امریکا کی کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر نئے ٹیرف کی دھمکی

کباب عاشق

Well-known member
امریکا کی وعدوں کی کہانی ایک طرف، کیوبا کے معاشی حالات ایک طرف، اور امریکی صدر نے اپنے صدارتی حکم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ ان ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کریں گے جو کویت کے تیل فراہم کر رہے ہیں۔ یہ حکم اورامریکی صدر کے خلاف ایک نئی تھرننگ ہے جس سے ان کے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر وہ ممالک جو اس کیوبا کے معاشی بحران کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکا کی سہولتی پالیسیوں میں ایسے تبدیلیاں آئی ہیں جو کویت اور دیگر ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے والے ممالک کے لیے اپنی سہولت کے دباؤ میں اضافہ ہوگا، جس سے ان کے معاشی استحالے کو مزید کمزور بنایا جا رہا ہے۔

امریکی صدر نے اس حکم کی وعدوں میں ایک چیلنج دیا ہے، جس کے ساتھ اس کے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر وہ ممالک جو اس کیوبا کے معاشی بحران کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میکسیکو اور روس جیسے ایسے ممالک جس پر امریکا نے اپنی پابندیوں کو مزید تیز کر دیا ہے، ان کے لیے یہ حکم ایک بڑی چیلنج ہے جس سے ان کے معاشی استحالے کو کمزور بنایا جا رہا ہے اور ان کے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
 
امریکی صدر کی یہ نئی پالیسی ایک بھرپور چیلنج لائے گئے ہیں، خاص طور پر اس کے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا جو اب تک نہیں دیکھا گیا ہے۔ کویت اور دیگر ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا یہ حکم ان کے معاشی استحالے کو مزید کمزور بنانے کے لئے ایک بڑی کوشش ہے اور اس سے ان کے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ میکسیکو اور روس جیسے ممالک کو یہ حکم ایک بڑی چیلنج ہے کیونکہ ان پر امریکی پابندیوں کو مزید تیز کرنے کے بعد ابھی ہی ان میں آتھ کا دباؤ ہے اور اس سے ان کے معاشی استحالے کو کمزور بنایا جا رہا ہے
 
امریکی صدر نے اپنے صدارتی حکم پر دستخط کیے ہیں جو کویت اور دیگر ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے والے ممالک کے لیے اپنی سہولت کے دباؤ میں مزید اضافہ کر دے گا ...
امریکی معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر وہ ممالک جو کوئیuba کے معاشی بحران کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ...
میکسیکو اور روس جیسے ممالک کو یہ حکم ایک بڑا خطرہ ہے جو ان کے معاشی استحالے کو کمزور بنایا جا رہا ہے ...
 
یہ ایک بڑی خبریں ہیں، امریکا کی وعدوں نے کوئبا کے معاشی بحران کو مزید بڑھانے کی تلاشیوں میں اضافہ ہوا ہے, لیکن یہ واضح رہے کہ یہ حکم وہ ممالک کے لیے بھی ایک چیلنج ہے جو اس کیوبا کے معاشی بحران کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں, اور یہ معاشی دباؤ ان ممالک میں زیادہ ہوگا جیسے میکسیکو اور روس
 
یہ اعلان جس سے امریکا کی معاشی پالیسیاں ایک طرف ہوئی ہیں، اس سے یہ سمجھنے میں مشکل ہوگا کہ ایسے وقت کی ضرورت ہے جب وہ پالیسیاں جو کویت اور دیگر معاشی بحران کے ممالک کو اس معاشی بحران سے نکلنے کی ایک چیلنج کے طور پر ریکھی جاتی ہیں۔ یہ اعلان پتا لگا کہ میکسکو اور روس جیسی ممالک کے لیے یہ حکم ایک بڑی چیلنج ہوگا، یہ ان کی معاشی پالیسیوں کو ایک طرف کرنے سے پہلے سمجھنا ضروری ہوگا کہ ان کے اقدامات کے نتیجے میں کیا ہوگا۔
 
امریکی صدر نے بھی کوئی فیکٹر یقینی بناتے ہوئے اپنے معاشی دباؤ کو مزید تیزی سے زیادہ کر دیا ہوگا، حالانکہ اس کا یہ حکم اورامریکی معاشی پالیسیوں میں ایسے تبدیلیاں کی جانے کی خبر دے رہی ہیں جو کویت اور دیگر ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے والے ممالک کے لیے اپنی سہولت کے دباؤ میں مزید اضافہ کرسکیں گے۔
 
میکسیکو سے لوٹو کیا ہوگا 🤑، اس حکم سے یہ بھی معلوم ہونے والا ہے کہ میرا پہلا لاکھ روپے کا سیشن جس میں امریکی مصنوعات کی خریدار تھی، اچانک بند کر دیا گیا ہوگا 😱، اب تو کیسے ہوگا؟
 
یہ وعدے ایک طرف، جب کیوبا کے معاشی حالات ایک طرف... امریکی صدر کو اپنے پاس کچھ سے زیادہ نہ رکھنا چاہئے۔ یہ حکم اس کی پابندیوں میں ایسے ممالک کے لیے بہت problem ہے جو وہ بھاگاتے ہیں، خاص طور پر میکسیکو اور روس۔ ان کی معاشیات پھنس گئی ہے، اب انہیں اس حکم سے مزید problem کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر کو یہ کہتے ہوئے پہنچایا جائے کہ اس پر ایسا کیا جا رہا ہے۔

