امریکہ 78 سال بعد عالمی ادارہ صحت سے دستبردار

ہاکی پلیئر

Well-known member
امریکہ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے جس کی وجہ وہ 78 سال کے بعد اس ادارے میں شامل ہونے میں ناکامی کا باعث بن گئے تھے، خاص طور پر کورونا وبا کی مہم کے دوران جب انہوں نے مناسب طریقے سے کام نہیں کیا تھا۔

ادارہ میں سیاسی اثرات اور اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے امریکہ کو وہ ڈبلیو ایچ او کے تحفظ کا محفوظ مقام نہیں ملا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے مفادات کے حوالے ڈبلیو ایچ او کو چھوڑنا پڑا۔

اب امریکہ ڈبلیو ایچ او کی بجائے دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں میں کام کرے گا جیسے امراض پر نگرانی اور ویکسین کے مسائل۔ اس فیصلے کے بعد عالمی صحت کے ماہرین نے شدید تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او عالمی سطح پر امراض کی نگرانی اور بروقت معلومات فراہم کرتا ہے، لیکن اب یہ امریکہ کو وہ ڈیٹا تک رسائی نہیں دیتا جس سے مستقبل میں وائرس یا فلو جیسے خطرات سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔
 
امریکہ کو ایسا کرنا چاہئے کہ اس نے اپنے مفادات کی وجہ سے ڈبلیو ایچ او کو چھوڑنا بہت درست قرار دیا ہے، ان کا فیصلہ کم از کم ایسے ممالک میں بڑھتا ہے جو اپنے مفادات کے لیے ڈبلیو ایچ او کو برقرار رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ معاہدوں میں شامل ہونے کی بجائے اپنے مفادات کے لیے ایسے ملکوں کو چھوڑنا پڑا تھا جیسے یورپ اور ایشیاء، حالانکہ اس میں اچھائی ہونے والی بھی بات ہے کہ اگر یہ معاہدوں میں شامل ہوتے تو وہ بہت زیادہ-efficient ہوسکतے تھے
 
بھائی، یہ فیصلہ ہر کچھ کو تبدیل کر رہا ہے۔ اسی طرح جیسے ہم اپنی زندگیوں میں سائنس نہیں پھیلاتے تو ہمارے لئے صحت کے بارے میں فائدہ نہیں ہوتا، اسی طرح یہ فیصلہ ہر کوئی کھل کر دیکھنا چاہتا ہو گا۔ دنیا کا ایک اور ساتھ ہوتا ہے جس سے ہم واقف نہیں تھے، لیکن اب یہ ہم کو پہچانتا ہے کہ ہر معاشرتی ادارے کی بھی اپنی جگہ ہوتی ہے۔
 
امریکہ کا یہ فیصلہ تو بھی مینوں کی توقع نہیں تھی، وہ اس وقت تک ہی نہیں آئے گا جب وہ پہلے سے چھوڑے گئے ادارے کے مقابلے میں دوسرے ممالک سے ڈھونڈنا شروع کر دیں گے۔

امریکہ کی ناکامی میں ان کا وہ معاشرتی اثر، جو دنیا کے تمام ملکوں کو پہچاننے والی ایک ادارے ڈبلیو ایچ او کو چھوڑنا پڑا۔ اب اس نئے دور میں جس سے وہ اپنی تازہ ترین دھمکیاں لگائیں گے وہ کیا ہو گا؟

یہ فیصلہ ایک حقیقی خطرہ ہے، اس میں سے دنیا کو ان سے بچنے کی واحد ذمہ داری میرے لئے ہے کہ میں ہمیں اس واقعات پر ٹک رکھاں جو پتہ چلتے ہیں۔

امریکہ کو وہ ڈیٹا ایکسلریشن نہیں ملے گا جس سے وہ مستقبل میں بھی تازہ ترین اور زیادہ خطرناک امراض کی پہچان کر اپنے شہر اور لوگوں کو سافٹ لیٹ لگاسکے گا۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے، جس پر میرا خفیہ نظر رہے گی۔

