امریکا کا انتباہ

فلمساز

Well-known member
امریکا نے کینیڈا کو چینی الیکٹرک گاڑیاں اندرامد دینے پر سخت ردِعمل دیکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے پچھتنا پڑے گا۔

واضع ہے کہ کینیڈا نے پچھلے سال ایک صریح عائد کیا تھا کہ چینی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیرف رکھنے والا ایک فاصلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ تاہم بیجنگ میں ایک معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے جس سے چینی الیکٹرک گاڑیوں کو صرف 6.1 فیصد ٹیرف پر اندرامد کی جا سکتی ہے اور یہ صرف کینیڈا تک محدود رہے گی۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ انفراسٹرکچر شان ڈفی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ غلط تھا اور چینی گاڑیاں امریکا میں داخل نہیں ہونگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ عرصے قبل یہی کہا تھا کہ وہ چینی کمپنیوں کو अमریکا میں گاڑیاں تیار کرنے کی مہم جاری رکھتے ہیں لیکن اب بھی وہ چینی گاڑیوں کے خلاف ہیں۔
 
اس فیصلے سے پہلے یہ بات جانتے تھے کہ ایسے معاہدوں پر عمل نہیں کیے جا سکتے تھے، لیکن اب وہ فیصلہ اس طرح لائے ہوئے ہیں کہ یہ کینوں کو اپنے آپ میں چبایا جاتا ہے... 😐

امریکی صدر نے انہیں اپنی مدد کی تھی، لہذا اب وہ اپنی مدد کا معیار بھی بنے ہوئے ہیں... اور اس سے یہ بات بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکی ریاستیڈوں میں بھی ان کی اپنی پابندیاں موجود ہیں... کینداء کو اب اس معاہدے سے پچتنا نہیں آئے گا اور یہ معاہدہ امریکی ریاستیڈوں پر بھی اپنے اثر ڈالا ہوا ہے...
 
یہ تو لالچ کا مقصد ہے... امریکا نے کینیڈا کو ایک چینی الیکٹرک گاڑی میں داخل کرنے پر روک دیا ہے اور اب وہ اسے پچھتنا پڑے گا... یہ وہی معامله ہے جس کے لئے وہ بہت مہنتم تھے لیکن اب وہ کenyada کو ایک چینی الیکٹرک گاڑی کی طرف کشتے جا رہے ہیں... میں نے کچھ عرصے قبل انسافن کہا تھا کہ اگر کچھ ملک ایسی معاملة کریں گے تو وہ اس سے بڑھ کر ناکام ہو جائیں گے...
 
میں نہیں یہی کہا کرتا ہوں کہ یہ معاہدہ تو کینیڈا کی جانب سے ایک بڑا فائدہ ہے کیونکہ وہ چین کے ساتھ اپنی بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے میں کام کر رہی ہیں اور یہ معاہدہ انھیں ایک اچھا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی ٹیرف کی منصوبوں کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے تیار کر سکیں اور ایسے سے یہ معاہدہ انھیں بین الاقوامی تعلقات میں بھی مضبوط بناتی ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ ایمریکا اور چین دونوں کو پچھتنا پڑ رہا ہے، لیکن یہ بھی تو چینی گاڑیاں ان کے اپنے حوالے میں ہیں اور وہ انہیں اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور اس لیے وہ اس سے ناکام نہیں رہنہ گئے।
 
یہ بات سچ میں تھی کہ یہ چینی الیکٹرک گاڑیاں بہت اچھی ہن، لیکن اس پلیٹ فارم پر ٹیرف رکھنا ایسا ہی معقول نہیں ہوا کے یہ وہ چینی کمپنیوں کو آسان کر دیتی ہیں جو اپنے گاڑیاں بناتے ہیں۔ اب بھی امریکی سڈی نے ایسے فیصلے پر ہمیشہ توجہ نہیں دی، یہ بتایا کہ وہ چینی گاڑیاں امریکا میں داخل نہیں ہونگی، لیکن اب انھوں نے ایک معاہدے پر ہاتھ پٹایا جو کہ یہی بات کہتی ہے۔

آج کی دنیا میں پچاس سال ہی گزرے ہیں، اور اب بھی ہم لوگ ایسے ٹیکنالوجیز پر فیکٹر کر رہے ہیں جو 10 سाल بعد لازمی بن جاتے ہیں۔ یہ بتانے والا کوئی بھی فیصلہ، ابھی تک ٹیکنالوجیز کی دنیا میں ہر بات سچ نہیں ہوتی ہی، اور یہ بھی تو آگے آئی.
 
ایسا لگتا ہے کہ اس معاہدے نے پورے عالمی سڑکوں پر ایک بھی چینی گاڑی کو شامل کرنے کا باعث بن گیا ہے۔ کینہ 6.1 فیصد ٹیرف پر چل سکتی ہے؟ یہ کتنا آسان ہوگا امریکی سڑکوں پر ایسے گاڑیوں کو شامل کرنے، جن کے لیے پورے عالمی سڑکوں پر کسی بھی ٹیرف کی موجودگی نہیں ہو سکتی ہے اور ایسا کیسے ہوسکے گا؟
 
واپس
Top