امریکہ پاکستان کی آزادی سے شروع ہونےوالی شراکت داری کو بڑھا رہا ہے ناظم الامور نیٹلی بیکر

پرندہ

Well-known member
امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے سیالکوٹ میں اپنا دورہ ختم کر دیا جس کے بعد انہوں نے دوسرے شہروں کی واپسی کی ہے۔

مطالبہ کرتے ہوئے کہ پاکستان میں امریکہ کی شراکت اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے، ناظم الامور نیٹلی بیکر نے شہر کی کاروباری برادری سے تبادلہ خیال کیا۔

امریکی سفارت خانہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان میں امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے حال ہی میں سیالکوٹ کا دورہ کیا تھا، جس میں انہوں نے شہر کی متحرک کاروباری برادری کی تعریف کی۔

امریکہ اور پاکستان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید اضافے کے امکانات کو اجاگر کیا گیا، جو باہمی خوشحالی کا باعث بن سکتے ہیں۔

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے ظہرانے میں شرکت کی اور شریک صنعتکاروں سے خطاب بھی کیا، جس میں انہوں نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کی گہرائی پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ 2025 میں پاک امریکہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، جو تجارت میں توسیع کی ایک مضبوط بنیاد ہے۔

نیٹلی بیکر نے کہا، یہ پاکستان اور دنیا بھر میں امریکی اقتصادی شمولیت کے مثبت اثرات کو نمایاں کرتی ہے، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور ایک اہم سرمایہ کار رہا ہے۔

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا، ہم امریکی ٹیکنالوجی، جدت اور کاروباری صلاحیت کو بروئے کار لانے کی کوشاں میں ہیں جو پاکستان کی آزادی سے شروع ہوئی تھی، جو پاکستان اور دنیا بھر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کمیونٹیز کو مضبوط بنانے کی کوشاں رہی ہیں۔
 
امریکہ اور پاکستان کی دوطرفہ تجارت میں ترقی کی بات آئی ہے، لیکن یہ پتہ چلتا ہے کہ اس سے نہ صرف پاکستان کے معاشیات کو فائدہ ہو گا بلکھ یہ دنیا بھر میں روزگار کی بڑی جھنکی کی وجہ بن گئی ہے، اور یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم ایسے معاملات میں حصہ لینے پر فائز ہوں جو دنیا بھر کو آئندہ کی زندگی سے بھرا رکھیں اور پوری دنیا کی یہدت کا خاتمہ نہیں کرنی چاہیں گی۔
 
میری توازناتا بات یہ ہے، یہ ناوک بہت سارے کاموں پر مایوس کر دیتے ہیں، سب سے پہلے ان کا سیالکوٹ میں دورہ کیا اور اب واپس آئے، تو اس کے بعد تو کیا ہوا؟
 
اللہ bless پاکستان اور اس کے لوگوں پر! امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے سیالکوٹ میں دورہ کیا تو اس کا معنوی اثرانداز ہونگے! انہوں نے شہر کی کاروباری برادری سے بات کی اور انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے دورے کے بعد اس شہر کو اچھی طرح جانتی ہیں!

میں 2025 میں پاک امریکہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید کرتا ہوں، یہ پاکستان اور دنیا بھر میں अमریکی اقتصادی شمولیت کے مثبت اثرات کو نمایاں کرتی ہے!

اللہ bless ایسے لوگوں پر جو پاکستان کی آزادی سے شروع ہوئی تھی، جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کمیونٹیز کو مضبوط بنانے کی کوشاں رہی ہیں!
 
عجیب بات یہ ہے کہ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر پاکستان میں کتنے پیروکار پائے جاتے ہیں؟ ان کا دورہ سیالکوٹ بھی ہوا اور انہوں نے شہر کی کاروباری برادری سے تبادلہ خیال کیا، لیکن یہ بات کبھی بھی یقینی نہیں کہ ایسا کیسے ہوا اور انہوں نے شہر کی متحرک برادری کی کس طرح تعریف کی? 😐

اس کے علاوہ، امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی گئی ہے جو باہمی خوشحالی کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں کہ یہ تجارت حقیقی رونما ہو گی اور Pak america تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے، کیونکہ پچیس کی دہائی میں بھی یہی بات کہلاتی تھی! 😂

اور وہ یہ کہتے ہوئے کہ ہم امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری صلاحیت کو بروئے کار لانے کی کوشاں میں ہیں، یہ بھی ایک نئی بات نہیں ہے! ہم پچیس کی دہائی سے یوں ہی یقین رکھتے آ رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی اور کاروباری صلاحیت ہی اس کی آزادی میں سب سے بڑا فائدہ دلاتے ہیں! 😊
 
امریکہ سے تعلقات برقرار رکھنا ایسا ایک واضح کام ہے جو پاکستان کو ہمیشہ پہچانا ہوگا۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے یہ دورہ سیالکوٹ میں سے تھا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دو ملکوں کے مابین تجارت اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

