امریکہ نے افغان جنگ میں 763 ارب ڈالر ڈبو دیے؛ افغانستان پر ہوئے خرچے کی رپورٹ جاری

چاند تارا

Well-known member
امریکی انسپیکٹر جنرل کی جانب سے ایک حتمی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں افغان جنگ اور تعمیر نو کے حوالے سے واضح رہا ہے کہ امریکہ کی مبینہ کوششوں کے باوجود افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچے کی کمزوری پیدا ہوئی ۔

افغانستان میں تعمیر نو کے لیے امریکہ نے مجموعی طور پر 144.7 ارب ڈالر مختص کیے ہیں، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ یہ تعمیر نو کی لگن یورپ کے مارشل پلان سے بھی زیادہ ہے اور افغان حکومتوں میں کرپشن اسے سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔

امریکہ نے جنگ میں 763 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے صرف 90 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہیں ہوا اور امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں۔

افغان سیکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود رہے ہیں اور فورسز کے لیے مختص ایندھن بڑے پیمانے پر چوری ہوتی رہتی ہے۔ افغان فورز کو گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات اور ہتھیار فراہم کیے گئے تھے جو امریکی انخلا کے بعد اسے چھوڑ دیئے گئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے تھے لیکن اس سے پہلے انسدادِ منشیات پروگرام پر صرف 7.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں جو غیر مؤثر رہا ہے اور اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ ہونے کے بعد بھی نتائج مایوس کن رہے ہیں۔
 
اس رپورٹ میں یہ بات کوئی نہ کوئی حقیقت ہے، امریکی انسپیکٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں افغان حکومت کا معاشرتی نظام اور ریاستی ڈھانچے کی کمزوری کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے یہ بات متعلق ہو جاتी ہے کہ अमریکی افغانستان میں مبینہ مداخلت کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے جس سے اس کی حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ رپورٹ 144.7 ارب ڈالر کے اعتبار سے تعمیر نو کی لگن کا ذکر بھی کرتی ہے جس میں سے صرف 137.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے، یہ رپورٹ یہ بات کوئی نہ کوئی حقیقت ہے کہ افغان حکومت میں کرپشن کی موجودگی اسے سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے، جبکہ غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہیں ہوا اور امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں۔
 
امریکی انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ سے ہوا گئی یہ بات پوری ہوگی کہ افغانستان میں تعمیر نو کا عمل بہت تھوڑا خرچ اور کم نتیجہ دہا۔ امریکہ کو افغان حکومت کی طرف سے دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کرنے کی پہچان دی گئی اور اس کے بعد ریاستی ڈھانچے کی کمزوری پیدا ہوئی۔

ایک بات یقینی ہے کہ افغانستان میں تعمیر نو پر لگی منشپ بہت زیادہ ہے اور یہ سڑکوں، اسٹریٹجیز، اور بریجز کی تعمیر پر مشتمل ہے۔ لیکن اس سے پہلے کا کھیت نہیں چھوڑا گیا اور اس میں ایسے لوگ شامل تھے جن کو کرپشن کی بات کرتے ہوئے بے مثال ساتھ ساتھ منشیات کی دہشت گردی میں بھی جڑے رہتے ہیں۔

امریکی انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ سے یہ بات پوری ہوگی کہ افغانستان میں تعمیر نو کا عمل بھارے پیمانے پر خرچ ہوا ہے لیکن اس کے نتیجے میں کچھ اچھے نہیں ملے تھے، اور حال ہی میں امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز بکھر گئیں۔
 
امریکی انسپیکٹر جنرل کی جانب سے یہ رپورٹ جاری کرنے میں کچھ فائدہ نہیں ہوگا، اس کے بعد بھی امریکہ کو اپنیFailure کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ رپورٹ صرف ایک واضح بات بتاتے ہیں کہ 90 ارب ڈالر کا خرچ بھی اس کی کامیابی نہیں دی گئی۔

امریکہ نے اپنی کوششوں میں 763 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، لیکن افغان سیکیورٹی فورسز کو بھی ایک چھوٹا سا 90 ارب ڈالر دیا گیا تھا جو اسے کسی بھی نتیجے سے واقف کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔

افغانستان میں تعمیر نو کے لیے امریکہ نے بھی 144.7 ارب ڈالر مختص کیے ہیں جو یورپ کے مارشل پلان سے زیادہ ہے، لیکن وہ اسے تو خرچ کرنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا تھا اور اس نے بھی افغان حکومتوں میں کرپشن کو حل نہیں کیا۔
 
امریکا نے افغانستان میں 144.7 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جس سے یہ ٹیکسٹلینج پر مشتمل ہو گیا ہے کہ ملازمتوں میں کرپشن سب سے بڑی رکاوٹ ہے...
اس دuniya میں ہر چیز کو پھیلانے والا نئیں بنے بغیر پوری طرح کوشش کی جاتی ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی رکاوٹ بھی ہو جسے کبھی توڑا جاسکتا ہے تو بہت اچھا نتیجہ نکلتا ہے...
اب اس نئی رپورٹ سے بات کرتے ہوئے، یہ دیکھنا مुश्कل ہو گا کہ امریکا کو کیے جانے والے وعدے پر عمل ہونے کا کوئی چانس ہے...
 
