افغان سرزمین سے تاجکستان پر ڈرون حملہ ، 3 چینی شہری ہلاک

چاٹ محب

Well-known member
تاجکستان پر افغان سرزمین سے ڈرون حملہ ، تین چینی شہری جانوں کا حادثہ

انشعاب پسند دہشت گرد اور افغان طالبان کی طرف سے لگاتار ہونے والی دہشت گردی نے افغانستان کی سرحد پر ایک ایسا حملہ کیا جس میں تین چینی شہری جانوں کا حادثہ ہوا۔

ان ڈرون پرستوں نے افغانسرزمین سے اڑایا گیا ایک ایسا ڈرائیٹسٹمینٹ مچانے والا بم افغانستان کے ضلع ختلان میں چینی کمپنی "شوهین ایس ایم" کے کیمپ کو شہید کر دیا تھا۔

تاجکستان کی حکومت نے ان حملے پر شدید تشویش اور مذمت کی ہے، اور انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت سے حملہاوروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تاجک حکام کے مطابق سرحدی امن کیلئے مسلسل کوششوں کے باوجود خطرات برقرار ہیں اور سرحد پر شہرت گردی اب صرف پاکستان کے ساتھ ہی رہ گیا ہے۔

افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کیلئے ایک مستقل سیکیورٹی چیلنج بن رہی ہے، اور دہشت گرد گروہوں کی تخریبی کارروائیاں جاری ہیں۔

افغان طالبان رجیم کے وعدوں کے باوجود بھی ایسے حملے جاری ہیں جو ان کی جانب سے ممانعت کرنے والی پابندیاں توڑتی ہیں اور دہشت گردی کو مزید زبردست شکل دی رہی ہے۔
 
یہ نئی بھارتی ہائی وے کی بناوٹ سے لے کر افغان سرزمین پر ڈرون حملوں تک تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے ، مجھے یہ انصاف نہیں کہنے کی ضرورت ہے کہ تاجک اور افغان سرزمین پر دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

انشعاب پسند دہشت گردوں نے اس کے بارے میں بات کرنے والوں کو اچھی طرح سے چیلنج کیا ہے ، کیونکہ انہوں نے اپنی دہشت گردی سے کیسے موافقت کروائی ہے؟ انہوں نے ایسا کیا جس سے انہوں نے اپنے حقیقی مقاصد کو پورا کیا ہے، اور یہ ان کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے।

میں اس سے یہ بات سمجھنا چاہتا ہوں گا کہ تاجک اور افغان سرزمین پر دہشت گردی کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟ کیونکہ اگر انہیں ختم کرنا نہیں ہو سکتا تو انہوں نے اس لیے دہشت گردی کو اپنی مدد کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے جو انہیں کچھ فائدہ ہے۔

ان شہریوں کی جانوں پر افغان سرزمین پر ڈرون حملہ سے یہ بات بھی Samajh میں آتی ہے کہ ان شہریوں کو کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے؟ کیونکہ اگر ان کی جان پر حملہ نہیں کیا گیا تو وہ بھی اس دہشت گردی سے محفوظ رہتے .

ان شہریوں کی جان کو بچانے کی جدوجہد میں ہماری مدد کروائی جانی چاہئے ، اور اس پر ہماری توجہ اور غور کی ضرورت ہے۔
 
"جب بھی چلچلاں ہوں گی، یاروں سب کچھ توڑ دوں گے۔"

مگر جب وہ چلچل رک جائے، تو ہمیں اسی کا جواب دینا پڑے گا۔
 
:(
جب تک نہیں کہ افغانستان کی سرحد پر ایسا سسٹم بننا پڑے جو دہشت گردوں کو روکے، ان حملوں کی وضاحت نہیں کی جا سکتی 🤔
مگر اس حادثے کا مقصد یہ ہے کہ تاجکستان کی حکومت بھی افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس حادثے سے ان کا مقصد صرف یہ نہیں ہے بلکہ افغانستان کو ایک مستحکم و ثبوت شدہ ریاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے
ایک منظر:
+---------------+
| +----+ |
| افغانستان | |
| +----+ | |
| | | | |
| | تاجکستان | |
| | | | |
| +----+ | |
+---------------+
| |
| دہشت گردی |
| اور حملے |
| |
v
+---------------+
| +----+
| دہشت گرد |
| گروہوں |
| اور حملے |
+---------------+

اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کی سرحد پر ایسے خطرات برقرار رہے ہیں جو دوسرے ممالک کی بھی توجہ طلب کریں گے۔
 
