واقفین میں یہ بات آئی ہے کہ امریکا نے اپنی فوجی سازوسامان کی فروخت پر انحصار کرنے والے ممالک سے بھی معاملات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اس وقت کا مطالعہ امریکا اور سعودی عرب کے وچھلے معاملیں کرنے کا ہے جس میں امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 9 ارب ڈالر کی قیمت سے پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دی۔
امریکا نے یہ کہا ہے کہ سعودی عرب کو اس طرح کے فوجی سازوسامان فراہم کیے جائیں گے جو سعودی عرب کی جدید defending کیپبلٹی میزائلوں اور متعلقہ آلات بناتے ہیں۔ یہ بات بالکل سچ ہوگئی کہ اس سے اسرائیل کو بھی امریکی فوجی سازوسامان کی فراہمی پر منحصر کرنے والی سند مل گئی جس میں تقریباً 6.5 ارب ڈالر کی قیمت سے لائٹ وہیکلز، آپاچی ہیلی کاپٹر اور انھیں شامل کرنے والی دیگر فوجی سازوسامان فراہم کیے جائیں گے۔
اسحاق خان نے امریکی صدر کے اس فیصلے سے متعلق پچھلے دن کے بیان میں یہ بات بھی کہی تھی کہ اسرائیل کو لاجسٹک سپورٹ اور نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر کے پاور پیکس کی فراہمی سے ان کے فوجی سازوسامان پر ایک بہت ہی اچھی برADA لگ رہی ہے جس سے ان کا فوجی سازوسامان اور فوجی کارروائیوں میں بہتری آئیگی۔
امریکا کی نائABIٹی کی بات تو ہر جگہ پھیل رہی ہے، سعودی عرب کو اس طرح کے فوجی سازوسامان دیئے جائیں گے جو اسرائیل سے بھی ایسا ہی کیے جائیں گے؟ یہ تو یہ بات تو ہے کہ अमریکا کو اپنی فوجی سازوسامان کی فروخت سے دیکھنے میں آتا ہے اور اب ان نے سعودی عرب کو بھی اس طرح کا مظاہرہ کرنا شروع کیا ہے۔
اور وہ بات تو یوں ہی ہے جسے اسحاق خان نے کہا تھا، اسرائیل کو لاجسٹک سپورٹ اور نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر سے ان کی فوجی کارروائیوں میں بہتری لگی۔ یہ تو اسحاق خان کی بات ہی ہے، امریکا نے اسرائیل کو بھی اس طرح کا معاملہ کرنا شروع کیا ہے اور اب سعودی عرب کو بھی ان سے ایسا ہی کیا جائیگا۔
اس معاملے پر یہ بات بھی تھی جو نہیں کہتے تو ہم اس کی پریشانی اور نقصان کی جانب دیکھتے، امریکا کی فوجی سازوسامان کی فروخت کی ایسی پالیسی جس میں وہ کسی بھی ملک کو فوجی سازوسامان فراہم کر رہے ہیں، یہ تو ان کے حصول کی پالیسی نہیں لےکتی بلکہ اس کی فوجی طاقت کو بڑھانے کے لیے ہے۔ اور اب انھوں نے اسرائیل کو بھی ایسا ہی معاملہ پیش کیا، یہ معاملہ سچے طور پر ایک فوجی سازوسامان کی فروخت کے معاملے میں نہیں بلکہ اسرائیل کی فوجی طاقت کو بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس معاملے کی وضاحت کرنے والے لوگ کبھی پوچھتے ہیں کہ ایک ملک اپنی فوجی سازوسامان کو فراہم کرنے کی جگہ کیا کرتا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ اس معاملے میں امریکا نے ایک اور ملک کو بھی فوجی سازوسامان فراہم کیئے گئے تو اس سے انہیں بھی لاجسٹک سپورٹ اور نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر میں بہتری ملنی چاہیے? اس معاملے کی ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں آپ کو ایک لاکھ سوال پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ یوں ہیں:
- یہ کیسے کیا جاتا ہے کہ ایک ملک اپنی فوجی سازوسامان کو دوسرے ملک کی مدد سے فراہم کرے گا؟
- اس معاملے میں اچھی طرح سے پابند ہونے کی لازمیت کیا ہوتی ہے؟
یے تو واضح ہے کہ امریکا ابھی سے بھی اسرائیل کی طرف فوجی سازوسامان فراہم کر رہا ہے اور اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ انہیں ابھی لاجسٹک سپورٹ اور نیمر آرمڈ پرسنل کی فراہمی سے مل کر نہیں رہتے تاکہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں بہتری ہو سکے اور اس میں سعودی عرب کو بھی شامل ہونا ہے جو ابھی تو امریکا سے فوجی سازوسامان فراہم کر رہا ہے۔ یہ بات جانتے ہیں کہ ایسے معاملات میں پورے دنیا کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور امریکا کی یہ فوجی سازوسامان فراہمی کے لئے اسرائیل اور سعودی عرب دونوں کے درمیان تعلقات بہت ہی گہرے ہیں۔
عرب دنیا میں امریکی فوجی سازوسامان کی فروخت پر نازناک بات یہ ہے کہ سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائلوں کی انفراسٹرکچر فراہم کرنے پر لاکھ ڈالر کی قیمت سے چل رہی ہے। اور اب یہ بات بھی آئی ہے کہ اسرائیل کو بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے... لاکھ ڈالر کی قیمت سے! اس سے ان کے فوجی سازوسامان پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے... مگر کون سے لوگ اسے یہ بھی جانتے ہوں گے?
