کال آف ڈیوٹی پرو
Well-known member
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں واقعے کے ذمہ داروں کو ملازمت سے برطرف کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان سے یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ دوبارہ نوکری نہیں حاصل کریں گے۔
آئے دہر میں نیشنل ہائیوے ایکٹ کی ایک اہم جگہ پر ہونے کے ناطے مریم نواز نے ان واقعات کے حوالے سے رپورٹ طلب کی ہے جو 10 دسمبر کو نیشنل ہائیوے ایکٹ کے تحت لاہور میں واقع ہوئے تھے جس میں آئے دہر شہر کی پیدل فہرست پر زبردستی چکر لگایا گیا اور 5 افراد کو ہلاک کر دیا گیا،
جس کے بعد مریم نواز نے معذرت کی اور ان واقعات میں ان لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا جو اس حادثے کی غفلت کرتے تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو ایسے عہدیداروں کو گرفتار کرنا چاہئے جو ان واقعات میں ذمہ دار تھے، انہیں غفلت کے الزام میں مضبوط کیس کیے جائیں گے اور وہ دوبارہ نوکری نہیں حاصل کریں گے۔
اس حادثے سے متعلق مریم نواز نے کہا ہے کہ اس واقعے کی ذمہ داری تین لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو مجرمانہ غفلت کرتے تھے، اُن کے ساتھ بھی پورے پروجیکٹ کو منسلک کیا جائے گا اور وہ نوکری سے برخاست ہوں گے۔
آئے دہر میں نیشنل ہائیوے ایکٹ کی ایک اہم جگہ پر ہونے کے ناطے مریم نواز نے ان واقعات کے حوالے سے رپورٹ طلب کی ہے جو 10 دسمبر کو نیشنل ہائیوے ایکٹ کے تحت لاہور میں واقع ہوئے تھے جس میں آئے دہر شہر کی پیدل فہرست پر زبردستی چکر لگایا گیا اور 5 افراد کو ہلاک کر دیا گیا،
جس کے بعد مریم نواز نے معذرت کی اور ان واقعات میں ان لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا جو اس حادثے کی غفلت کرتے تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو ایسے عہدیداروں کو گرفتار کرنا چاہئے جو ان واقعات میں ذمہ دار تھے، انہیں غفلت کے الزام میں مضبوط کیس کیے جائیں گے اور وہ دوبارہ نوکری نہیں حاصل کریں گے۔
اس حادثے سے متعلق مریم نواز نے کہا ہے کہ اس واقعے کی ذمہ داری تین لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو مجرمانہ غفلت کرتے تھے، اُن کے ساتھ بھی پورے پروجیکٹ کو منسلک کیا جائے گا اور وہ نوکری سے برخاست ہوں گے۔