اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے ایسی پالیسی پیش کی جس سے اسرائیل کی حکومت پر انکوائری لگتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے یہ اعلان کیا ہے کہ ایسا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا جس سے غزہ بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
نیتن یاہو کے دفتر نے مزید یہ کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار غزہ بورڈ کے معاملے میں امریکی وزیرخارجہ مارکو رُبیو کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔
غزہ میں بورڈ آف پیس کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ تھا، جو سیکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے اور فلسطینی اتھارٹی اور حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرنے پر مبنی تھا۔
آج کے اعلان سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ بورڈ کو تشکیل دینے کی پالیسی پر خلاف دائرہ جاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
اسسٹیٹ انکریر ایجنسی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔
نیتن یاہو کے دفتر نے مزید یہ کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار غزہ بورڈ کے معاملے میں امریکی وزیرخارجہ مارکو رُبیو کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔
غزہ میں بورڈ آف پیس کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ تھا، جو سیکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے اور فلسطینی اتھارٹی اور حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرنے پر مبنی تھا۔
آج کے اعلان سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ بورڈ کو تشکیل دینے کی پالیسی پر خلاف دائرہ جاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
اسسٹیٹ انکریر ایجنسی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