امریکا نے ایک بڑا جنگی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچایا ہے، جس کی اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی موجودگی Iran سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو توازن دینے کی کوشش میں ہو رہی ہے۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بحری جہاز کا مقصد Iran کے ساتھ منسلک ہونے کی کوئی نئی ڈیل کے لیے چار شرائط منوانا ہو گا، جن میں Iran کو مکمل طور پر اپنے یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنا ہوگا اور مقامی سطح پر یورینیم کی اضافتوں کو روکنا۔
میں انٹرنیٹ پر اس بات کی کافی تلاسم دیکھی ہے کہ لوگ Iran سے Teliyarnay ki soch rahiye... yeh bhi saaf hai kyonki Iran ka Oil export kuchh samay se thik nahi rahega. Parchar mein America ko Iran sath manna uske liye ek achha mudda ban gaya hai. Lekin meri nazr men to lagta hai ki yeh koi aisa bhi nahi, aur dono taraf ke liye kuchh samay mil jayega kyunki har kadam par America ko Iran ka response dena padega.
یہ تو ایسا لگتا ہے کہ امریکا Iran سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو توازن دینے کے لیے اپنی طاقت ظاہر کر رہی ہے۔ ایسا کیا جا سکتا ہے کہ Iran کو تیل کے معامل میں یورینیم کی موجودگی پر پابند کرنا پڑے گا، وہ تو ایسا بھی کہنے والے امریکی میڈیا کی بات سے باہر ہوسکتی ہے۔ ابھی تک Iran کو اس کے معاملات میں کسی اور ملک کا مداخلت کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا ہو گا۔
یہ بات واضح ہے کہ امریکا کا یہ جواب ایران سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو توازن دینے کی پوری کوشش میں ہے، لیکن ان کی مدد اور تعاون کے لئے کیا واپس کریں گے؟ ہو سکتا ہے کہ Iran کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جانے والی یورینیم کی قلت کو بھرنا پڑے اور وہ ایسا کرنا شروع کر دیں گے جو امریکا نے ہمیشہ سے روکنے کی کوشش کیا ہے
مگر یہ نہیں ٹھیک ہے کہ انھیں اس بات کو بھی چھپایا جا رہا ہے کہ ایران کے لیے یورینیم سے منسلک ہونے کی نئی ڈیل کیا جائے گا؟ توازن دینے کی بات تو سمجھ میں آ جاتی ہے لیکن اس کی شرائط کیسے منلوں? Iran کو اپنا یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنا ہوگا، مگر اس سے وہ نئے معاہدوں میں شامل نہیں ہونے دیتا؟ یا انھیں تو یورینیم کی قیادت کرتے ہوئے ایک نئی طاقت بنانا پڑے گا?
اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ ایران کو اپنے پتھر میڈیا سے بچنا چاہیے۔ جبکہ امریکا اس کی مدد کر رہا ہو تو ان کے لیے یہ توازن دینے کا ایک اور طریقہ بن گیا ہو گا۔ اگرچہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران کو اپنا فوریٹ پتھر ملنے والی کسی دھندلی نہیں ہونا چاہیے۔
yaar, toh amrika ka ye kuch to sabit hai ki unhein iran ki tarha energy sources ko control karna chahta hai . lekin yeh bhi sach hai ki unka bahari jahaz Iran ke saath naye deal kaise banayenge, agar woh chal sakte hain toh. aur unki baat hai ki iran ko apna uranium ko abhar se baahar nikalna padega , toh phir bhi ye kya galat hai? koi bhi desh apne energy sources ko control kar sakta hai. toh amrika ka kya sabit hai ki unki soch sahi hai ya toh unke hisab se Iran ki tarha bhi kuch to ho sakta hai
یہ بات بھی نہیں ممکن۔ اٹھارہ ہزار کروڑ ڈالر میں تیل برآمد کرنے والے ملک اس سے توازن حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر بھی امریکا اس پر اتنا جोर دبایا کہ Iran کو اپنی ذاتی زندگی میں بھی انفرادی طور پر یورینیم رکھنے کی اجازت دینا پڑے گا . وہ لوگ جو بڑے ادراکات ہوتے ہیں، اس سے کیا لाभ ہوگا؟ یہ ایک بڑی گولد میٹل کے لیے بھی پرت گئی ہوئی!