<3
 
یہ حکم تو اتنا اچھا نہیں ہوگا، یہ امریکی صدر کی ایسی پالیسی ہے جو کویت اور دیگر ملکوں کے لیے بڑی چیلنج ہے اس میں ان ممالک کے لیے گھنٹو گھنٹا معاشی دباؤ اٹھانے پر مجبور کر دیا جائے گا، ایسا نہیں تھا ہوتا تاکہ ان ممالک کی معیشتوں کو بحال کیا جا سکے
 
امریکا کی جانب سے دی گئی یہ وعدے تو ایک طرف، کویت کی چھت پر، اور دوسری طرف، کیوبا کا معاشی بحران... لگتا ہے کہ امریکا نے ایک بڑی کھیل کھو دیا ہے! کیا یہ وعدے کویت پر انفرادی طور پر لگائے گئے ہیں؟
 
امریکا کی یہ پالیسی اس لیے ناکام ہوگی جب تک وہ کویت کے تیل سے باونٹ نہیں ہوگی اور وہ اپنے معاشی دباؤ کو زیادہ نہیں بھار سکتا!
 
🙄 یہ بات تو پتہ چل گیا ہے کہ امریکا نے اپنے معاشرے کی مصنوعات پر ایک نئی ٹیرف عائد کر دی ہے، لگتا ہے وہ صرف ایک تھرننگ کے لیے اسے انعام کے طور پر استعمال کریں گے... یوں ہی اپنی معاشی پالیسیوں میں تبدیلیاں آئیں ہیں اور اب وہ ممالک جو کویت جیسے تیل فراہم کرنے والے ممالک کے ساتھ معاشی بحران کے دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں... یوں اور کمزور ہوتے جائیں گے! 🤑
 
امریکہ کی یہ نئی پالیسی پوری نہیں ہوگی، یہ صرف ایک چیلنج ہے جس کا امریکی معاشی دباؤ پر اثر پڑے گا۔ کویت اور دیگر ملکوں کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنا ایک خطرناک کارروائی ہوگی جو ان کی معاشی سستی کو مزید کمزور कर دے گی۔ میکسیکو اور روس جیسے ملakoں کے لیے یہ حکم ایک بڑا چیلنج ہے۔
 
اس حکم سے وہ ممالک جو امریکی سہولتی پالیسیوں سے خاص طور پر متاثر ہوئے تھے ان کے لیے ایک بڑا خوف اٹھنے والا ہوگا. میکسیکو اور روس جیسے ممالک جو امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے ان کے لیے یہ حکم ایک بڑی چیلنج ہے اور وہ اپنی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے سے قانع ہو جائیں گے.
 
اس حکم سے امریکا کی وعدیوں پر ایک نئی توجہ مبذول ہوئی ہے، لیکن یہ بات بھی کوئی نہیں کہ اس سے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا اور کویت کے تیل کی قیمتوں پر بھی واضح اثرات پڑے گے…
 
امریکا کی یہ نئی پالیسی تو یقیناً ایک بڑی بات ہے لیکن کویت سے بھارے تیل پر اس کے ٹیرف عائد کرنے سے وہ معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ بھی سوچنا مشکل ہوگا کہ کویت نے انٹرنیشنل مارکیٹس پر اپنی پابندیوں کو زیادہ تیز کر دیا ہے یا نہیں۔
 
امریکی صدر کی یہ وعدوں میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے جو اس وقت کی معاشیات پر بھارپور اثرات مرتب کر سکتا ہے، یہ حکم کویت اور دیگر مصنوعات کے لیے اضافی ٹیرف عائد کرنے والے ممالک کے لیے ایک چیلنج بنایا ہے جو ان کے معاشی استحالے کو مزید کمزور بنانے کی تھرننگ ہے

میکسیکو اور روس جیسے ممالک کو یہ حکم ایک بڑا دھچکا پہننا ہوگا، انہیں اپنی مصنوعات کی بھروں میں اضافہ کرنا پڑے گا اور ان کے معاشی دباؤ میڹراج پڑے گا

اس حکم سے کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتا، لیکن اس کی واضھی ایسے ہو سکتی ہے کہ مختلف ممالک اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے لگتے ہیں اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے
 
امریکی صدر نے اپنے حکم پر دستخط کیے ہیں جس سے وہ اور کویت کے تیل پر پورا دباؤ ہوگا، ایک بات لگتا ہے اس سے امریکا کی معاشی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ صرف ایک نئی تھرننگ بن گئے ہیں جو ان کے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرے گی

میکسیکو اور روس جیسے ممالک کو ان کی پابندیوں میں مزید تیزی آئے ہوتا تو وہی بھی ایک نئی چیلنج بن گئے ہوں گی، اب وہی ساتھی طاقت بن سکتے ہیں جن کے معاشی استحالے کو کمزور کیا جا رہا ہے
 
امریکا کے یہ حکم تو ایک بڑی بات ہے، لیکن یہ ساچ ہے کہ یہ وعدے کی طرح اچھے نہیں ہیں، کویت کی طرف سے تیل فراہم کر رہے ہیں تو یہ ایک معاملہ تھا، لیکن اب اس حکم سے ان کے دباؤ میں اضافہ ہوگا اور وہ بھی کوئی نہیں چاہتے

ایسے حالات میں جب ایک ملک اپنی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کر رہا ہے، تو اس کے لیے بھی یہ سچ ہے کہ وہ ملک جس کی ان مصنوعات کو پہنچانے اور پڑھایا جا رہا ہے وہیں اپنا دباؤ بڑھ کر رہ جائے گا

میکسیکو یا روس کے لیے یہ حکم ایک واضح خطرہ ہے، انہیں اب یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے والے ملکوں سے ان کے معاشی استحالے کو کمزور بنایا جا رہا ہے اور ان کے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا
 
واپس
Top