افسوسناک خبر! گیس سلنڈر پھٹ گیا

ایسے حادثات کیسے ہو رہے ہیں؟ پچاس لاکھ کے گھر میں 10 ہزار سے زائد گیس سلنڈرز ہیں اور وہ سب بھی اس طرح کی انحطاطات کی وجوہیت نہیں پیدا کر رہے ہیں۔

ایسے حادثے میں گیس سلنڈر خریدنے والا ایک فرد ہوتا ہے جس کا انحصار صرف ایک گھر کی یاجوگ نہیں ہوتا بلکہ اس کو ملک بھر میں اپنی مصنوعات بہت سے لوگوں تک پہنچانے کی معیشتی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسے حالات میں اگر انحطاطات کے متعلق تحقیقات اور جांचاں ہونے تو اس حادثے سے محفوظ رہنا پائیز ہو گا۔

اس حادثے کی وجوہیت یہ نہیں ہوسکتی کہ اس فستیول میں ایسے لوگ تھے جو فیس بک اور انسٹاگرام پر اپنی رائے دیتے ہیں اور ابھی ہی وہی حادثہ واقع ہو گیا تھا جس کے بارے میں وہ لکھ رہے تھے۔
 
یہ خبر ایسے تو ہونے میں گنجان حیرانی مگر ہمت ہارنے کی بھی ہوگی کہ اس فستیول میں ایک دھماکہ جس سے لگبھگ 10 افراد زخمی ہوئے اور چار لوگ جان گئے تو یہ سمجھنا بھی مشکل ہوگا کہ کیسے ایک گیس سلنڈر اس قدر زہریلی गैस پر چل پاتا۔ اگرچہ انحطاطات کی تحقیقات جاری ہیں لیکن یہ بات یقینی نہیں کہ غبارہ پھلانے والا گیس سلنڈر صاف صافت خریدا گیا اور حفاظتی پابندیاں تو لگت تھیں یا نہیں، اس سے یہ بات بھی ٹھہر جائے گی کہ ایسے دھماکوں کی وہیں آئیں گا؟
 
اس دھماکے کے بعد اپنی طرف اشارہ کرنا بہت ہی معقول ہوگا۔ اس کے بعد پہلے سے ہی غبارہ پھلانے والے گیس سلنڈر پر دباؤ اور انہیں حفاظتی ضوابط پر عمل کرنا چاہئے تھا اور اب اس حادثے کے بعد بھی اس پر انہیں توڑنا نہیں چاہئے ۔ گیس سلنڈر کی ایسی قیمتی پالیسی جس سے لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں اندھیرا بھی نہیں پاتے ہیں، وہی بات ہے جو اس کے ناقدین اور Critics کے ذریعے کہی جاتی ہے۔
 
بھارتیوں کو ہمیشہ غم بہ گham کے ساتھ ہی ہونا پڑتا ہے، اس حادثے کی وہی وجوہیت تھی جو سبسے پہلے ہوتا ہے، ایک غلطی اور ناقص حفاظت کی پالیسی، گیس سلنڈر کو قیمتی جانوں کے ساتھ بھی بھگتایا جائے۔

پولیس کے لئے ہمیں ایسا تو کافی خوش کرنے والا ہے کہ وہ فوری طور پر جائیں وہاں پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کیں، لیکن اس حادثے سے ہمیں یہی بات سکھنی چاہیے کہ اگر ہم کوئی بھی گیس سلنڈر خریدتے ہیں تو اس پر ہماری پوری ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کی جांچ کرنا ہمیں چاہیے کہ یہ حفاظتی ضوابط کے ساتھ ساتھ کیا بھی ہوا ہے، فوری طور پر پہنچنے والوں کی نہیں، اس حادثے میں ہرکسی کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔
 
😱 یہ حادثہ بہت ہی غم کن ہے، چار لوگ جانوں کو ختم کر دیئے گئے اور کچھ لوگوں کو زخمی ہوئے تو کیا یہ ایک دھماکہ نہیں تھا جو اس وقت اس کے بعد ہوا ہو گیا، گیس سلنڈر کی قیمتی قیمت کا اچانک پتہ چلا ہے اور یہ بھی بات یہ ہے کہ فستیول میں موجود لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہتے تھے تو کیوں نہیں، یہ حادثے سے ہر کس کو چپکچا ہوا ہے۔
 
واپس
Top