امریکا، ایران مکالمے کی حقیقت | Express News

چڑیا

Well-known member
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات وچھلتی چلی گئیں جس کے نتیجے میں وائٹ ہاؤس میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے بعد مذاکرات جاری رکھیے گئے۔

امریکا کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں دیے گئے بیانات نے عالمی سیاست میں امریکی کردار کا ایک اچھا مظاہرہ کر دیا جس میں طاقت، دباؤ اور مذاکرات دونوں عناصر شامل ہیں۔

ایران کی جانب سے بھی انبیانات آئیں جنھوں نے ایران کے مذاکراتی معاملے میں اس کی پالیسی کو سمجھنے کی ترغیب دی ہے اور یہ بات یقینی کرنی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس کے مقاصد کے لیے پہلے سے توازن برقرار رکھتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات دیرینہ رہے ہیں جس کی بنیاد 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے رکھی گئی ہے اور اس سے لے کر امریکا ایران کے ساتھ طاقت، دباؤ اور دھمکیوں کی سیاست نے ان تعلقات کو مزید جڑنے میں مدد دی ہے۔

ایک بار پھر وائٹ ہاؤس کا بیانات ایک حقیقت پسندانہ رویے کو ظاہر کرتے ہیں جس سے دونوں فریق ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔

آج کے مذاکرات میں امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر معاہدے تک پہنچنا نہ ہو گا تو برے نتائج نکل سکتے ہیں جس پر ایران کی قیادت پر بات چیت منصفانہ اور دھمکیوں کے بغیر ہونے کی توجہ دی جا رہی ہے۔

امریکی صدر نے اس کے بیانات میں ایک حقیقت پسندانہ رویہ ظاہر کیا ہے جو ایران کی قیادت پر بھی اچھی طرح محسوس ہوتا ہے، جس سے وہ اپنے معاشی، سلامتی اور سیاسی مفادات کو یقینی بنانے میں مدد پاتی ہے۔

ایران کی جانب سے بھی اس بات کی توجہ دی جا رہی ہے کہ طاقت کی زبان کے سامنے جھکنا نہیں۔ ایرانی صدر نے اپنے وزیر خارجہ کو یہ اہلیت عطا کر دی ہے کہ دھمکیوں اور غیر معقول مطالبات سے پاک ماحول میں بات چیت کی جائیں۔

یہ دونوں فریق کے لیے ایک نازک کردار ہے، کیونکہ کسی ایک طرف کی جانب جھکاؤ بھی ناکام proves ثابت ہوسکتا ہے اور واضع طور پر اس معاملے میں دیکھنا مشکل ہے کہ کس طرف سے یہ جھکاؤ ہو گا۔

ایران کی جانب سے اپنے بیانات میں ایک حقیقت پسandanہ رویہ کو ظاہر کیا گیا ہے اور انھیں اس بات یقینی کرنی ہے کہ وہ طاقت کی زبان کے سامنے جھکنے سے پہلے سے توازن برقرار رکھتا ہے۔

اس لیے یہ معاملات اس وقت تک صرف موجودہ حالات تک محدود ہونے سے بچ نہیں سکتے اور حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگئے ہیں، کیونکہ اس معاملے میں پانی پالنے والا کسی نے بھی انحصار کرنا نہیں سکتا اور ایسے میں کسی بھی نئے مذاکراتی عمل کو صرف موجودہ حالات تک محدود رکھ کر دیکھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔
 
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک نئی دور ہو رہا ہے جس کی بنیاد وائٹ ہاؤس کے بیانات پر رکھی گئی ہے جو ایک حقیقت پسandanہ رویہ کو ظاہر کرتے ہیں۔

ان بیانات سے پتا چلتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے مفادات کو سمجھنے کی جانے لگے ہیں اور طاقت، دباؤ اور مذاکرات کے تناذیر کی زبان سے پاک چلتے ہیں۔

لیکن یہ بات بھی پتا چلتا ہے کہ ایران کے جانب سے اس معاملے میں توازن برقرار رکھنے کی توجہ دی جا رہی ہے اور طاقت کی زبان کے سامنے جھکنا نہیں ہوگا۔

اس لیے یہ مذاکرات ایک حقیقت پسandanہ رویہ سے ہوئے ہوئے اور دونوں فریقوں کو اپنے مفادات کو سمجھنا چاہیے اور توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 💡
 
علاج وغیرہ .. مگر یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس میں دوسری طرف جانب سے زیادہ دبلچیک نہیں تھی ... آمادے میں آگے بڑھنا چاہتے ہو تو ایک جگہ اور پھر ایک جگہ ...
 
