سرکار نے انچارجوں کو ایسے پھیلائے تھے جو اس معاملے میں سماجی تنقید کو کم کرنے کا منصوبہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یوں ایک نیا پلیٹ فارم تیار ہوتا ہے جس پر وہ اپنی سیاسی چالوں کو ایک نئی شکل دیں اور اس سے ان کی سیاسی چلنا بھی اچھی طرح آسانی لیتے ہیں۔
 
ایودھیا کا معاملہ، اورہی تو حادثے سے لے کر ملزم معید خان تک پورا واقعہ بہت ہی متاثر کن ہے۔ میرا خیال ہے کہ جنرل سرکار نے اس معاملے میں اپنی Political Chalao ko sahi tarah use karne ki koshish nahi ki, instead unhone ek political target banaya. Baki sab kuch yeh hai ke yeh case aam logon ko bhi ghamandit lag raha hai aur yeh uska real face show nahi kar pa raha hai.

Mere liye, yah ek achchi lekhik ki baat hai ki unhone kaisa likha hai yeh batayein.
 
ایودھیا کا یہ معاملہ ہمیں اس بات پر یقین دلاتا ہے کہ اب بھی عوام کو حقیقی جدوجہد کا موقع ملا ہے۔ جنرل سرکار کی ان سیاسی چالوں نے سماج وادی پارٹی اور اس کے حامیوں کو ایک دوسرے سے منسلک کر دیا تھا، جس کی وجہ سے لوگ اب بھی ان کے درمیان تنقید کرتے ہیں اور اس معاملے میں دھارن کو پھیلایا گیا تھا جس سے لوگوں کو ایک دوسرے کی طرف متعرض ہونے پر مجبور کیا گیا تھا۔

اس معاملے سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ ابھی تو ایودھیا میں ماحول بہت دھارن ہوتا تھا، اور اب اس معاملے نے اس معاملے کو مزید دھارن بنایا ہے۔ لیکن یہ بات ضروری ہے کہ عوام کو ان تمام زبردست سیاسی چالوں سے نہیں گمراہ ہونا چاہئیں، بلکہ ان کو ایک دوسرے کی طرف متعرض نہیں ہونا چاہئیں۔
 
اس معاملے نے مجھے اچھی طرح متاثر کر دیا ہے 🤯، ایک بیکری کی گولی کو ایک جادو کی طاقت سے دھونا کیسے؟ اور اس عدالت کا فیصلہ جو اس کے خلاف شہرت منوانے کی کوشش کر رہی تھی؟ یہ تو ایک بڑی جھوٹھی ہے۔ لگتا ہے کہ جنرل سرکار نے اس معاملے کو اپنی سیاسی چالوں میں استعمال کرنے کی کوشش کی تھی اور سماج وادی پارٹی کو بدنام کرنا، ان کے حامیوں کو دبانا اور رائے پرتیت گروہ کو اپنی سیاسی چالوں میں استعمال کرنا اس کا ایک اچھا ماحول بن گیا ہے۔

یہ معاملہ مجھے بتاتا ہے کہ اس ملک میںPolitics kaise khelti hai 🤑، اور کس طرح politics mein sab ko dabaana padta hai۔ لگتا ہے کہ جنرل سرکار نے اپنی سیاسی چالوں کو سماج وادی پارٹی سے بچانے کے لیے ایسا معاملہ بنایا ہے جیسا کہ اسے ملزم قرار دینے والی عدالت نے اسے یہ بتایا کہ وہ رائے پرتیت گروہ کی سربراہی کرتا ہے۔

لیکن مجھے اچھی طرح یقین ہے کہ اس معاملے سے آپریشن مائیکرو کونڈیشننگ کے بारے میں بات کی جا سکتی ہے 💡، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے سماج وادی پارٹی کو بدنام کرنا اور ان کے حامیوں کو دبانا شروع کر دیا ہے۔
 
عزیز ان کلاسک معاملے نے میرے ذہن میں سرفہرست مقام حاصل کر لیا ہے، اس کے بعد ملزم معید خان کو بری کردیا گیا اور یہ بات واضح ہو گئی کہ جنرل سرکار نے بیکری کو ایک جادو کی طاقت سے دھونے کے طور پر پیش کیا، لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ وہ کیسے کامیاب ہوا؟
 
عجیب بات یہ ہے کے جنرل سرکار نے ایک عارضی معاملے کو اچھی طرح سے بنایا ہے اور اس میں بھی ان کی طرف سے سیاسی منصوبوں کی قیمتی پیداواری بات کرتے ہوئے، لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ وہ کس طرح اس معاملے میں کسی کے معذورपन کو پکڑتے ہیں اور اسے اپنی فلاح کی بات کرتے ہوئے جھوٹ بोलتے ہیں.
 
