ادبی مشاعرے زوال کا شکارکیوں؟ | Express News

موسیقار

Well-known member
شاعری ادب کی ایک اہم شکل ہے، جس سے ہماری تہذیبی و ثقافتی روایات کو تعلیم دینی ہوتی ہے، یہ کہ کہانیوں کی چار نہ بھینت، اور شاعری ایک جسمانی شکل میں ادب کی ایسی تجسیم ہوتی ہے جو شاعر کے جذبات کو آگے لے کرتی ہے۔

ادبی مشاعرے زوال کا شکار ہو رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی مصروفیات اور الیکٹرانک میڈیا نے عوام کو ادب سے لاتعلق کردیا ہے۔ معاشی دباؤ اور مسائل کے بوجھ کے نتیجے میں عوام نے ادبی مجالس میں شرکت کا رجحان ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مشاعرے کا انعقاد بھی کم ہو رہا ہے۔

بعض شعرا اپنے شعر و شاعری کو سطحی اور غیر معیاری بناتے ہیں، جو ادب کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے، یہی وجہ ہے کہ نئے شعرا ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔

شاعری ایک جسمانی شکل میں ادب کی ایسی تجسیم ہوتی ہے جو شاعر کے جذبات کو آگے لے کرتی ہے، لیکن اب یہ مشاعرے اور گپ شپ کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ادب کو فروغ نہیں مل رہا۔

شاعری ایک معاشرتی عمل ہے، جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

شاعری ایک اہم عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

شاعری ایک معاشرتی عمل ہے، جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔

شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔

شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دेतے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔
 
मیری بھینتی کا ایک نہیں دو کہانیوں میں شاعری ادب کی اہمیت کی بات ہے، لیکن یہ دیکھنا عجیب ہے کہ عوام کو شاعری سے لاتعلق کردیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ معاشی دباؤ اور مسائل کے بوجھ کے نتیجے میں عوام نے ادبی مجالس میں شرکت کا رجحان ختم کر دیا ہے۔

اب شاعری صرف ایک گپ شپ کے ذریعہ ہی ہوتی ہے جس سے عوام کو ادب کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا، یہ ریکارڈرز پر بھی پڑتا ہے کہ شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو عوام کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے لیکن اب یہ عمل نہیں کیا جا رہا، شاعر اپنے شعر و شاعری کو سطحی اور غیر معیاری بناتے ہیں جو ادب کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
 
ادبی مشاعرے کم ہو رہے ہیں کیونکہ لوگ الیکٹرانک میڈیا سےOccupied ہوئے ہیں اور ادب کا جذبات کو آگے لے کرتی ہوئی شاعری کا جذبات کو تاریک کر رہے ہیں، یہ بھی نئے شعرا گروپوں میں شمولیت پانے پر زور دیتے ہیں جس سے ادب کا فروغ نہیں ہوتا، شاعری کو ایک معاشرتی عمل کی तरह پیش کرنا چاہئے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرے.
 
ادبی مشاعرے میں تبدیلی کا یہ دور کھو چuka ہے جس سے ادب کی دنیا بھی بدل رہی ہے، نئے شعرا اپنی شاعری کو ایک معیار کے ساتھ پیش نہیں کر رہے بلکہ دوسرے شعراؤں کی شاعری پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، یہ آج کی ادبی دنیا کا ایک گھلچتی بھارپور پہلو ہے جو ادب کو نئے دور میں لے جاتا ہے۔
 
ادب کی وجہ سے کچھ لوگ نہیں آگے چلے گئے، شاعر بھی کم ہو رہے ہیں۔ اب لوگ ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو ایک دوسرے میں پہچانتے ہیں، یہ بھی شاعری کی تباہی کی ایک وجہ ہے۔
 
شاعری ادب کی ایک اہم شکل ہو رہی ہے جس سے ہماری تہذیبی و ثقافتی روایات کو تعلیم دیا جارہا ہے، لیکن اب یہ شاعری ایک گپ شپ کا ذریعہ بن گئی ہے اور عوام کو ادب سے لاتعلق کردیا جا رہا ہے

 
ادب اور شاعری کی اس وبا سے ہمیں پچتائے ہوئے ہیں، جس کا مقصد صرف شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ عوام کو اس بات پر افسوس پہنچانے کا مقصد، جب تک عوام کو کوئی شاعر اپنی شاعری سے متاثر نہیں کر سکے گی تو ایسی صورتحال کیسے ممکن ہوگی؟
 
ادب کو فروغ دینے کے لیے ہماری اہمیت کو نہیں سمجھتے، جو لوگ ادب میں مصروف ہوتے ہیں انہیں ہمیں اپنی شاعری کے ذریعے عوام کا دिल جیتنا چاہئے۔

شاعر کو اپنے جذبات کو آگے لے کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئیے، لیکن اب یہ محسوس نہیں ہوتا، عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

گروپوں میں شمولیت پانا اور خود کو وہی شائقین میں پہچانتا ہونا ادب کو فروغ دینے کی بجائے ایک رکاوٹ بنتا ہے، لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔

شاعری میں معاشرتی عمل کا اہم کردار ہوتا ہے، لیکن اب یہ ایک رکاوٹ بن گیا ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

