امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے سے باز رہنا ان کی ذاتی اور رाजनीतک فیصلہ کو ہے، جو کسی دباؤ یا تجویز پر مبنی نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ مجھے قائل نہیں کیا جس کی وجہ سے میں انہیں حملے کرنے کو ماننا نہیں چاہتا تھا۔
امریکا کے صدر ٹرمپ نے اٹھارہ ہزار سے زیادہ مظاہرین کو قتال کرنے کی منصوبہ بندی پر زور دیا تھا لیکن انہوں نے ایران پر حملہ نہیں کیا، اس حوالے سے ان کا بیان سبسے پہلے اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ انھوں نے ایک ریاستی کارروائی میں مظاہرین پر فوجی حملے سے باز رہنا فیصلہ کیا ہے، جو اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ایران نے 800 سے زیادہ مظاہرین کی پھانسی دینے کی منصوبہ بندی پر زور دیا تھا اور ان لوگوں کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
امریکا کے صدر ٹرمپ نے اٹھارہ ہزار سے زیادہ مظاہرین کو قتال کرنے کی منصوبہ بندی پر زور دیا تھا لیکن انہوں نے ایران پر حملہ نہیں کیا، اس حوالے سے ان کا بیان سبسے پہلے اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ انھوں نے ایک ریاستی کارروائی میں مظاہرین پر فوجی حملے سے باز رہنا فیصلہ کیا ہے، جو اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ایران نے 800 سے زیادہ مظاہرین کی پھانسی دینے کی منصوبہ بندی پر زور دیا تھا اور ان لوگوں کو قتل کرنا چاہتا تھا۔