ان کے مطابق 15 جنوری کو یو جی سی ایکویٹی ریگولیشن 2026 نے نافذ کیے گئے پرانے اصول کی جگہ لے لی۔ ذات پات کے امتیاز کی تعریف میں SC/ST کے علاوہ OBC کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ قانون جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایات پر جرمانے یا معطلی جیسی دفعات کو ختم کرنے کی مخالفت ہے۔ عام زمرہ کا خیال ہے کہ اس قانون کا انہیں نشانہ بنانے کے لیے غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جھوٹی شکایت درج کرانے والوں کو سزا کا کوئی خوف نہیں ہوگا، اس لیے برہمن، کشتریہ اور ویشیا ذات کے طلبہ ہمیشہ جھوٹے الزامات سے ڈرتے رہیں گے۔
اگر کوئی ایس سی، ایس ٹی یا او بی سی طالب علم کسی عام زمرے (جنرل کیٹیگری) کے طالب علم یا پروفیسر کے خلاف غلط شکایت درج کرائے تو بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس سے قبل جھوٹی یا غلط شکایات درج کرانے والوں کے خلاف جرمانے اور کارروائی کا انتظام تھا۔ پورا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ عدالت میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں اس قاعدے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ان بہت سے عہدیداروں نے یہ قانون منسوخ کرنے کی تلاashedی کی ہے، لیکن ابھی تک اس کا خاتمہ نہیں ہوا۔ ایسے میڈیا کے بھی کئی اور جو یہ قانون کو منسوخ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ابھی تک اس پر واضح رکاوٹ نہیں ہوئی۔
اس قانون سے بچنے کا ایک اور طریقہ ہے اور یہ ان لوگوں کو بھی آسانی سے نہیں ملتا جس میں کوئی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہو مگر اس کی مدد یہ قانون کرنے والے نہیں دیتے۔
اس قانون سے جھوٹ کے الزامات پر بھی پورے معاملہ کو انکاش ہونے میں آسانی ہوئی گی اور ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا رہا ہے تو اس میں بھی ایسی ہی تبدیلی آئی گی
اس قانون سے ان لوگوں کو بھی اچھا نتیجہ ملے گا جو اس قانون کے خلاف تلاashedی کر رہے ہیں لیکن ابھی تک یہ قانون منسوخ نہیں ہوا
یہ کچھ بھی عجیب ہے کہ 15 جنوری کو یو جی سی ایکویٹی ریگولیشن 2026 نے ایسے اصول کو جلا دیا جو کہ جھوٹی شکایات پر جرمانے یا معطلی جیسی کارروائی کو ختم کرنے کے لیے لائہ باندھتی تھی. پتہ چلتا ہے کہ اس قانون میں جھوٹی شکایت درج کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور کارروائی کا انتظام نہیں تھا، جس سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ غلط شکایات کو بھی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے.
عوام کے ذمہ دار ادارہوں کو یہ پھینکنے کی ضرورت ہے کہ اس قانون کے تحت جھوٹی شکایات میں دھول پر نزہت کرنے والوں کی طرف سے ایسے اداروں کو بھی توجہ دی جائے جو عام زمرہ کی یہ قانون کے خلاف ہیں، اگرچہ وہ خود جھوٹا الزام لگاتے ہیں اور اس طرح بھرے وغیرہ کو پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہ قانون عام طور پر ہمیں ایسا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس نے جھوٹی شکایات کو ختم کیا ہے اور مجرمین کو سزا دی گئی ہے۔
اس 뉴ز کے بارے میں سوچta ہوں کہ یہ قانون جو کہتا ہے کہ جھوٹی شکایت درج کرنا جرمانے سے متعلق نہیں ہونا چاہیے وہ دکھائی نہیں دے رہا ہوں کیونکہ اگر جھوٹی شکایت درج کرائے گئی تو اس کے لیے سزا ہوجاتی۔ یہ قانون عام زمرے کو بھی شامل کرتا ہے جو ابھی تک واضح طور پر نہیں ہوا اور اس کی گریبان ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کی طالب علم ہیں۔