ایودھیا کا یہ معاملہ تو بے چین ہو گیا ہے! ملزم معید خان کی بری کرنے والی عدالت کو دیکھتے ہوئے، میں کہنا نہیں چاہتا کہ یہ رائے پرتیت گروہ کسی جاتھی کی سربراہی کرتا ہے یا نہیں! ہر کس کو اپنی بات کی آزادی دی جانی چاہئے اور سیاسی Parties کو اپنے آپ کو سماج وادی پارٹی سے منسلک نہ کرنا چاہئے۔ جنرل سرکار کے ساتھ سماج وادی پارٹی کے درمیان تنقید بھی ضروری ہے، لیکن ان کے درمیان ریل اٹھانے کی بجائے، تبادلہ خیالات اور dialogue کو ترجیح دی جانی چاہئے۔
 
یہ واقفہ ایک بہت حیرت انگیز بات ہے، جنرل سرکار نے اس معاملے کو ایک جادو کی طاقت سے حل کرنا چاہے تھے، لیکن وہ نہیں جانے دیتے کہ یہ معاملہ اس قدر زیادہ ہوا اور اس میں کس طرح ایودھیا کی عوام کو لگایا گیا تھا۔

بیکری کی گئی تھی لیکن کچھ لوگ اس پر انقلاب کے طور پر دکھائی دے رہے ہن، معید خان کی صورت حال نے سب کو حیران کر دیا ہے اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ ایک معذور آدمی تھا جو اپنی خود کو بحال کرنا چاہتا تھا، لیکن ان پر اس طرح کی لڑائی ہوا جس سے لوگ حیران رہ گئے ہن۔
 
عمر اللہ یہ معاملہ بہت غصہ دہ ہے! ملزم معید خان کی حقیقی جگہ اچھے سیاسی منصوبوں کا تعین ہوا تو نہیں? یہ سارے معاملے جنرل سرکار کے پاس کے ہی تھے، اس لیے وہ شہر اپنی پچھلے کی واپسی کی بات تو کرنے والے ہی تھے! 🤦‍♂️

اس معاملے کا جواب دینے سے پہلے مجھے یہ سوچنا بھی پڑتا ہے کہ شہر میں ہنسی مدھم کی بات کرنی چاہئیے، جس کے بعد ان لوگوں کو بھی لگے گا جو اس معاملے میں وارث بنتے ہیں! 🤣
 
ایودھیا کی یہ صورت حال تو حیرت انگیز ہے, لیکن یہ بھی بات یقینا نہیں ہے کہ وہ ایک ایسا معاملہ ہے جو جاتھیوں اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ منسلک ہوا تھا۔ بیکری نے اس معاملے میں ایسی سرگرمی کی تو بالکل چکی نہیں ہوئی، یہ صرف ایودھیا میں سیاسی بدسلوکیوں کی ایک بھرپور کوشش تھی۔ جنرل सरکار کو اس معاملے سے پچتا نہیں ہے؟

اس وقت میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ politics nahi ho sakti, jang baaton par chalti hai 🤔
 
ایودھیا کا معاملہ بھرپور ہے، لگتا ہے کہ وہاں کی عدالت نے اپنی جانب سے ایک جادو گریف پہن لیا تھا اور اس میں معید خان کو بھی شکار ہوا 🤯 اور یہ بات بھی تو واضح ہے کہ جنرل سرکار نے اپنی سیاسی چالوں کو اس معاملے سے لطف اندوز کر لیا تھا اور سماج وادی پارٹی کی جانب سے بھی انہیں ہونے والی پریشانی سے نجات حاصل کی گئی 🙏
 
😂 یہ معاملہ تو ایک ہی طرح کا زور اور بدنامی کا ماحول بھی دیتا ہے جنرل سرکار کی طرف سے جس کا مقصد بیکری کو ایک جادو کی طاقت سے دھونے کا پابند رہنما بنایا گیا ہے تو وہیں معید خان کے خلاف عدالت کی فیصلہ دہی اور اسے ملزم قرار دینا ہوتا ہے، یہ سب ایک ایسا ماحول بناتا ہے جس میں کوئی بھی صحت مندThinking نہیں کر سکتا 🤔 اور ایوڈھیا کے اس معاملے نے بھی واضح کیا کہ جنرل سرکار کی سیاسی چالوں کو سماج وادی پارٹی اور ان کے حامیوں کا مقابلہ کرنا پدا ہوتا ہے، جس سے ان کے خلاف جدوجہد اور تنقید ہوتی ہے 🙅‍♂️
 
مجھے یہ حادثہ توجہ دिलانے والا ہے، جو کہ یہ نہیں ہے کہ بیکری چلا گئی تو اس میں کسی کی اور کھانا لینا تھا، بلکہ یہ حادثہ اس جگہ کے لوگوں کو دکھای رہا ہے جو اس وقت اچھے معیاروں تک پہنچ نہ سکیں، ابھی تو یہ جاننا ہی مشکل تھا کہ وہ لوگ ملزم کی حیثیت سے محفوظ ہیں یا ان کی اور نہیڰ ہیں؟ ایسے میں یہ حادثہ ہرے رंग کا تھام دیتا ہے
 
واپس
Top