یہ بھی یہی۔ لوگ بہت کھینچنے میں اٹھتے ہیں تو سے لگتا ہے کہ اس جنگ کو یقینی طور پر نہیں کی جا سکتی، لیکن اس بات کو تصدیق کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ منسلک ہونے کی کوئی نئی ڈیل نہیں ہے، صرف اس بات کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جو امریکا کو ملکی سطح پر اپنی منصوبوں کو پورے کرنے کی اجازت دے سکے۔ یہ اس بات سے بھی چنتہ کرتا ہے کہ ایران کو یہ ڈیل انفرادی طور پر قبول کرنا ہوگا، اس میں ملک کی حکومت، اور ابھی تک منسلک ہونے والی دوسری جانبہیں نہیں شامل ہیں۔
امریکا نے ایسے وقت کا مौकہ لیا ہے جب ایران سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو توازن دینے کی ضرورت ہو رہی ہے، یہ توaziح دیجھی کہ امریکیا بھی تین سال پہلے ایران سے یورینیم کی خریداری شروع کرچکا تھا اور اب وہ اس بات پر زور دے رہے ہن کہ ایران کو اپنا یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنا پڑے گا... یہ ایسا لگتا ہے جیسے وہاں کی اور میڈیا سے بھی ناکام رہنا پڑے گا...
یہ تو واضح ہے کہ امریکا بھی ایسا ہی شاندار سدباب کھیل رہا ہے جو اس کی دنیا بھر جتنی زیادہ طاقت اور اثر اندازیت کو دکھائی دیو۔Iran کو پھانسی دینے کی کوشش میں نہیں توازن دینے کے لیے وہاں بھی گئے ہیں۔ یورینیم کی بات کرکے انہوں نے اپنی طاقت کی پائے دلیں ہیں اور اس میں کچھ حقیقی بات کا بھی فائدہ ہوگا، لہذا ہمیں ان کے ساتھ معاون ہونے پر کام کرنا پڑے گا۔
امریکہ کا یہ جنگی بحری بیڑا منسلک ایران سے تیل برآمد کرنے والوں کے لیے توازن لانے کی کوشش میں نہیں ہوا بلکہ انہیں اپنی خودی کو محفوظ بنانے کی کوشش سے جو تھوڑا توڑا ہوا ہے۔ ایران کے لیے یہ ایک جھوٹا منافقت کے ماحول میں آجازت دینا اور اپنی پوری برتری کو اس بیڑے سے محفوظ بنانے کی کوشش ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ ایران اپنے تیل کو بھگونے کے لیے ایسے کسی نہیں ہے جو اسے اپنی خودی میں محفوظ بنانے کی کوشش کر سکیں گا، پھر یہ توازن لानے کی کوشش تو کبھی بھی نہیں ہوگی۔
امریکہ کا یہ جنگی بحری جہاز Iran کے ساتھ منسلک ہونے کے لیے ایسا نہیں کہا جاسکتا، وہ ایران کو تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی فوری مدد کر رہا ہے اور یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ ان کا مقصد ایران کے ساتھ منسلک ہونے کا کوئی ایسا معاہدہ لگانا ہوگا جس میں انہیں اپنا یورینیم ملک سے باہر کیا جاے گا، بھالے وہ اس بات پر پابند ہوجائیں تو بھی یہ ممکن نہیں ہوگا!
ایسا لگتا ہے کہ امریکا نے ایک بڑا مچھلی پکڑ لی ہے اور اسے ایران پر چیلنج کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور یہ بات تو سب کو معلوم ہو گی کہ Iran سے تیل کی برآمد میں ان کی ناقصیں ہو رہی ہیں، اس لیے اگر انہیں صاف کرنا پڑے گا تو وہ اپنے معاشیات کو بھی بدل دیں گے۔ ایران کے ساتھ منسلک ہونے کی ایسی نئی ڈیل، اس بات کو تباہ کر رہی ہے کہ Iran کے پاس اسٹریٹجک اور طاقت کے حامل اداروں کا ایسا ہاتھ نہیں جس کی وہ معاشی طور پر استعمال کر سکیں۔