امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ویزا کے اجرا کو 75 ملکوں، جس میں پاکستان، ایران اور روس شامل تھیں، پر عارضی طور پر رکایا ہے اور وीजا معطلی کا آغاز جنوری سے ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے انہوں نے ایسا کیا ہے تاکہ غیر ملکیوں کو امریکی سرکاری مراعات اور فلاحی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں کوئی مدد نہ مل سکے۔
ان پرسیسنگ کے طریقہ کار پر نظرثانی کے باعث اس فیصلے کو کیا گیا ہے جس سے ویزا معطلی کا آغاز 21 جنوری سے ہوگا اور یہ کہی گئی ہے کہ ویزا اس وقت تک پابندی پر ہوگا جب تک ایسا نہ کیا جائے کہ وہ طریقہ کار پر نظرثانی نہیں کی۔
وہ ممالک جن میں پاکستان، ایران اور روس شامل تھے وہ اس فیصلے سے متاثر ہوں گے جب کہ بنگلہ دیش، بھوٹان، اردن، کویت، لبنان اور لیبیا کے شہری بھی ان کی ویزوں پر پابندی سے متعلق ہیں۔
وہ محکمہ خارجہ نے واضح رکھا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی سرکاری مراعات اور فلاحی سہولتوں کی جانب سے غیر ملکیوں کو منع کرنا تھا۔
امریکا نے اب تک ایک لاکھ افراد کے ویزے منسوخ کردیے ہیں، جن میں 8000 طلبا اور 2500 غیر ملکیوں کی ویزے بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے امریکی قانون کی خلاف ورزی کرچکے تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے انہوں نے ایسا کیا ہے تاکہ غیر ملکیوں کو امریکی سرکاری مراعات اور فلاحی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں کوئی مدد نہ مل سکے۔
ان پرسیسنگ کے طریقہ کار پر نظرثانی کے باعث اس فیصلے کو کیا گیا ہے جس سے ویزا معطلی کا آغاز 21 جنوری سے ہوگا اور یہ کہی گئی ہے کہ ویزا اس وقت تک پابندی پر ہوگا جب تک ایسا نہ کیا جائے کہ وہ طریقہ کار پر نظرثانی نہیں کی۔
وہ ممالک جن میں پاکستان، ایران اور روس شامل تھے وہ اس فیصلے سے متاثر ہوں گے جب کہ بنگلہ دیش، بھوٹان، اردن، کویت، لبنان اور لیبیا کے شہری بھی ان کی ویزوں پر پابندی سے متعلق ہیں۔
وہ محکمہ خارجہ نے واضح رکھا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی سرکاری مراعات اور فلاحی سہولتوں کی جانب سے غیر ملکیوں کو منع کرنا تھا۔
امریکا نے اب تک ایک لاکھ افراد کے ویزے منسوخ کردیے ہیں، جن میں 8000 طلبا اور 2500 غیر ملکیوں کی ویزے بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے امریکی قانون کی خلاف ورزی کرچکے تھے۔