مگر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں اپنے شہروں کو توجہ دینے سے ہی ناکامی ہوتی ہے، جیسا کہ امریکی انووا اے بیکر نے سیالکوٹ کی متحرک کاروباری برادری کی تعریف کی اور اس میں 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی، یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اس کا ایک اہم حصہ ہے۔
 
علاوہ ازیں، یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان میں امریکی شراکت اور تعاون سے ہمیں تجارت اور سرمایہ کاری میں زیادہ ترقی حاصل ہوسکتی ہے۔ پھر بھی، یہ دیکھنا بہت چینیوں کا کام ہے کہ پاکستان کی کاروباری برادری انٹرنیشنل بیزنس لینڈنگ کو کس طرح ترقی دی۔

میری Opinion میں، یہ بات پورے طور پر सतirical ہے کہ اب تک پاکستان نے अमریکہ سے بھی کم فائدہ حاصل کیا ہوگا؟ اس کے باوجود، پھر بھی، یہ بات حقیقت میں واضح ہے کہ پاکستان کی انفراسٹ्रकچر اور کاروباری برادری کو ترقی دی جانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر تجارت اور سرمایہ کاری کے لحاظ سے۔
 
امریکی دورہ سے قبل سے بھی یہ بات صاف تھی کہ پاکستان اور امریکہ کے وچھلے تعلقات اچھے ہوں گے، اب اس پر ایک نئی دلچسپی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ نیٹلی بیکر کی سیر کا یہ ایک اہم پہلو ہے جس سے پاکستان کی اقتصادی قوتوں پر نظر پڑے گی، انھوں نے شہر کی کاروباری برادری سے بات کروائی، جو اس بات کی ایک نشانی ہے کہ وہاں مقنعت ہے تاکہ یہ تعاملات اچھے نتیجے پہنچان۔
 
پاکستان اور امریکہ کی دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہونا بہت اچھا ہوگا، نئے نئے ماحول اور ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ تجارت مزید اضافے کر سکتی ہے، اس سے پاکستان کی خواہشوں کو پورا کیا جا سکتا ہے اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں 📈
 
بلاشبہ یہ واقف ہوتا ہے کہ ایسی تقریروں سے پھیپھڑا اٹھا لیا جاسکتا ہے، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی سیالکوٹ میں اپنا دورہ ختم کرنے کے بعد انہوں نے دوسرے شہروں کی واپسی کی ہے یہ تو ایک بات ہے لیکن اس کے پیچھے کیا مقصد ہے؟
 
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی سیالکوٹ میں گئی واپسی ایک مثبت نشانی ہے اور اس سے ہمیں تجارت اور معاشی تعاون کے دوسرے شہروں کا دورہ کرنے کی پوزیشن ملے گی. یہ بات یقینی طور پر ہے کہ اس نئی شراکت سے ہمیں بھلے نتیجے میں کامیاب ہونا چاہیے.
 
ایسے لگتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے، میں اپنے بیٹھے ہوئے تھا تو ان شان کچھ لینے والے نہیں تھے! 🤣

اب یہ بات بہت اچھی ہے کہ نیٹلی بیکر نے سیالکوٹ میں اپنا دورہ ختم کر دیا اور شہر کی کاروباری برادری سے بات کی، یہ ایک بڑا قدم ہے جو دوطرفہ تجارت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

پاکستان کے لیے امریکہ کی مدد سے نکلنے کا یہ موقع بہت اچھا ہے، جو ابھی تک نہیں توسیع کر سکے گا! 🚀
 
Wow 🙂📈 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی ہونے پر ایک بڑا اعلان ہے، یہ پاکستان میں امریکہ کی شاندار شراکت اور تعاون کا ایک اچھا ساتھ دکھایتا ہے۔
 
ਅਮੀਰ! ਇਹ ਡگری ملک کی تاج਼ਾਨ ਵਿੱਚ ਪਹਿਲ ਸੀ, اਖ਼ਬਰਾਂ ਦੀ ਧਰਤੀ ਜਿੱਥੋਂ ਇਸਤ੍ਰੀ ਅੱਗੇ ਵੱਢਦੀ ਹੈ! ہر سال نਵਾਂ ਡگری ملਕ ਜਿਊਂਦਾ ਹੈ, ਫਿਰ ਭੀ ج਼ਮਾਨਤ ਸੀਲਕੋਟ 'ਚ!
 
اس بات سے ہم پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں اپنی معیشت کو ایسا ہی محفوظ کرنا چاہیے جیسا کہ اب ہو، ایسے بھی ہمارے ملک میں ہر سال 8 ارب ڈالر سے کم معیشتی عائدات حاصل ہوتے ہیں۔

امریکی تجارت کی طرف جانے کا یہ Idea تو ایسی بات ہے جو ابھی بھی ہمیں تنگ اور کمزور رکھتی ہے، اور اس سے ہمARA معاشرہ بھی زیادہ تر کمرے کی دھول میں پھوستا ہے۔
 
واپس
Top