طالبان رجیم کا نظام صحت کا درہم برہم تھا
طالبان رجیم نے افغانستان میں صحت کی پالیسیوں پر بے مثال اثر اندازی کروائی ہے، جس سے اس نظام کو عالمی ادارہ صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
افغانستان میں طالبان رجیم نے بنیادی علاج کی سہولیات کی کمی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 1 کروڑ 44 لاکھ شہری اپنی basic treatment کی سہولت سے محروم رہے ہیں اور اس سے زیادہ 30 لاکھ شہری علاج سے بھی محروم رہ چکے ہیں۔
طالبان رجیم کی پابندیوں نے خواتین کو اپنے حقوق تک رسائی کے راستے سے روک دیا ہے، جو کہ عالمی صحت کی سب سے بڑی چیلنجوں میں سے ایک ہے۔
افغانستان اس وقت پولیو کا عالمی مرکز بن گیا ہے جس کی بنیادی وجہ طالبان رجیم کی شدت پسندی اور نااہلی ہے، جو شہریوں کو شدید غذائی قلت سے بھی گریز نہ کر سکتی ہے۔
طالبان رجیم کے انتہا پسند پالیسیوں نے افغانستان میں صحت کی تباہuality کو ایک بڑی وجہ بن دی ہے، جو کہ دنیا بھر میں عالمی اداروں پر مجبور کر رہی ہے۔
طالبان رجیم نے افغانستان میں صحت کی پالیسیوں پر بے مثال اثر اندازی کروائی ہے، جس سے اس نظام کو عالمی ادارہ صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
افغانستان میں طالبان رجیم نے بنیادی علاج کی سہولیات کی کمی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 1 کروڑ 44 لاکھ شہری اپنی basic treatment کی سہولت سے محروم رہے ہیں اور اس سے زیادہ 30 لاکھ شہری علاج سے بھی محروم رہ چکے ہیں۔
طالبان رجیم کی پابندیوں نے خواتین کو اپنے حقوق تک رسائی کے راستے سے روک دیا ہے، جو کہ عالمی صحت کی سب سے بڑی چیلنجوں میں سے ایک ہے۔
افغانستان اس وقت پولیو کا عالمی مرکز بن گیا ہے جس کی بنیادی وجہ طالبان رجیم کی شدت پسندی اور نااہلی ہے، جو شہریوں کو شدید غذائی قلت سے بھی گریز نہ کر سکتی ہے۔
طالبان رجیم کے انتہا پسند پالیسیوں نے افغانستان میں صحت کی تباہuality کو ایک بڑی وجہ بن دی ہے، جو کہ دنیا بھر میں عالمی اداروں پر مجبور کر رہی ہے۔