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات نہیں وچھلتی چلی گئے، وائٹ ہاؤس میڈیا سے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے بعد مذاکرات جاری رکھیے گئے 🔄.

امریکا کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں دیے گئے بیانات نے عالمی سیاست میں امریکی کردار کا ایک بہت اچھا مظاہرہ کر دیا، جو طاقت، دباؤ اور مذاکرات دونوں عناصر شامل ہیں 💪.

ایران کی جانب سے بھی انبیانات آئیں جنھوں نے ایران کے مذاکراتی معاملے میں اس کی پالیسی کو سمجھنے کی ترغیب دی ہے اور یہ بات یقینی کرنی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس کے مقاصد کے لیے پہلے سے توازن برقرار رکھتا ہے 🤔.

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات دیرینہ رہے ہیں جس کی بنیاد 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے رکھی گئی ہے اور اس سے لے کر امریکا ایران کے ساتھ طاقت، دباؤ اور دھمکیوں کی سیاست نے ان تعلقات کو مزید جڑنے میں مدد دی ہے 💥.

ایک بار پھر وائٹ ہاؤس کا بیانات ایک حقیقت پسandanہ رویے کو ظاہر کرتے ہیں جس سے دونوں فریق ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے پر آمادہ ہوئے ہیں اور اس معاملے میں دھمکیوں کے بغیر بات چیت منصفانہ ہونے کی توجہ دی جا رہی ہے 🙏.

اس لیے یہ مذاکرات ایک نازک کردار ہیں، جس میں کسی ایک طرف کی جانب جھکاؤ بھی ناکام proves ثابت ہوسکتا ہے اور اس معاملے میں دیکھنا مشکل ہے کہ کس طرف سے یہ جھکاؤ ہو گا 🤔.
 
ایسا لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی پہلی بیانات میں ان کا ایک نئا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس سے اس کے معاشی، سلامتی اور سیاسی مفادات کو یقینی بنانے کی لڑائی کھیلنے میں مدد ملے گی 🤑

اس بات پر خاص توجہ دی گئی ہے کہ ایران کی جانب سے طاقت کی زبان کے سامنے جھکنا نہیں ہوگا اور وہ اپنی جانچھائیں رکھنے کی لڑائی بھی کھیلے گا 🙏

لیکن یہ بات دیکھنی ہے کہ ابھی تک اس معاملے میں کسی نے جانچھائی ہی نہیں س کیا ہے اور ابھی تک وہاں ایسے لڑائی میں پھنسنا ہوتا دیکھنا مشکل ہو گا ہمیشہ کچھ جھگڑے ہی رہتے ہیں تو یہی ہوگا 🤔
 
ایسے میں بھی بات آئی اِس سے پہلے کہ ایران کی جانب سے جھیلے حالات کو سامنے لیتے ہوئے انھوں نے معاشی مداخلت کا یقین دلی ادراک کیا تھا، حالانکہ وائٹ ہاؤس کے بیانات میں اس بات کو کبھی نہیں پکہایا تھا۔
 
سے کہا: آج یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا اور ایران کی دونوں جانب سے دوسرے معاملات میں بھی ایک ہی حقیقت پسandanہ رویہ ظاہر ہوا ہے جو ان دونوں معاملوں کے لیے ایک اچھا مظاہرہ ہے۔
 
امریکی صدر کی وائٹ ہاؤس میڈیا سے گفتگو کرنے کا بیانات نے انہیں ایک اچھی طرح آئندہ کھیل دیا ہے جو انہیں اپنی پالیسیوں کی جانب سے واضع طور پر کام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
 