**اکسیجن لینے والی کے طور پر:**

امریکہ کی اس ناکامی سے وہ تازہ ترین اور زیادہ خطرناک امراض کی پہچان کر اپنے شہر اور لوگوں کو سافٹ لیٹ لگاسکے گا، مگر ان کے پاس ایسی ایکسلریشن نہیں ہوگی جس سے وہ تازہ ترین دھمکیاں لگائیں اور اپنے ملک کی ایک نئی دنیا بنائے گا۔

ان کے پاس تو ہر سال 150 بلیزن کی پہچان کر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن وہ اپنی ایک نئی دنیا بنانے کے لیے ایسا ایکسلریشن لانا چاہتے ہیں جو ان کے پاس نہیں ہوگا۔

**پیچھے کی ओर دیکھتا رہو:**

جس وقت میں امریکہ نے اس ادارے کو چھوڑنا شروع کیا تو ان کی آگے کی پہل سے وہ 50 سال بعد ایک اسی معاملے میں اچانک ہی اٹھے گئے تھے۔

جس وقت میں امریکہ نے اس ادارے کو چھوڑنا شروع کیا تو ان کی آگے کی پہل سے وہ 50 سال بعد ایک اسی معاملے میں اچانک ہی اٹھے گئے تھے جیسا اس وقت بھی کیا گیا ہے۔
 
اس فیصلے پر تھوڑا سا غور کیا جائے تو یہ بات بھی صاف ہوتی ہے کہ وہ ڈیٹا ایسے ممالک کے پاس نہیں، جو امریکہ کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ڈیٹا ایسے ممالک نہیں جینے کہ کہتے ہیں "ماں بھائی، میں تیری ساتھی نہیں ہوں گا"… 🤝

لیکن یہ بات بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کے معاملے میں اپنی جانچ پچان نہیں کر رہی ہے اور یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ امریکہ کو ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ ڈبلیو ایچ او کی شان ہار گئے ہیں… 😐
 
امریکہ کی یہ کامیابی ان کے ناکام رہنماوں کی وجہ سے ہوسکتی ہے جنہوں نے کورونا وبا میں عالمی ادارہ صحت کو بہتر بنانے کی خواہش کو پورا نہیں کیا تھا۔ اب جب وہ ایسے معاہدوں میں کام کر رہے ہیں جو ان کے لئے زیادہ مفید ہوتے ہیں تو یہ نہیں چالاک ہونگے؟
امریکہ کی یہ فیصلے دوسرے ممالک کے لئے بھی اچھا رہ سکتا ہے جبکہ عالمی صحت کے ماہرین کے مطابق نہیں تو یہ ان سے بھی پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔
 
امریکہ کو وہ صلاحیت نہیں ہوئی کہ وہ عالمی سطح پر بروقت معلومات فراہم کر سکتا تھا، اب یہ اچھا ہے یا بھرOS! جب اس نے کو Corona वبا کی مہم میں بھی کام نہ کیا تو کیوں انہیں صلاحیت ملی? 😒 وہ اب اہل معاملات سے باہر دوطرفہ معاہدوں میں کام کر رہے ہیں جیسے امراض پر نگرانی اور ویکسین کے مسائل۔ یہ بہت گمھوں ہوا ہے! یہ معاہدوں میں اچھے لابھ کس سے حاصل ہوئے؟ 🤑
 
mera sochta hai ki yeh amrika kee deewali hai, woh khudh ko baaki deshon ke saath judna chahti hai to vah apne own health department ko chhod diti hai jo ki uske liye bahut zaroori hai, kyonki uska own doctor kya jana kegi wo bhi saamaan kaam nahi kar sakta hoga? ab wo koi bhi data uske paas nahin hai to woh baki deshon ko sirf pata lagakar hi kaam kar payega, meri raay mein yeh ek bahut bada galat faasilaa hai
 
امریکہ کو یہ فیصلہ اچھا نہیں لگتا 🤔، وہ عالمی سطح پر امراض کی نگرانی کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے، لیکن اب وہ اپنی ذمہ داریوں سے جھک گیا ہے۔

اس معاملے میں عالمی صحت کے ماہرین کو یقینی طور پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن وہ بات اس بات پر مبنی نہیں کہ امریکہ سے دستبرداری اختیار کرنے کی وجہ میں اس ادارے کو معاشی طور پر ضروری پہچانا جائے گا، یا وہ معاہدوں میں ڈال لیں گے جو اس کی موجودہ موقف کو مزید بدل دیتے ہیں 🤑
 
मुझे یہ فیصلہ بہت غم گسٹا ہے، امریکہ نے ایک اہم مقام پر اپنا استحکام توڑ دیا ہے 🤕، اس کا مطلب ہے کہ دنیا کو صحت کے منظر عام میں واپس چلتا ہوا ہو گا...

