یہ پالیسی ہمارے خلاف ہےاسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل مسترد کر دی

راگ ساز

Well-known member
اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے ایسی پالیسی پیش کی جس سے اسرائیل کی حکومت پر انکوائری لگتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے یہ اعلان کیا ہے کہ ایسا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا جس سے غزہ بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے مزید یہ کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار غزہ بورڈ کے معاملے میں امریکی وزیرخارجہ مارکو رُبیو کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔

غزہ میں بورڈ آف پیس کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ تھا، جو سیکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے اور فلسطینی اتھارٹی اور حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرنے پر مبنی تھا۔

آج کے اعلان سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ بورڈ کو تشکیل دینے کی پالیسی پر خلاف دائرہ جاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

اسسٹیٹ انکریر ایجنسی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔
 
اسرائیل کی یہ پالیسی اس لئے ناکام ہونے والی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ غزہ بورڈ کی تشکیل سے انکوائری کا مطالبہ کیا گیا اور اس پر اسرائیلی حکومت کو تنقید ہونے والی تھی… اس لئے انہوں نے دوسرے طریقے تلاش کیے … اس سے وہ اپنے آپ کا خطرہ سمجھتے تھے۔ اور اب یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ اسرائیل نے دکھائی ہے کہ وہ کیسے اپنی حکومت کو مسترد کرنے کے لئے انکوائری سے باہر ہی چلتی ہے…
 
اسرائیل کی پالیسی سے مچھل مچھلی ہے... وہ نہیں چاہتے کہ غزہ میں کس ادارے کی تشکیل ہو۔ اس پر انکوائری کرنا بھی نہیں چاہتے... وہ کیسے چاہتے ہیں کہ غزہ میں ایسا ادارہ تشکیل رہے جس پر انکوائری کرے گی؟ اس کو سیکھنا مشکل ہے...
 
Wow 💥 ایسا نہیں ہوا سکیگرفارٹ نے غزہ میں بورڈ آف پیس کی تشکیل کو مسترد کر دیا ہے؟ ایسا کیا اسرائیل کے لیے مفید ثابت ہو گا? 💡
 
آج صبح پڑھی گئی نews بتاتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کر دیا ہے اور اب یہ پالیسی پر چل رہا ہے جس سے ان کو انکوائری لگتی ہے۔ میری نظر میں یہ ایک غیر منصفانہ پالیسی ہے، اس میں فلسطینیوں کے حقدار کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا، اب یہ اسرائیل کی حکومت کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ اٹھ رہی ہے۔ میری opinion میں، ان کی پالیسی کو منصوبہ سے واقف انکوائری نہیں کرتے تو کیسے ہو گیا؟
 
اسIsraeli کی government ka decision Ghaza Board ki formation ko reject karne ka hai, lekin agar koi question hai to Israel ki sarkar par investigation lagti hai. Nitan Yahvo ka office ne aik announcement kya hai ke koi connection nahi thi jo Ghaza Board ki formation ki demand kai gayi thi.

Iske baad, Natan Yahvo ka office ne bhi kaha hai ki Israeli foreign minister Gideon Sarsar Ghaza Board ki matter mein America ki foreign minister Marco Rubio se jude hue hain. Ghaza me Board of Peace ka khayal Trump ke peace plan ko ek hissa thi, jo security, human aid aur renovation plans mein coordination ko sahi banane aur Palestine authority aur government mein reforms karne par base tha.

Aaj ka announcement se pata chalta hai ki Israel ne Ghaza Board ki formation ki policy ko reject kar diya hai. State Department ne kaha hai ki White House ne Trump plan ke under Ghaza Board of Peace ke members ki names announce ki thi. Yeh decision kaisi hui hai, abhi bhi sawal hai...
 
واپس
Top