میری نجی گالی میں یہ بات پھیلائی جائے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے دیے گئے بیانات میں ایک حقیقت پسندانہ رویہ ظاہر ہوا ہے، لیکن یہ بات پھیلائی جائے کہ وہ آپنے مفادات کو یقینی بنانے کے لئے ایسا کیا رہا ہے، کیونکہ ایران نے بھی اپنے بیانات میں حقیقت پسندانہ رویہ ظاہر کیا ہے لیکن وہ اپنے مفادات کو یقینی بنانے کے لئے ایسا کیا رہا ہے۔ میری نجی گالی میں یہ بات پھیلائی جائے کہ دونوں فریقوں کی جانب سے حقیقت پسندانہ رویہ ظاہر ہونے کے باوجود ان کے مفادات کو یقینی بنانے کے لئے وہی strategi ka istemال کر رہے ہیں جو آپنے لئے چاہتے ہیں۔
 
مگر یہ انبیانات ایسے لے کر آ رہی ہیں کہ ہم آخر جب تک پانی پال سکتے ہیں کچھ لازمی بات کرتے رہتے ہیں، پانی تو ابھی تو بھی موجود ہوتا ہے لیکن اس میں جاننا چاہتے ہیں کہ اس میں کیا ہوا، یہی بات ہر مذاکراتی معاملے میں حقیقت سے آنکھیں چرانے کا سب سے بہترین طریقہ ہوتا ہے!
 
عہد حاضر میں سیاسی معاملات کیسے حل کیے جائیں? America Iran ke beech kehni wali baatein suni jain. Maine socha hai ki Iran ki sarkar apni gatividhiyon ko alag se karna chahiye, ya phir America ki sarkar Iran par dabav rakhna chahiye. Yeh sab kuch ek doosre ke liye mushkil hota hai... 😐
 
بہت مایوس کن بات یہ ہے کہ اس معاملے میں دیکھنا مشکل ہے کہ کس طرف سے جھکاؤ ہو گا۔ ایران کی جانب سے ایک حقیقت پسandanہ رویہ ظاہر کیا گیا ہے، لیکن وہ اسی معاملے میں پانی پالنے والا نہیں ہوا، جبکہ امریکی صدر نے ایسا کیہ ہے۔

مذاکرات میں کسی بھی طرف سے جھکاؤ ہو جانے کے نتیجے میں حقیقت سے آنکھیں چرانے والا معاملہ ایسا ہی نہیں رہ سکتا۔
 
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک حقیقت پسandanہ رویہ سے ظاہر کیا گیا ہے، جیسا کہ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر معاہدے تک پہنچنا نہیں تو برے نتائج نکل سکتے ہیں، لیکن ان بیانات میں ایران کی جانب سے بھی ایک حقیقت پسandanہ رویہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ معاملات اس وقت تک صرف موجودہ حالات تک محدود نہیں رہ سکتیں اور اب یہ پورا معاملہ حقیقت سے آنکھیں چرانا ہوگا، کیونکہ ابھی تک کسی بھی نئے مذاکراتی عمل کو صرف موجودہ حالات تک محدود رکھ کر دیکھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔
 
اس معاملے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے امریکی صدر کے بیانات میں ایک نئی روایت پیدا ہوئی ہے جس سے ایران کی جانب سے بھی اچھی طرح محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس کو دیکھتےसमے میرے پاس یہ سوچنا ہے کہ کیا یہ بیانات حقیقت کے مطابق نہیں۔
 
🤝💬 امریکا اور ایران کی مذاکرات میں ایک نازک کردار ہے، اس میں دونوں طرف سے اپنی جانب سے اچھی طرح محسوس کرنا مشکل ہے۔

🤔💭 یہ بات پورا معاملہ ہے کہ اگر کسی ایک طرف کی جانب جھکاؤ ہو گا تو دوسری طرف ناکام proves ثابت ہوجائے گا۔

😬💥 اس لیے یہ معاملات صرف موجودہ حالات تک محدود نہیں سکتے اور حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگئے ہیں، اگر کسی نے بھی انحصار کرنا نہیں سکتا اور ایسے میں کوئی بھی نئے مذاکراتی عمل کو دیکھنا چاہئے۔

🙏💬 ابھی تک اس معاملے کا جائزہ لینا مشکل ہوگئا ہے کیونکہ دونوں طرف سے ایسے بیانات چلائے گئے ہیں جنھیں پورا معاملہ سمجھنا مشکل ہے۔
 
واپس
Top