مہراب نہیں، اب امریکا کے الفاظ تو ہیں، لیکن ان کی کارروائیوں پر توجہ دینے والے نہیں ہیں؟ یہ بتاتے ہوئے کہ امریکا سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کے لیے 9 ارب ڈالر دی رہا ہے، اب یہ سوال ہوگا کہ کیسے اسرائیل کو بھی ان کی فوجی سازوسامان کی فراہمی پر منحصر کرنے والی سند مل گئی؟ یہ واضع ہے کہ امریکا ایسے ساتھ ہے جو اس کی حقیقی ضروریات نہیں، اور یہ بات تو لازمی ہے کہ ہم ابھی ان کی فوجی سازوسامان کی جچے ہی ہوں، تو اس سے لیکر بھی نکلنا ہوگا
یہ بات دیکھتے ہیں کہ امریکا ایسے ممالک کو فوجی سازوسامان فراہم کر رہا ہے جو اس کی مدد سے خود کو جدید defending بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ بات بھی دیکھتے ہیں کہ اسرائیل کو بھی امریکی فوجی سازوسامان فراہم کرنے والی سند مل گئی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ بات سچ ہے کہ اسرائیل کو لاجسٹک سپورٹ اور نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر سے بھی مدد ملنا چاہیے، نہتے یہ سب کچھ ایک دوسرے کے لیے انتہائی ضروری ہوگا۔
اس کی بات تو ایک طرف سے یہ کہ وہ سعودی عرب کو ابھی تو امریکی فوجی سازوسامان مل رہے ہیں، اور دوسری طرف اس کا یہ بات کہ اسرائیل کے لئے بھی ایسی سند مل رہی ہے۔ اگر ایک کپ پر تین چمچ پانی ڈالو تو پانی زیادہ نہیں اور وہاں ہی سب کچھ منسلک ہو جاتا ہے۔ امریکی صدر کی یہ رائے میں ہمیں اس سے حیرانی نہیں ہونا چاہیے۔
امریکا کو ایسا لگتا ہے کہ وہ نسلوں سے بھرپور فوجی سازوسامان کی فروخت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اس لیے ان کے ملک کے ممالک کو بھی یہ فوجی سازوسامان فراہم کیا جاتا ہے! #فوجی_samosan
اسے تو بہت ہی ناکافی سمجھا جاتا ہے کہ ان ملکوں کو صرف پٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی پر توجہ دی جاتی ہے اور اس سے ان کی فوجی سازوسامان پر بھی برادارتی نہ مل سکتی! #فوجی_samosan
یہ بات تو بالکل سچ ہوگی کہ اسرائیل کو بھی ایسا لاجسٹک سپورٹ اور نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر کے پاور پیکس ملا ہوگا جس سے ان کے فوجی سازوسامان پر بہتری آئی! #فوجی_samosan
سعودی عرب کے وچھلے معاملات کی بات کرنے والا امریکا تو تو بہت ہی نائم کروا رہا ہے! انہوں نے سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کرنے پر 9 ارب ڈالر کی قیمت سے منظوری دی جس سے اسرائیل کے لئے بھی فوجی سازوسامان فراہم کیے جائیں گے! یہ ایک بہت ہی اچھا فیصلہ ہے، امریکا بہت سارے معاملات میں ایسے ہی کروتا رہتا ہے جب اس کی ملکی مصنوعات کو دوسرے ممالک میں فروخت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے!