مذاکرات بھی مذاکرات، یوں ہی جیسا کہ افغانستان کی سرحد پر ایسے حملے جاری ہیں تو اس لئے کیونکہ دہشت گردی کو روکنے میں مٹھائیاں اور بات چیت بھی کافی ہی ہو سکتی ہے

مگر یہیں تک پہنچنا پریشان کن ہے کہ وہ دہشت گرد گروہ جو افغانستان میں طالبان کے ساتھ ہیں ان کے اقدامات سے انہوں نے جہاں تک چلایا ہے وہ یقیناً افغانستان کی سرحد پر مزید حملے دلا کر رکھیں گے

شہید ہونے والوں کی بے رحمی کیسے روکی جا سکتی ہے؟
 
यہ بھی لگتا ہے کہ انشعاب پسند دہشت گردوں کی جانب سے لگاتار ہونے والی دہشت گردی کو نا ملکی ڈرائیٹس ٹیکنالوجیز پر مشتمل حملے کے ذریعے روکنا چاہئے۔ اس طرح کے ہمیشہ تھین اور حملوں سے قبل یہ جانتے رہیں کہ ان حملوں میں اسیے جانوں کی جان لگی رہی ہے یا نہیں۔ بھارتی شہری جانوں کو بھی ڈرون حملوں سے بچایا جاسکا چاہئے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ افغانستان کی سرحد پر ایک واضح اور پابندیاں ہر رات لگائے رہیں تاکہ اس سے کوئی نوجوان اٹھ کر ہمیشہ بھارتی شہری جانوں کی جان لگائی نہ رہے۔
 
یہ ایک بھیہر وہاڈی دکھائی دے رہا ہے کہ ایسے حملوں سے اٹھنا اس قدر مشکل ہے تاکہ کچھ لوگ انہیں اپنی سرزمین پر اپنے ہی مظالم کو دیکھ کر نہیں لے رہے ۔ جس میں چینی شہری جانوں کا حادثہ ہوا اور اب تک بھی اچانک حملوں سے ایسے مظالم حل نہیں دیکھے گئے۔ یہ بات ایسے لوگوں کو نہیں پھنساتی کہ افغانستان کی سرحد پر ایک ڈرائیٹسٹمینٹ مچانے والا بم چینی کمپنی شہید کر دیا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے حملوں کی نہ صرف پاکستان ہی پر دباؤ پڑتا ہے بلکہ اس صورت حال میں ہم بھی شامل ہیں۔
 
یہ حملہ کیا واقف تھوڈا کچھ تاجکستان پر ہوگا؟ پوری دنیا میں دہشت گردی کی آہنی سڑی ہوئی ہے اور افغانستان اس کے لئے ایک بڑا مرتضو بن رہا ہے۔ مگر تاجکستان پر یہ حملہ جس سے ان کی سرحد پر دہشت گردی اچھی طرح آگ لگ گئی ہے وہاں تک کہ وہاں شہری جانوں کا حادثہ ہوتا دیکھنے میں ہی مگرز ہی رہ جاتا ہے!
 
🤯 یہ ایک بھرپور خطرہ ہے کہ افغانستان کی سرحد پر اس طرح کی دہشت گردی جاری ہو رہی ہے، تاجکستان کو یہ خطرہ اپنے ساتھ لینا پڑ رہا ہے اور وہ ایسے کہتے ہیں کہ سرحدی امن کیلئے کوششوں کے باوجود خطرات برقرار ہیں... یہ بھی بات غلط نہیں کہ افغانستان کی governments کے وعدوں پر عمل نہ ہونے سے یہ خطرہ زیادہ گھل ملتا جاتا ہے...
 
افغانستان کے سرزمین پر دھماکے ہونے سے پہلے، یہ سوچنا تو مشکل ہو گا کہ کیا وہی ہوا جسے افغانستان نے اپنے خطے میں دھماکوں کی وجہ سے پاتا رہا ہے؟ اب یہ ایک نئی چیلنج بن گیا ہے۔ Tajikistan کی حکومت کو ان حملوں پر شدید تشویش اور مذمت کرنے کا حق ہے، لیکن اس سے پہلے افغانستان کی سرحدی امن کیلئے فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
 
اس حادثے نے مجھے کچھ یاد دلا دیا ہے، ہمیشہ کہتے آئے تھے کہ ایسے حملے سے کوئی لाभ نہیں ہوتا، بس پوری دنیا کے لوگ تکلم کرنے اور آپ کو متحرک کرنے سے محروم رہتے ہیں
 
یہ تاجکستان پر افغان سرزمین سے ڈرون حملہ ایک بد قیمتی بات ہے، جو یہاں کی جان و مال کو لے جاتی ہے! میٹھے بولتے لوگ بھی اس پر نظر انداز نہیں کرسکتے. شہید کر دی گئی تین چینی فوجیوں کی جان کس طرح پریشان کن ہوسکتی ہے!
 
