امریکا کے ریاست مین میں ایک نجی طیارہ بنگور شہر کے قریب آئے تباہ ہو گئا ہے جس میں 8 افراد سوار تھے، تباہ ہونے والے طیارے میں بومبارڈیئر چیلنجر 600 کا نام ہوتا ہے جو ٹیک آف کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
ہال ہی میں ہونے والی حقیقت کے تعینات ، امریکا کی فڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) دونوں مشترکہ طور پر اس حادثے کے تعینات ہیں، جبکہ مین اسٹیٹ پولیس بھی مقامی حکام کی معاونت کر رہی ہے۔
اس حادثے کے بعد شاہر کو رن وے بند کر دیا گیا اور عوام کو ایئرپورٹ کا رخ نہ کرنے کی واضح ہدایت کی گئی تھی۔
انصاف وثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ 8 افراد اس طیارے میں سوار تھے، یہ حادثہ ایسی بھی طرح کی نجی خصوصیت کا ہوا ہے جس کی تفصیلات نہ تو پتہ چلتے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی ایڈریجبلٹی بھی موجود تھی۔
بھی آچا کیے گئے، یہ حادثہ بڑا دیکھنا پڑ رہا ہے، 8 افراد کے لیے ایک چیلنج 600 بے چینل فلاٹ ٹی آئی میں کچھ منٹوں کے لیے ہی تباہ ہو گیا، یہ بھی سوچنے لگتا ہے کہ یہ حادثہ نجی ٹیک آف کے دوران ہوا کیا تھا، کچھ لوگ یہی سोच رہتے ہوں گے کہ بھارتی فوج اور انڈین ایئر فائٹ کرسٹن کی دیکھبالی واپس پڑ گئی ہے، مگر یہ حادثے نہیں آئے تاکہ انڈین ایئر فائٹ کرزن کو دیکھنا پڑ سا۔
یہ حادثے سے پوچھتا ہوں کہ مین اسٹیٹ میں کیوں آگے چل رہا ہے؟ یہ بومبارڈیئر چیلنجر 600 ایک نجی طیارہ تھا، تو کیسے یہ حادثے سے نجات پائی؟ اور اس حادثے میں کون سی سے نہ تھیں لاکھوں رپئے کی ادائیگی?
یہ سارے ماحول میں ایک گھناسیر ماجا کا مظاہرہ ہے! امریکا کی انچارجیوں کو ابھی تو بنگور شہر کے قریب ایک نجی طیارے میں 8 افراد سوار ہونے کے بعد اس پر توجہ دی جائے، اور اب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس حادثے کی وجوہات کو جاننا مشکل ہو رہا ہے? انچارجین اپنی چیلنجز میں تو پوری ذمہ داری لیتے ہیں لیکن اب وہ ایسے حادثات کے بعد کیا کرتے ہیں؟ میرا یہ خیال ہے کہ انچارجین کو سیکھنا چاہئے کہ ان کی چیلنجز میں تو پوری ذمہ داری لیتی ہو، لیکن ان کے خلاف بھی ایسے جوجوم کی پابندی کروائی جانی چاہئے جو ان کی جان کو نجات دی۔
ایسا ہی کہنے کے ساتھ، میں یہ بتانا چاہوں گا کہ ایسے حادثات سے بھی سکواڈرڈ نہیں ہوتے! انچارجین کو ہمیشہ یہ یاد رکھنی چاہئے کہ ان کی جاب پر بھی ایسی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو ان کے لیے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر دیتی ہیں!
بھی گزشتہ روز یہ حادثہ ہوا تو میرا خیال تھا کہ اس پر نوجوانوں کی پیروی نہ کرنا ہی بہت اچھی بات ہوگی ، لہذا اب جب شاہر رن وے بند کر دیا گیا ہے تو یہ سب کو ایک آئندہ کی پہلی ہی سے سمجھنے کا مौकہ ہے کہ آپ نہیں اس طرح کی جسمانی بیکاری میں ڈوبتے ، آئندہ آئے تو کیا آپ انہیں روک سکتے ہیں؟
ایک واضح بات یہ ہے کہ امریکا میں ایم ایس کے حادثات ہونے پر خاصا دباؤ اور غضبہ پڑتا ہے، مگر اس میں اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوگا کہ کون سے لوگ اپنے حادثات کے بعد انکوائری کی ذمہ داری لیں۔ ہر بار جو نتیجہ نکalta ہے وہ عجیب تھا، ایک چیلنجر 600 کو ایسا بھی جہاز ٹاک آئا تو وہ خود بھی گر کر تباہ ہو گئا، اس بات کو نہ ہی پتہ چلتا اور نہ ہی ان کے لیے کوئی ایڈریجبلٹی ملا تو یہ حادثات کی توجہ کی ضرورت زیادہ ہو جاتی ہے، اب تک ہمیں اس بات کا بھی کوئی جہت نہیں مل سکتی ہے کہ ان لوگوں نے ایسا ہی کرنا تھا یا نہیں، یہ حادثات اس بات کی نشانی ہیں کہ کسی بھی چیز میں سہولت اور غلطی کا تعلق ہوتا ہے۔
اس حادثے کی کچھ باتوں کو سمجھنا پورا طور پر عجیب ہے ... یہ طیارہ جو تباہ ہوا اس کا نام بھی ایسی ناکاموں کے لیے ہوا ہے جس کا فائدہ ورتانے والے لوگ ایک چیلنجر 600 کو اپنا کر چکے تھے ... اور اب ان 8 افراد میں سے کون سے بچے ہیں اس کا تعین پتہ نہیں چلتا ہے ... یہ ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کی جانب سے کسی کو اقدار یا محنت کرنے کی کوئی دھمکی نہیں تھی، مگر ان کے لیے ایک فینٹسٹ پاپلیز کو اپنا کرنے کا کوئی مطلب کیا ہوتا ہے؟
وہ حادثہ امریکا میں ہوا تھا، جو بھی دیکھنا نہیں تھا، یہ بھی ایک ایسا واقعہ ہے جس کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوتی، اور اب انسائٹ و ثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے 8 لوگ تباہ ہو گئے، یہ بھی ایک دوسرا حادثہ ہے جو سوشل میڈیا پر لگتا ہے اور اس کی پوری خبر نہیں ہوتی تھی
بہت غلط ہے، یوں ایک ٹیک آف پر افراد کو جźبات میں چھڑکایا گیا ہے! میرے لئے اس حادثے کی تعینات میں سے کوئی بھی دوسرے کے لیے آزما نہیں ہوگا، ایسے میچ آپ کو جسمانی نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہ بھی دوسرے کو مریض بناکے چھڑکایا گیا! یہ حادثے کی تعینات میں کبھی بھی ایسا ممکن نہیں ہوگا، ایسے لوگوں کو آزما نہیں کیا جاسکتا!