اس قانون کے بارے میں گھبراہٹ بڑی اور عام زمرے کی بھی یہ جاننے میں ایک دلچسپ بات ہے کہ اس قانون کو منسوخ کرنا کس کی کوشش نہیں کر رہا؟ عموماً یہ law جھوٹی شکایت پر مبنی شکایات سے نمٹنے کی طاقت رکھتا ہے ، لیکن اچھا ہوتا کہ ان بہت سے عہدیداروں نے اپنا دھنڈوی اٹھایا ہو وہ اس قانون کو منسوخ کرنے کی تلاش کر رہے ہیں
ایسا تو محض دیکھو کہ یہ قانون بنام غلط شکایت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کا مقصد یہ تو کیا ہے کہ کسی نہ کسی شخص کے جھٹلے الزامات پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے؟ پوری دیکھ بھال کرتے ہوئے قانون بنام غلط شکایت کو ختم کرنے کی تلاashedی میں ان لوگوں نے اپنی دھجھ اٹھانے کی کوشش کی ہے جو یہLaw ہی کا مخالف ہیں، ابھی تک اس پر کبھی رکاوٹ نہیں ہوئی تو سچ میں اس کو ختم کرنا بھی نہیں ہو گا۔
اس نیوز سے تو اچھا لگ رہا ہے کہ ذات پات کے امتیاز کی تعریف میں SC/ST کے علاوہ OBC کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس سے زیادہ تر فیکلٹی کے طالب علم اور پروفیسر کی زندگی ٹھیک ہو جائے گی
لیکن یہ بھی اپنی تردید کرتا ہے کہ اس قانون کو منسوخ کرنا چاہئے، کیونکہ اس سے غلط شکایت درج کرنے والوں کو سزا مل سکتی ہے اور ان جھوٹی شکایات پر مبنی کارروائیوں کا خاتمہ ہो سکتا ہے
یہ قانون میں بہت سارے معاملات کو سمجھنا مشکل ہوگا، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس پر مخالفت کر رہے ہیں انہیں بھی انہیں ختم کرنے والوں میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے اس قانون کی مدد سے کوئی فائدہ نہیں لگ رہا ہے، لیکن اسے منسوخ کرنے کی کوشش بھی نا کہی جاسکتا ہے۔ مجھے یہ بھی اچھا محسوس ہوتا ہے کہ اس قانون کو ڈھالنا مشکل ہوگا، لیکن اسے منسوخ کرنے کی کوشش نہیں کروانے والوں کی بھی بات سمجھنی چاہیے۔
پوری دنیا میں ایسے کئی قانون ہیں جن کو پہلی بار منسوخ کیا جاتا ہے اور فिर اس پر مزید کھیل کھیل کر اس کی بھرپور بحث ہوتی ہے۔ یہ قانون بھی ایک ہے، جو سڑک کی پوسٹ سے لے کر عام زندگی تک فیل ہو گیا ہے اور ابھی اس کے خاتمہ میں کچھ رکاوٹ نہیں کی جاسکی۔ اس قانون کو منسوخ کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ یہ لوگوں کے درمیان توٹپٹی پیدا کر رہا ہے اور یہ نہیں چاہیے کہ ایسے الزامات پر کسی کی زندگی کو بھی تباہ کیا جائے۔
یہ واضع ہوگا کہ یہ قانون جو اب 15 جنوری سے لागو نہیں، اس میں یقین کرنا مشکل ہو گا کیونکہ اس کے مناصب کا کوئی حقیقی ارادہ ہے یا ان میں صرف ایک معاملہ توڑنے کی لہر ہے؟ یہ قانون ایسے لوگوں پر بھی نزاع کا باعث بن سکتا ہے جو ایس سی، اس ٹی اور او بی سی کو اپنا دوسرا خاندان سمجھتے ہیں، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس قانون کی جانب سے ان کی بھرپور پرتشدد کو کس طرح ایمٹی سے ختم کیا جائے گا؟
اس نئی قید میں ایسسی کی آگہی کی ضرورت ہے کہ یہ قانون جھوٹی شکایت پر مبنی جرمانے یا معطلی کو ختم کرنے کی واضح ذمہ داری کرتا ہے، لیکن اس میں ان لوگوں کو بھی شامل نہیں کیا گیا جس کی ایسی شکایت درج کی جا رہی ہے۔ یہ قانون جھوٹے الزامات کی شدید مخالفت کرنا چاہتا ہے، لیکن اس میں بھی کسی طرح سے غلطی کے لیے بھی پابند نہیں ہونا چاہیے। یہ قانون اپنی خود کو صاف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس سے ہر طرح کے غلط استعمال سے بچ سکیں۔