یہ تو ایک نا کہی ہوئی بات ہے کے افغانستان میں ڈرون حملوں کی صورت حال کی پوری تصدیق ہوگی 🤯 تھوڑا سا دیکھتے ہیں تو پاکستان بھی ایسے ہی رہ رہا ہے، یہ سب سے زیادہ ہر کے لیے ناسور ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے سرے کھل کر فریڈم سے باہر چل پئیں۔
 
یہ لاکھ لاکھ دھکے ہیں! کبھی بھی ایسا حملہ نہیں ہوا کیوں? افغانستان کو پھانٹنا ہر وقت ٹھیک ہی نہیں کرتا... 🤦‍♂️

ایسے سے جب تک دہشت گردی جاری رہتی ہے، یہ safestی سے بھی نہیں ہو سکتی! اس پر پابندیاں لگائیں اور ان حملوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اہلیت ہر ایک کو ملنی چاہئیے... 💪

اور یہ کبھی نہیں آئیگی کہ شہرت گردی صرف پاکستان سے ہی ہو گی! افغان سرزمین پر بھی سیکیورٹی کو Priority دیا جائے، اس کی ضرورت ہے... 🌟

جس جگہ کچھ لوگ انعامات اور معاشی سہولتوں کی تلاش میں ہیں، وہاں دھوکہ دیا جانا نہیں چاہئیے... اس میں صرف ایک بات یقینی ہے: سیکیورٹی ہمارے سب کے لیے ضروری ہے... 🙏
 
یہ ایسا لگتا ہے جیسے تاجکستان کی حکومت کے پاس ان حملوں سے بچنے کے لیے صرف ایک چیلنج ہی ہے – افغانistan کی سرحد پر سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے تینوں ممالک کی ملازمت کرنا ہے. پھر بھی، ان چینی شہریوں نے اپنے آپ کو ایسا وقفہ دیکھایا ہے جو ان کی جانوں کے لیے ایک غم پرستہ رات بن گئی. مگر، یہ بات طفیلی ہے کہ آئندہ کیا ہوگا؟ افغانستان کی سرحد پر سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے ایسے بڑے قدم ہیں پڑھنے پڑenge جیسے ایک فلم میں ہوتا ہے.
 
افغانستان کے ساتھ تعلقات دیرپا اور گہرے ہیں، لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ شہری جانوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں کامیابی ہوئی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماحول پر سارے اثرات دیکھ بھال کئے جا رہے ہیں۔
 
ایسے ہی جب تک افغانستان میں یہ دہشت گردی جاری نہیں ہوتی تو کون سا چینی شہری اس ڈرائیٹسٹمینٹ میں مچانے والا بم کو اڑای گا؟ ابھی بھی وہ لوگ ہیں جو افغانستان کی سرحد پر پیدل ایک دوسرے کے سر پر حملہ کر رہے ہیں، اور یہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا؟ انشعاب پسند دہشت گردوں کو اس میں پھنسایا گیا اور اب وہ افغانستان کی سرحد پر شہرت گردی کے رخ لگا چکے ہیں۔
 
یہ دھمکہ تو بھی نہیں، ایسا ہو کر ہمارا ہر سال کچھ نئے حملے اور دھمکوں سے ہو رہا ہے۔ یہ تاجکستان پر افغان سرزمین سے ڈرون حملہ وغیرہ ہے، جس میں ایسی بری گئیں تھین چینی شہری جانوں کا حادثہ ہوا ہے۔

میری نان کی پیداوار میں یہ کچھ نہیں بدلتا، ہر سال اسی طرح سے ہی ہوتا ہے۔ دہشت گردی کا ایسا ہی حملہ تو ہوا ہے، اور ہمارے دھمکے میں یوں سے بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔

چینی شہری جانوں کا حادثہ تو اس کی خبر سن کر ہر رہنما اور صدر اپنی جگہ پر بیٹھتے ہیں اور پھر واپس بیٹھتے ہیں، یوں سے ہزاروں کو جان لگیاتی ہے۔

میں نے بچپن میں ایسے ہی سنا تھا کہ دہشت گردی کی وہی نوعیت ہے، اور یوں ہی ناواقف لوگ اپنی زندگیوں کو جھپکتے رہتے تھے۔

انہی گھنٹوں میں کچھ بھی نہیں Badalta, ہم اسی طرح سے دھونے جاتے ہیں... 🤕
 
واپس
Top