سڑک سرکشا ابھیان کے دوران فلم اسٹار عالیہ بھٹ کی انکشافات نے بالی ووڈ میں ساڑھے پانچ گھنٹے لگے۔ انکشافات نے شہرت کی اداکارہ کو حال ہی میں منعقدہ ایک ایونٹ کے دوران دردناک واقعے پر آبدیدہ ہوائیں ڈال دیں، جس سے وہ شدید متاثر ہوئیں۔
امیتابھ بچن نے اس حادثے کی کہانی سنائی اور بتایا کہ جب انھوں نے عالیہ بھٹ سے بات کی تو وہ ایسی خاتون سے بات کر رہی تھیں جنہوں نے اپنے بیٹے کو کھو لینے کے بعد فوری مدد نہ ملنے کے نتیجے میں سڑک حادثہ ہوا تھا۔
ایک سنگین مسئلہ جو یہ واقعہ دیکھتا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ پولیس کارروائی کی وجہ سے حادثات کے متاثرین کی مدد سے گریز کر رہے ہیں۔
حالیہ واقعے کو سامنے لانے پر امیتابھ نے غمزدہ ماں کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ خاتون نے اپنا تجربہ عوام کے سامنے بیان کیا اور اس سے مستقبل میں دوسروں کو مختلف طرز عمل اپنانے کی دل سے کی گئی ایک اپیل تھی۔
امیتابھ نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے بعد میں خاتون کو آگاہ کیا کہ اگر ان کے بیٹے کو بروقت اسپتال پہنچا دیا جاتا تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔
امیتابھ نے کہا کہ یہ لمحہ عالیہ بھٹ کے لیے حد سے زیادہ جذباتی ثابت ہوا، جو خود تین سالہ بیٹی کی ماں ہیں، جس نے اپنے اس حادثے سے نکلنے کا ایک ایسا راستہ تلاش کیا تھا۔
امیتابھ نے بتایا کہ واقعے اور اس کے وسیع تر اثرات پر گفتگو کے دوران عالیہ بھٹ کو شدید متاثر ہو گیا تھا، جو وہیں بات جاری نہ کر سکے تھیں۔
امیتابھ نے عالیہ کی ردعمل کو ہمدردی اور اس دردناک کہانی کے جذباتی ردعمل کی عکاسی قرار دیا، جس سے وہ اپنی صحت بچانے کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہی تھیں۔
امیتابھ نے اس تکلیف دہ تجربے کو ایک بڑی آگاہی مہم میں تبدیل کرنے کی تجویز دی، جس کے ذریعے لوگوں کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ وہ خود یا ان کے اپنے پیارے ایسی ہی صورت حال کا سامنا کر سکتے ہیں۔
امیتابھ بچن نے اس حادثے کی کہانی سنائی اور بتایا کہ جب انھوں نے عالیہ بھٹ سے بات کی تو وہ ایسی خاتون سے بات کر رہی تھیں جنہوں نے اپنے بیٹے کو کھو لینے کے بعد فوری مدد نہ ملنے کے نتیجے میں سڑک حادثہ ہوا تھا۔
ایک سنگین مسئلہ جو یہ واقعہ دیکھتا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ پولیس کارروائی کی وجہ سے حادثات کے متاثرین کی مدد سے گریز کر رہے ہیں۔
حالیہ واقعے کو سامنے لانے پر امیتابھ نے غمزدہ ماں کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ خاتون نے اپنا تجربہ عوام کے سامنے بیان کیا اور اس سے مستقبل میں دوسروں کو مختلف طرز عمل اپنانے کی دل سے کی گئی ایک اپیل تھی۔
امیتابھ نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے بعد میں خاتون کو آگاہ کیا کہ اگر ان کے بیٹے کو بروقت اسپتال پہنچا دیا جاتا تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔
امیتابھ نے کہا کہ یہ لمحہ عالیہ بھٹ کے لیے حد سے زیادہ جذباتی ثابت ہوا، جو خود تین سالہ بیٹی کی ماں ہیں، جس نے اپنے اس حادثے سے نکلنے کا ایک ایسا راستہ تلاش کیا تھا۔
امیتابھ نے بتایا کہ واقعے اور اس کے وسیع تر اثرات پر گفتگو کے دوران عالیہ بھٹ کو شدید متاثر ہو گیا تھا، جو وہیں بات جاری نہ کر سکے تھیں۔
امیتابھ نے عالیہ کی ردعمل کو ہمدردی اور اس دردناک کہانی کے جذباتی ردعمل کی عکاسی قرار دیا، جس سے وہ اپنی صحت بچانے کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہی تھیں۔
امیتابھ نے اس تکلیف دہ تجربے کو ایک بڑی آگاہی مہم میں تبدیل کرنے کی تجویز دی، جس کے ذریعے لوگوں کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ وہ خود یا ان کے اپنے پیارے ایسی ہی صورت حال کا سامنا کر سکتے ہیں۔