کال آف ڈیوٹی پرو
Well-known member
سوزش اور کینسر، دو معاملات جو اکثر پہچانتے ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسی تعلقات رکھتے ہیں جیسا کوئی غلط۔ اس لیے اب تک کے تحقیق کے مطابق کینسر کے خاتمے میں استعمال ہونے والی ایک اور دوا آئیبروپروفن بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
سوزش، جب سے اس کو کم کیا جائے وہ کینسر کے خلیات کو براہ راست متاثر کرتی ہے اور اس طرح وہیں سے خود کھا لیتا ہے، ایک غیر اسٹیرایڈل سوزش کم کرنے والی ادویات کی عادت رکھتا ہے جو کینسر کو کمزور بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
آئیبروپروفن، اس سے پہلے جاننے والی ایک ادویات کی طرح، کوکس نامی خامروں کो ختم کر کے سوزش میں کمی لاتی ہے اور یہ کینسر کے خلیات کی نشوونما کا رخ نہ دے سکتی ہے۔
یہ دوائیں 2025 کی ایک تحقیق سے ایک بار پھر سے ثابت ہوئیں جب اس میں دیکھا گیا کہ ماہانہ کم از کم 30 گولیاں لینے والی خواتین میں رحم کے کینسر کے خطرے میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، ایبروپروفن کو ایک اور دوسرے این ایس اے آئی ڈی ادویات جیسے اسپیرن کی طرح کینسر پر ایک سا اثر نہیں رکھتی ہے، اس سے پہلے بھی کہ یہ دوائیں مختلف صورتوں میں کینसर کے خطرے کو کم کرنے کا علاج کرتی ہیں جیسے آنت، چھاتی، پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ کے کینسر۔
اس دوائی کی نوعیت ایسی ہے کہ یہ کوئی جینیاتی راستہ بھی متاثر کرتی ہے جو کینسر کے خلیات کو کمزور بناتا ہے اور اس طرح ان سے وہیں سے دور رہتے ہیں، اس طرح وہ کیمو تھیراپی کے اثر کو بھی زیادہ دکھاتی ہے۔
لیکن یہ بات لازمی ہے کہ آئیبروپروفن کو استعمال کرنا خود سے خطرناک ہوسکتا ہے جبکہ اس کی طویل استعمال سے معاشی کھاتوں میں انچھٹ اور یہ چیز ان میں بھی شامل ہوتی ہے۔
اس لیے ابھی تک سب سے محفوظ طریقہ کینسر سے بچاؤ کا طرزِ زندگی ہے جس میں صحت مند غذا، مناسب وزن برقرار رکھنا، باقاعدہ ورزش اور ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر دوائیں نہیں استعمال کرنی چاہئیں۔
سوزش، جب سے اس کو کم کیا جائے وہ کینسر کے خلیات کو براہ راست متاثر کرتی ہے اور اس طرح وہیں سے خود کھا لیتا ہے، ایک غیر اسٹیرایڈل سوزش کم کرنے والی ادویات کی عادت رکھتا ہے جو کینسر کو کمزور بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
آئیبروپروفن، اس سے پہلے جاننے والی ایک ادویات کی طرح، کوکس نامی خامروں کो ختم کر کے سوزش میں کمی لاتی ہے اور یہ کینسر کے خلیات کی نشوونما کا رخ نہ دے سکتی ہے۔
یہ دوائیں 2025 کی ایک تحقیق سے ایک بار پھر سے ثابت ہوئیں جب اس میں دیکھا گیا کہ ماہانہ کم از کم 30 گولیاں لینے والی خواتین میں رحم کے کینسر کے خطرے میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، ایبروپروفن کو ایک اور دوسرے این ایس اے آئی ڈی ادویات جیسے اسپیرن کی طرح کینسر پر ایک سا اثر نہیں رکھتی ہے، اس سے پہلے بھی کہ یہ دوائیں مختلف صورتوں میں کینसर کے خطرے کو کم کرنے کا علاج کرتی ہیں جیسے آنت، چھاتی، پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ کے کینسر۔
اس دوائی کی نوعیت ایسی ہے کہ یہ کوئی جینیاتی راستہ بھی متاثر کرتی ہے جو کینسر کے خلیات کو کمزور بناتا ہے اور اس طرح ان سے وہیں سے دور رہتے ہیں، اس طرح وہ کیمو تھیراپی کے اثر کو بھی زیادہ دکھاتی ہے۔
لیکن یہ بات لازمی ہے کہ آئیبروپروفن کو استعمال کرنا خود سے خطرناک ہوسکتا ہے جبکہ اس کی طویل استعمال سے معاشی کھاتوں میں انچھٹ اور یہ چیز ان میں بھی شامل ہوتی ہے۔
اس لیے ابھی تک سب سے محفوظ طریقہ کینسر سے بچاؤ کا طرزِ زندگی ہے جس میں صحت مند غذا، مناسب وزن برقرار رکھنا، باقاعدہ ورزش اور ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر دوائیں نہیں استعمال کرنی چاہئیں۔