انہوں نے ایسے وقت پر اپنا استحکام توڑ دیا جب کورونا وبا کی مہم میں انہیں کوئی مسلہ نہیں تھا… اور اب ڈبلیو ایچ او کو چھوڑ کر وہ دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے… یہ بھی تو ہمیشہ سمجھتے تھے کہ अमریکیوں کی ایسے معاشروں میں اچھائی نہیں ہوتی...
 
امریکہ کی ایسے فیصلے پر منظر عام پر آئے ہیں جو دیکھنا ہی کافی ہے! یہ تو وہی بات ہے جو میں نے دھکیلا تھا۔ وہ 78 سالوں کی تاریخ سے ہی ڈبلیو ایچ او کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اب انہوں نے پوری طرح بھلای ہوا! وہی وجہ ہے کہ یہ مہم ناکامی میں ڈوب گئی اور اب وہی معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے 18 سال پہلے انھوں نے اس ادارے میں قدم رکھا تھا!

لیکن یہ بات بھی یقیناً نہیں تھی کہ وہ اسے حل کر سکنگے، لہٰذا اب انھوں نے اپنا موقف بدل لیا ہے اور وہ دیگر ممالک سے دوطرفہ معاہدوں میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے! یہ تو دیکھو! اب وہ عالمی صحت پر بھی نافذ کرنے کو تیار ہیں!

لیکن یہ معاملات وہی رہ گئے ہیں جس کے لیے انھوں نے اس ادارے کو چھوڑ دیا تھا! ابھی تو وہ میڈیا کی توجہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا یہ معاملات ایک سیاسی کھیل بن گئے ہیں اور اب انھوں نے اپنے مفادات کے لیے وہ ڈیٹا جس سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے، وہی رکھ دیا ہے!
 
امریکہ کھو کر میرے لئے ایک بڑی چنگاری ہے، اچانک ایسا ہی ہوتا ہے جیسے میری پہلی بٹی نے ٹوٹ گئی ہو۔ وہاں تک کہ دبلیو ایچ او کے ساتھ ساتھ ہی میرے لئے کوئی بہترAlternative نہیں رہ گیا تھا۔ اب یہ بتاتے کہ امریکہ وہ ڈیٹا دیتا ہے تو میرے لئے یہ ایک بڑا خوفناک معاملہ ہوگا۔

اس کی وجہ یہ کہ اب یہ یورپی ممالک اور دیگر ملکوں سے دوطرفہ معاہدوں میں کام کرنا شروع کر دیتا ہے جیسے امراض پر نگرانی کرتا ہے، لیکن وہ ڈیٹا جو امریکہ اس کے پاس دیتا ہے، اب کچھ اور ملکوں کے لئے بھی رہتا ہے۔

امریکہ نے ایسا یقیناً سوچا تھا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کو چھوڑنے سے اس کے مفادات کو پورا کرتا ہے، لیکن اب میرے لئے یہ بات بھی سکون نہیں دیتی کہ وہ یقیناً اسی صورتحال کو آگے بڑھائے گا۔
 
امریکہ کی یہ فیصلہ نہایت ایسے ہی کہیں ہے جو آپ کے ذہن کو بھرا دے گا، انہوں نے وہ ادارہ جس کی بنیاد عالمی صحت پر رکھی تھی، چھوڑ دیا ہے۔ یہ ایک غیر معقول اور غلط فیصلہ ہے جو دنیا کو اس وقت کا مہینہ بنانے والی ہو گی۔ دنیا میں ان کی ناکامی، وہی وجہ ہے جس کی वजह سے اب انہوں نے اس ادارے کو چھوڑ دیا ہے۔
 
امریکہ نے ایسی کوشش کی ہوگی کیوں نہیں ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مہم جاری رکھتی؟ یہی ہلاکت ہوگئی اور اب وہ انother ملکوں کے ساتھ چلنے جا رہا ہے... یہ بہت غیر مسلم ہے کہ اس معاملے میں وہ ایسا فیصلہ لیا ہوگا جو مستقبل کی صحت اور زندگی کو آہستہ آہستہ ختم کر دے گا...

