طالبان کی اپنی ایک نیا بیانیہ آئی ہے جو عالمی حقائق کے سامنے بے نقاب ہو رہی ہے، جس کے بارے میں امریکی جریدے یوریشیا ریویو نے بات کی ہے جس سے پتا چلا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا اہلکہ افغان سرزمین سے جوڑا ہوا ہے، یہ دھارنا صاف ہی کافی نازک ہے کہ طالبان کی اپنی سلامتی اور ترقی کے دعوؤں کو بھی ایسا سمجھنے میں بڑا معقّد ہے کہ وہ اس بات کا سچ اور حقیقت رکھتے ہیں یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق طالبان کی اپنی ایسی طویل مدتی خودخوری کی سب سے نمایاں مثال خواتین کی تعلیم پر پابندی ہے، یہ بھی بات چیت نہیں ہو سکتی کہ طالبان کی اپنی رہنمائی میں ان کے اس دعویٰ کو پورا کرنا کبھی ممکن نہیں ہو سکتا، یہ بھی دکھایا جا رہا ہے کہ طالبان کی اپنی ایسی بیانیات بھی کمزور ہیں جس میں ان کے معاشی دعوؤں کو مسترد کرنے والی ورلڈ بینک کی رپورٹ کی بات ہے، یہ نہ صرف افغانستان کی معیشت کو ترقی کی جانب کیوں نہیں ہو سکی بلکہ اس کی ترقی ایسا تھا جو محض بقاق کی بنیاد پر چل رہی تھی، برانڈنگ اور حقیقت کے درمیان افغانستان میں سب سے بڑا خلا ہے جس کو طالبان کی حکومت نہیں پورا کر سکتی۔
ماہرین کے مطابق طالبان کی اپنی ایسی طویل مدتی خودخوری کی سب سے نمایاں مثال خواتین کی تعلیم پر پابندی ہے، یہ بھی بات چیت نہیں ہو سکتی کہ طالبان کی اپنی رہنمائی میں ان کے اس دعویٰ کو پورا کرنا کبھی ممکن نہیں ہو سکتا، یہ بھی دکھایا جا رہا ہے کہ طالبان کی اپنی ایسی بیانیات بھی کمزور ہیں جس میں ان کے معاشی دعوؤں کو مسترد کرنے والی ورلڈ بینک کی رپورٹ کی بات ہے، یہ نہ صرف افغانستان کی معیشت کو ترقی کی جانب کیوں نہیں ہو سکی بلکہ اس کی ترقی ایسا تھا جو محض بقاق کی بنیاد پر چل رہی تھی، برانڈنگ اور حقیقت کے درمیان افغانستان میں سب سے بڑا خلا ہے جس کو طالبان کی حکومت نہیں پورا کر سکتی۔