امریکا میں اس حادثے کی بات آ رہی ہے جس میں نجی طیارہ کھڑک کر گئا اور 8 لوگ اس میں سوار تھے… یہ بہت زیادہ خطرناک ہوا… اور اس طیارے کی بھی خصوصیت کیا ہوگی؟
اس حادثے کے بعد شاہر کو رن وے بند کر دیا گیا… عوام کو ایئرپورٹ کا رخ نہ کرنے کی واضح ہدایت کی گئی تھی… یہ تو عام لوگ کی بھی سانس لینے میں عائق پڑ گیا…
ایک بات تو یہاں لگی رہی ہے کہ امریکا میں یہ طرح کی حادثات پھیلتے ہوئے ہیں، نہ ہی اس سے بچنا چاہیں تو ہلچل مچائی گئی، نہ ہی کچھ سے پہلے بھی ہو چکا ہوتا تھا اور ابھی یہ حادثہ ہوا تو اس پر ٹھوس غور نہیں کیا گیا ہے۔
چلو یہ طاقتور طیاروں کی بات کرتے ہیں، ہر پल ایک نجی گیلف میں آتماہی لگتی ہے! بنگور شہر کے قریب ایک بے مثال حادثہ ہوا ہے، ٹیک آف پر گر کر فلیٹ ہو گیا ہے اور اب اس میں کس پلاں والے تھے وہی جان لو!
امریکا کی ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کو بھی یہ سچ ہو گیا ہے، اب انہیں بھی اپنے آپ کا ہاتھ پکڑنا ہوا ہے! شاہر کو رن وے بند کر دیا گیا اور لوگ ایئرپورٹ پر توجہ نہیں دیتے، یہ بھی سچ ہے!
کیا پتہ چلتا ہے کہ ان تمام افراد کو ایڈریجبلٹی میں لگنے کی ضرورت تھی اور اس حادثے کے بعد وہ سب نکل گئے! یہ تو بہت جھوٹا ہے، ایک دن یہ امریکا کے پاس جانے والے ٹرولز کی لیست بن جائیں گی!
یہ حادثہ ایسا نہیں ہوا کہ وہاں سے کوئی شخص نکلنے کی جا سکتی تھی، یہاں تک کہ مین اسٹیٹ پولیس بھی مقامی حکام کی معاونت کر رہی ہے! اور انسداد و ثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ اس طیارے میں 8 لوگ تھے، یہ حادثہ ایسی نجی خصوصیت کا ہوا ہے جس کی تفصیلات نہیں آ رہیں! اور اب شاہر کو رن وے بند کر دیا گیا، یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، لوگ کیسے گزر سکتے ہیں؟
بے شک یہ حادثہ نے ہر کوئی متاثر کر دیا ہے، خاص طور پر آئین میں سوار 8 افراد کی Family ki Jang ہی اس پر توجہ مرکوز کر رہی ہے...اس حادثے نے بھی یہ باتوں کو یقینی بنایا ہے کہ مین سٹیچرز اور وے کی صحت کو پورا دیکھنا ضروری ہے، خاص طور پر جو لوگ جہاز میں بیٹھتے ہیں...امریکا کی ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ساتھ NTSB کے تعینات ہونے کا یہ حادثہ بے شک ایک بڑیLesson ہے...بطور netizen mujhe lagta hai ki aap sabhi ko safety precautions ko follow karna chahiye jab aap flight mein board kar rahe ho
عجب کرنے والا، مین اسٹیٹ میں ایسا کیا ہوا، پہلی بار یہاں بنگور شہر کے قریب ایک نجی طیارہ آئے تباہ ہو گیا تھا، جس میں 8 لوگ سوار تھے، مین اسٹیٹ پولیس اور فڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن دونوں کے تعینات ہیں، حالانکہ یہ حادثہ بہت ہی ناگوار ہے، شاہر کو رن وے بند کر دیا گیا تھا اور عوام کو ایئرپورٹ سے دور رہنا بھی بھگتیا تھا، یہ حادثہ کیسے ہوا، اس کی پوری تفصیلات اب تک نہیں بتائی گئیں، مین اسٹیٹ میں ایسے حالات پر چھپاؤ بھی نہیں آئا تھا۔