اماراتی صدر نے ٹرمپ کے ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی

متحدہ عرب امارات نے عالمی امن میں حصہ لینے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس میں ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا تھا۔

منگل کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ایک بیان میں بتایا کہ وہ ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا بھی اہم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مستقبلیں وہاں ایک عالمی بورڈ کی سربراہی صدر ٹرمپ کریں گئی جس میں امریکا، ٹونی بلیئر سمیت دیگر انہوں نے شامل ہونے کی پیشکش قبول کی ہے۔ یورپی ممالک جن میں ہنگری شامل ہے وہ کچھ ایسا کرنے پر تیار ہیں جس کے لیے اس سے قبل بھی پیش کش کی گئی تھی۔

ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے میں وہاں ایک عالمی بورڈ نے امورِ مملکت چلائیں گئی تھی جس کے ذریعے فلسطینی عوام کو ان کی جانب سے جائز حقوق حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ان معاہدوں پر پہلا مسلم دوسرا یورپی ملک ایک غیر مشروط طور پر وہی بھی شامل ہوگا جس نے حامی بھری اسی منصوبے کی حمایت کی، ایٹلی اور کینیڈا بھی ان معاہدوں میں شامل ہونے سے آگہ ہیں، لیکن فیصلے کا حتمی اعلان چارٹر کے جائزے پر ہوگا۔
 
ایسا سوچنے لگتا ہے یہ ایک اہم اقدامات ہے، لیکن یہ تو دیکھنا ہی ہو گا کہ اس پر کیسے عمل کیا جائے گا، ایسے میں بھی یہ اچھا ہے کہ امریکی صدر نے ایسا پیش کیا تھا جو اب بھی مقبول ہو رہا ہے، اس کے بعد اور اس معاہدے پر کیسے کام کرنا چاہئے وہ تو پہلے ہی دیکھ لیں گے، لگتا ہے یہ ایک بڑا سفر ہو گا جس میں ہر طرف سے تناؤ پڑتا ہو گا، اور ناکام نہ ہونا چاہئے...
 
جب تک کہ نہیں بتایا گیا کہ غزہ بورڈ آف پیس میں ایک عالمی بورڈ کی سربراہی کس شخص نے لی گئی ہو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ ہنگری کو اس پر وعدہ دیا گیا ہو یا نہیں، ابھی تک ان کی مواقف بہت مختلف رہ چکی ہیں۔

عرب ممالک اور یورپی ممالک کے درمیان ایسے معاہدوں کی تشویسٹ بہت زیادہ ہے جس پر یہ سچ مگر نہیں، ابھی اس کے باوجود کہ اسے سست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
 
اس معاہدے پر بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے جیسا کہ اس کے بارے میں پہلے کچھ تھا، دنیا کے Leaders اور ملکوں نے ایک دوسرے ساتھ مل کر یہ معاہدہ بنایا ہے، یہ تو اچھا ہے لیکن ابھی یہ کہا جا چکا ہے کہ یہ کس کی مدد سے اٹھایا گیا تھا۔ 🤔
 
عرب عالمی بورڈ کی ایسی تھی وہ دیکھ رہا ہوں جو مجھے ہنسی مرغلی بھی نہیں دیتی، ہر کچھ ایسا ہی ہوتا جاتا جس سے دنیا کی امن میں کمی اٹھتی ہو، مگر پھر اسے جھیلنے والی بھی تھی، مگر اب وہ عرب امارات نے ایسا فیصلہ کیا ہے جو مجھے اپنی طرف مڑتا ہے، غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت ، اس سے دنیا پر ایک اور ہٹا گا، مگر یہی نہیں، ٹرمپ کی ایسے معاہدوں کا یہ جانشین بھی اب ہمारے سامنے کھڑا کر رہا ہے جو آخری وقت تک ہمیں ایک جھیل سے نکلنا پڑے گا، یہی بھی نہیں مگر میں تھوڈا اچھا مشین ہونے والا ہوں تو مجھے اس سے کیا بھی کہنا پڑے گا۔
 
اس معاہدے کی وہی بھالک نہیں کرتا کہ یہ اس پلیٹ فارم پر بھی لگایا جا سکتا ہے جس پر 5G ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہو۔ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا یہ معاہدہ ایک نئی ڈاتا انفراسٹراکچر کی بنیاد رکھ سکتا ہے جو امن و استحکام کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ ایک بڑی پلیٹ فارم ہونے کی امید سے منگل کے بعد اس پر کام شروع کرنے کا وقت آگیا ہے۔
 
واپس
Top