ادبی معاشرے میں ایک اہم کردار ہوتا ہے، لیکن اب یہ رکاوٹ بن گیا ہے جس سے شاعری کو فروغ نہیں ملا سکتا۔
 
شاعری کو معاشرے میں ایک اہم کردار دیا جاتا ہے، لیکن اب یہ اس کردار سے دور ہو رہی ہے جو شاعر کے جذبات کو آگے لے کرتی ہے اور عوام کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

شعر و شاعری کا معیار نہیں ہوتا، جو زیادہ تر شعرا اپنے شعر کو سطحی بناتے ہیں اور ایسے جذبات کو ظاہر کرنا بھی نہیں کرتے جس سے عوام کو ایک دوسرے سے ملنے میں مدد ملے۔

ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے، جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
 
ادبی مشاعرے بھرپور تھے تو کب نہیں، اب وہ زوال کی طرف بھاگ رہے ہیں، اس میں معاشی دباوء اور الیکٹرانک میڈیا کی بھی بہت مدد ہوئی ہوگی، لوگ کافی دیر سے اپنے جذبات کو نہیں ظاہر کر رہے، اور شاعری کا ایک حقیقی معاشرتی عمل اب وہی تھا جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو اچھی طرح سے پہچانا جا سکتا ہوگا۔
 
جی وہ بات بات ہو رہی ہے کہ اب شاعری کا معاشرے میں بھی زوال دیکھنے کو Mills coming ہوا ہے اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت کرنے پر زور دیتے ہیں، جو ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں۔

اس لئے میں نے ایک صمل diagram بھی بنایاہے، جس پر یہ بات واضح دیکھنی پڑتی ہے کہ نئے شعرا گروپوں میں شمولیت کرنے کی اس سائٹ سے شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے۔

[Diagram: ایک گروپوں میں شمولیت کرنے کی سائٹ پر ایک بڑا گرینڈ پیمنت اور انسائڈر کا ایک ریل سے بنایا ہوا diagram]

شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن اب یہ عمل وہی ہے جس سے عوام کے ذہن اور جذبات کو شاعری کی طرف لانے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
 
شاعر نے ایسے شاعری سے کام کیا ہے جس سے لوگ اسے سننے کے لیے کھلے قلب اور دل سے آتے ہیں، لیکن اب یہ ایک چٹان کو بن گیا ہے جس پر لوگ اپنی اپنی شاعری پڑھ کر دیکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں شاعر کے جذبات بھی دکھیلے جا سکتے ہیں
 
شاعری ادب کی ایسی اہم شکل ہے جو ہماری تہذیبی اور ثقافتی روایات کو تعلیم دیتی ہے. لیکن اب یہ شاعری کا شکار ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے عوام کو ادب کے ساتھ نہیں رہنے دیتی ہے. معاشی دباؤ اور مسائل کے بوجھ کے نتیجے میں عوام نے ادبی مجالس میں شرکت کا رجحان ختم کر دیا ہے.

شاعری ایک جسمانی شکل میں ادب کی ایسی تجسیم ہوتی ہے جو شاعر کے جذبات کو آگے لے کرتی ہے. لیکن اب یہ مشاعرے اور گپ شپ کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ادب کو فروغ نہیں مل رہا.

اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ شاعری کے ساتھ اپنے جذبات کو نہیں لایا کرتی ہیں، بلکہ انہیں گپ شپ اور مشاعرے میں لانے کی کوشش کرتی ہیں. یہ ایک نئی پالیسی ہے جو عوام کو شاعری کے ساتھ اپنے جذبات کو لانا نہیں چاہتی، بلکہ انہیں ادب کی طرف لانے کے لیے ایسا طریقہ بناتی ہے جس سے لوگ شاعری کے ساتھ اپنے جذبات کو نہیں لातے.

ماہرین ادب انہی پالیسیوں کی مذمت کرتی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ شاعری ایک معاشرتی عمل ہے جو معاشرے کے مختلف لوگوں میں ایک ایک کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد فراہم کرتی ہے.
 
ایسا نہیں، یہ کہانیوں کی چار نہیں بھینتی، شاعری ایک جسمانی شکل میں ادب کی تجسیم ہوتی ہے جو شاعر کے جذبات کو آگے لے کرتی ہے، لیکن اب یہ شاعری گپ شپ کا ذریعہ بن گئی ہے اور عوام کی توجہ ادب سے لاتعلق کردی ہوئی ہے۔ نئے شعرا اپنے شعر و شاعری کو سطحی اور غیر معیاری بناتے ہیں، جس کے نتیجے میں ادب کی ترقی رکھنی مشکل ہو گئی ہے۔
 
ادبی مشاعرے کا اس وقت کھاتما ہوا ہے، جب عوام کو زندگی کی مصروفیات اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے ادب سے لاتعلق کردیا جا رہا ہے. نئے شعرا ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ خود کو وہی شائقین میں پہچانتے ہیں، ان کی شاعری کو مقبول بنانے کا طریقہ لاتعلقی دماغ اور دل کو تاریک کرنا ہے.

تمام poets ایک دوسرے کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ اپنے شائقین سے ملنے کا کوشش کرتے ہیں.
 
واپس
Top