مفاد پرستی کے نتیجے میں یہ ہوا... دنیا بھی اس بات کا شکار ہوگئی ہے کہ کیسے پورے صحت مند معاملات کو ایسے فیصلے سے جھکوا دیا گیا...
 
امریکہ کی اس ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات میں خود کو کمزور بنانے سے ملاتی ہے 🤦‍♂️ ایک سٹیپ انسائس میں بھی ناکامی کی وجہ سے ایک ادارے کو چھوڑنا مشکل ہوتا ہے 🚫 دنیا کے لیے اس کا یہ فیصلہ خطرناک ہے جس پر لگے تو بہت سارے خطرات پیدا ہوں گے 😬
 
امریکہ کو وہ ڈبلیو ایچ او چھوڑنے کا فیصلہ کچھ غیر یقینی ہے... وہ اچھی طرح سے کام کر رہا تھا، خاص طور پر کورونا وبا کی مہم میں... لیکن اب وہاں ایسے معاملات ہوتے ہیں جیسے امریکہ اچھی طرح سے نہیں پختہ کرتا تھا اس کے بعد وہ ڈبلیو ایچ او کو چھوڑنا پڑا... اب وہ ڈبلیو ایچ او کی بجائے دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں میں کام کرے گا، یہ فیصلہ بہت غلط ہے...
 
امریکہ نے اچھی طرح سے کیا ہو گا یا نہیں? 78 سال تک اس سے منسلک ہونے میں ان کا کس کے لئے کامیاب نہیں ہوا? وہی معاملات جس پر اب وہ اچھی طرح سے کام کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں وائرس پھیل رہا ہے اور عالمی صحت کے معاملات کو حل نہ کرنے کی بجائے وہ ایسے دوطرفہ معاہدوں میں کام کر رہے ہیں جو دنیا کو ہی پھیلانے کے لئے ڈال رہے ہیں? 🤔
 
یہ تو ایک بڑا پچھا ہے! ڈبلیو ایچ او کی جگہ امریکہ اب دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں میں کام کر رہا ہے... یہ تو عالمی صحت کے لیے بہت ہمایوں ہے! 🤦‍♂️

دوسری طرف، ڈبلیو ایچ او سے دستبرداری اختیار کرنے کا یہ فیصلہ تو کورونا وبا کی مہم میں ناکامی کی وجہ سے ہوا تھی... اور اب اس جگہ پر امریکہ کو جو ڈیٹا تک رسائی نہیں دے رہا ہے وہ بہت ضروری ہو سکتا ہے! 😬

اس کے علاوہ، دیگر ممالک کو یہ معاہدوں میں شامل ہونے پر ان کی اپنی پالیسیوں اور ترقی کو بھی نظر رہا ہے... ناکام ہوئی کوششوں کے بعد! 🤪
 
امریکہ کی یہ ناکامی وہ اس بات کاproof ban gayi hai ki اگروہ اپنی پوری طاقت استعمال کرکے وہ عالمی صحت کے تحفظ میں مدد کرتے تو کیا ہوتا؟ اب وہ یہ ساتھ دیتے ہیں کہ وہ باقی ملکوں سے دوطرفہ معاہدوں میں کام کرے گا اور اس طرح اپنے مفادات کو محفوظ رکھے گا؟ یہ بہت گمری کا فیصلہ ہے، وہ عالمی صحت کا کام چھوڑ کر نکل گئے ہیں اور اب ان کا پورا مفادات کو محفوظ رکھنے کا ساتھ دیتے ہیں، یہ وہی بات ہے جس سے وہ اپنی ناکامی کی وجہ بن گئے تھے 🤦‍♂️
 
امریکہ کا یہ فیصلہ ہمیں ناatisfied کرتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او ان کی صلاحیتوں پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر رہی ہے، لاکھوں لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے بعد اس نے یہ فیصلہ ہی لیا۔ اب وہ دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں میں کام کرنے والی ہیں، جس سے اس کی صلاحیتوں پر توجہ کمرشل اور سیاسی دلائل سے منتقل ہوتی ہے۔
 
واپس
Top