امریکا میں جنگلات میں لگنے والی آگ کی دھوئیں سالانہ 24 ہزار سے زائد انسانی جانوں کا بھیڑا چلائی رہی ہے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق دھوئیں میں موجود آلودگی کی وجہ سے अमریکا میں سالانہ اوسطاً 24 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ چلے جاتے ہیں۔
جنگلاتی آگ کا دھواں انسانی صحت کے لیے ناقابلِ تلافی خطرہ بن چکا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ آگ کے واقعات میں اضافے سے انسانی صحت پر نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ دھواں خون کے نظام میں شامل ہوکر مختلف بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔
دھوئیں میں موجود باریک ذرّات پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں اور خون کے نظام میں شامل ہوکر سانس کی تکلیف، آنکھوں میں جلن اور کھانسی کی وجہ بنتے ہیں۔ طویل عرصے تک ان کا سامنا رہنے سے سانس، دل اور اعصابی نظام کی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں جو قبل از وقت موت تک لے جاسکتी ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ اموات اکثر براہِ راست جنگلاتی آگ سے منسوب نہیں ہوتیں کیونکہ زیادہ تر متاثرہ افراد پہلے ہی کمزور صحت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگلاتی آگ کی دھوئیں خاموشی سے قیمتی جانیں لے رہی ہیں۔
جنگلاتی آگ کا دھواں انسانی صحت کے لیے ناقابلِ تلافی خطرہ بن چکا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ آگ کے واقعات میں اضافے سے انسانی صحت پر نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ دھواں خون کے نظام میں شامل ہوکر مختلف بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔
دھوئیں میں موجود باریک ذرّات پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں اور خون کے نظام میں شامل ہوکر سانس کی تکلیف، آنکھوں میں جلن اور کھانسی کی وجہ بنتے ہیں۔ طویل عرصے تک ان کا سامنا رہنے سے سانس، دل اور اعصابی نظام کی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں جو قبل از وقت موت تک لے جاسکتी ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ اموات اکثر براہِ راست جنگلاتی آگ سے منسوب نہیں ہوتیں کیونکہ زیادہ تر متاثرہ افراد پہلے ہی کمزور صحت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگلاتی آگ کی دھوئیں خاموشی سے قیمتی جانیں لے رہی ہیں۔