امریکا کی یہ کارروائی بہت دلچسپ ہے! وہ تو ایسی دوڑ میں تھک جاتا ہے کہ اس نے سعودی عرب کو بھی اپنی فوجی سازوسامان کی فراہمی پر ذیادہ اہمیت دی ہے، ایسا کہ وہ اپنے عزم سے باہر نہیں آتا ہے کہ انٹرنیٹ کے ماحول میں پھیلتی ہوئی فوجی سازوسامان کی فروخت کو ایک بڑا معاملہ بنایے ہو۔
مگر، یہ بات سچ ہے کہ اس نے ایسے معاملات میں بھی ذیادہ اہمیت دی ہے جس میں ان کی فوجی سازوسامان کو بھی نئی تیز گتھ بھرنی پڑ سکتی ہے، یہی کہ اس نے اسرائیل کو بھی اپنے فوجی سازوسامان کی فراہمی پر منحصر کر دیا ہے جو انھیں ایک بہت ہی اچھی برADA لگ رہی ہے۔
لہذا، یہ بات بالکل سچ ہوگی کہ اس نے اپنے معاملات کو ایک ہی ماحول میں لانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ اپنی فوجی سازوسامان کی فروخت سے زیادہ انھیں فوجی کارروائیوں میں بھی مدد مل سکے۔
میری بات یہ ہے کہ یہ معاملات کچھ بھی سچ نہیں ہیں۔ امریکا کی پوری یہ منصوبہ بنام معاشی طاقت کے بارے میں تھوڑا سا جھٹکہ دیتا ہے۔ سعودی عرب کو یقینی طور پر ان باتوں کی ضرورت نہیں جس لیے اسے پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ یہ صرف ایک معاملی حقیقت کے باوجود تھوڑی سے فیکٹری کیا جارہا ہے۔
کیا تو اس بات کو نہیں سمجھ پاتے؟ امریکا بھی سعودی عرب کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کر رہا ہے جیسا انہوں نے اسرائیل سے کیا تھا۔ یہ تو اس بات کو دکھای رہا ہے کہ اُنہیں بھی اپنے معاملات میں ایسے معاشروں سے ملنا پسند ہوتا ہے جتنی وہ مل کر فوجی سازوسامان کی فروخت اور فراہمی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اسی بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اُنھوں نے سعودی عرب کو ایسے فوجی سازوسامان فراہم کیے جائیں گے جو ان کی defending کیپبلٹی میزائلوں اور متعلقہ آلات بناتے ہیں۔ ایسا تو کیسے اچھا ہوگا؟
یہ بات واضع ہی ہے کہ امریکا کی ایک پھپھڑی کے طور پر سعودی عرب کی فوج کو دوسرے ممالک کے مقابلے سے بہت زیادہ فوجی سازوسامان فراہم کر رہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل نے اس معاملے میں ایک بھاری فیصلہ حاصل کیا ہے. اب یہ بات آئی ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل دونوں کی فوجی سازوسامان کو سنجیدگی سے لے کر رہنے کی کوشش کرتا ہوا، لیکن یہ بات واضع ہے کہ اس معاملے میں ایک نئی بھرپور پٹی آئی ہے.
ان دونوں ممالک کو خود سے ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ وہ اپنی فوجی سازوسامان اور کارروائیوں میں بہت اچھی برADA حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ اس معاملے میں ایک نئی پٹی آئی ہے اور اب یہ بات واضع ہو جائیگی کہ کس کی فوجی سازوسامان اور کارروائیوں میں بہتری آئی.
اسلامک اسٹینڈرڈز کی کوئی بات نہیں ہے کہ ایسا سے کام کرنا ایک Good واضح پالیسی نہیں ہے، لیکن ابھی تک اس معاملے میں یہ بات واضع نہیں ہوئی کہ ایسا سے کام کرنے کی نئی پالیسی کیسے بنائی جائے گی؟
امریکا کی یہ فیصلہ داری تو کچھ ضروری ہے لیکن اس پر انحصار کرنا تو پورا خطرناک ہے! سعودی عرب کو ایسے فوجی سازوسامان دیئے جائیں گے جو یوں اور ان کی جدید defending کیپبلٹی میزائلوں بناتے ہیں نہ کہ وہ اس طرح سے امریکا کو چھوڑ کر کسی بھی دوسری قوم کی طرف اشارہ کریں! اور اسرائیل پر یہ فیصلہ تو ان کے لئے بھی ایک ناقابل قبول بات ہے کیونکہ وہ اس طرح سے امریکا پر بھی بھرپور طور پر انحصار کرنا شروع کر رہے ہیں!