شاعری ادب کی ایک اہم شکل ہے، جس سے ہماری تہذیبی و ثقافتی روایات کو تعلیم دینی ہوتی ہے، یہ کہ کہانیوں کی چار نہ بھینت، اور شاعری ایک جسمانی شکل میں ادب کی ایسی تجسیم ہوتی ہے جو شاعر کے جذبات کو آگے لے کرتی ہے۔
ادبی مشاعرے زوال کا شکار ہو رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی مصروفیات اور الیکٹرانک میڈیا نے عوام کو ادب سے لاتعلق کردیا ہے۔ معاشی دباؤ اور مسائل کے بوجھ کے نتیجے میں عوام نے ادبی مجالس میں شرکت کا رجحان ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مشاعرے کا انعقاد بھی کم ہو رہا ہے۔
بعض شعرا اپنے شعر و شاعری کو سطحی اور غیر معیاری بناتے ہیں، جو ادب کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے، یہی وجہ ہے کہ نئے شعرا ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔
شاعری ایک جسمانی شکل میں ادب کی ایسی تجسیم ہوتی ہے جو شاعر کے جذبات کو آگے لے کرتی ہے، لیکن اب یہ مشاعرے اور گپ شپ کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ادب کو فروغ نہیں مل رہا۔
شاعری ایک معاشرتی عمل ہے، جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
شاعری ایک اہم عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
شاعری ایک معاشرتی عمل ہے، جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔
شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔
شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔
ادبی مشاعرے زوال کا شکار ہو رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی مصروفیات اور الیکٹرانک میڈیا نے عوام کو ادب سے لاتعلق کردیا ہے۔ معاشی دباؤ اور مسائل کے بوجھ کے نتیجے میں عوام نے ادبی مجالس میں شرکت کا رجحان ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مشاعرے کا انعقاد بھی کم ہو رہا ہے۔
بعض شعرا اپنے شعر و شاعری کو سطحی اور غیر معیاری بناتے ہیں، جو ادب کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے، یہی وجہ ہے کہ نئے شعرا ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔
شاعری ایک جسمانی شکل میں ادب کی ایسی تجسیم ہوتی ہے جو شاعر کے جذبات کو آگے لے کرتی ہے، لیکن اب یہ مشاعرے اور گپ شپ کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ادب کو فروغ نہیں مل رہا۔
شاعری ایک معاشرتی عمل ہے، جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
شاعری ایک اہم عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
شاعری ایک معاشرتی عمل ہے، جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔
شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔
شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