امریکا کی وہ کوشش کیا تھا جو اب ناکام ہو گئی ہے، لگتا ہے انہوں نے افغانستان میں دھول ڈالی اور اب ان کو پچنا ہو گا؟ انہوں نے کیا وہ سچے لیکن اپنے کام کو ناکام نہیں سمجھتے تھے؟
 
اس رپورٹ سے اس بات واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں अमریکی پولیس کی جانب سے لگائے گئے پیسے اور دھاندوں میں ان کی ناکام ہوئی مہمات ہی سب کا سبب ہے کہ افغانستان کی حکومت نے دوحے مذاکرات میں نظرانداز کر دیا اور اس سے ریاستی ڈھانچے کی کمزوری پیدا ہوئی ہے। یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ملازمین کو پیداوار میں مدد دیکھ کر اس پر انحصار نہیں ہونا چاہیے، تاہم یہ رپورٹ ایسے باتوں پر زور دیتی ہے کہ ہر ملک میں یہی پھرتی رہتی ہے اور افغانستان بھی اس کا شکار ہوا تھا۔
 
اس ریپورٹ میں بتا دیا گیا ہے کہ امریکہ نے افغان جنگ میں بہت سارے پینڈو کیئمنٹس فراہم کیں جبکہ یورپ نے کم خرچ کیا ہوتا تو اس سے بھی زیادہ انھوں نے خرچ کیا ہوتا!

امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز کو گاڑیاں فراہم کی گئیں، مگر وہ اسے چھوڑ دیئے بھی ہوئے!

ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے بھی کیا ہوتا! انہوں نے 12.16 ارب ڈالر کی وعدے کیں لیکن پچیس لاکھ روپے سے کم خرچ کیا ہوتا تو اس میں کیا فرق ہوتا?
 
اس امریکی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ افغان جنگ اور تعمیر نو کے حوالے میں अमریکہ کی کوششوں نے شہرت حاصل کی ہے لیکن اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے کہ افغان حکومت کو واضح رہا ہو کہ انہیں دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کرنا پڑ گیا ہے...

جنگ میں خرچ کی گئی 763 ارب ڈالر کو دیکھتے ہیں تو اس سے بتاتا ہے کہ جنگ میں 90 فیصد خرچ انیس ارب ڈالر صرف افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے تھے جبکہ باقی بھارتی اور پاکستانی فوجوں کو مل گیا تھا...

اس رپورٹ میڰ 12.16 ارب ڈالر کی وعدی کرنے والے ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے انسداد منشیات پروگرام پر صرف 7.3 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں جو کہ غیر مؤثر رہا ہے...
 
یہ رپورٹ ان سے بھی زیادہ بے فائد ہے جو کہ افغانستان میں امریکی جانب سے دی گئی تھی 🤔 اور اس لیے یہ رپورٹ بھی بے فائد ہوگا کیونکہ افغان حکومت نے دوحہ مذاکرات میں اپنی جانب سے کیا وہی بھی نہ ہونے دے گا۔ لेकن یہ رپورٹ یہ بتاتا ہے کہ افغانستان میں تعمیر نو کی لگن زیادہ ہے اور یہ بھی بات چیت ہے کہ کرپشن سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے؟ مینے کو لگتا ہے کہ یہ رپورٹ کچھ بھی نہ ہوگی اور اس لیے میں یہ مان رہا ہوں گا کہ افغان حکومت کا ایک ہی معاہدہ پورا نہیں ہوگا۔
 
اب افغانستان میں سارے دباؤں کو سننے والوں کی جگہ امریکی انسپیکٹر جنرل نے بھی رپورٹ دی ہیں اور یہ بتایا ہے کہ افغانستان میں بنائی گئی تمام سارے منصوبوں نے صلاحیت کھو دی ہیں اس کا مطلب تو یہی ہے کہ 144.7 ارب ڈالر پر انورٹس نہیں کرنا چاہئیے، کیونکہ جب انورٹس کروائی گئی تو اس میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود تھے اور ان سارے منصوبوں میں بھی کرپشن رکاوٹ بن گئی تھی۔
 
بچوں کو امریکی فوج کی چھپائی کی واضح بات کرنی پڑی؟ یہاں تک کہ افغانستان میں تعمیر نو کے لیے 144.7 ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں، اس کے باوجود ریاستی ڈھانچے کی سست بستی نے انہیں یہی شکار کر دیا ہے!

امریکی انسپیکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچے کی کمزوری پیدا ہوئی، لیکن اب تو بھی انہوں نے یہی بات کہی جس پر افغانستان کا یہ مظالم اور زنجीर پھول گیا تھا!

ان سٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، لیکن نتائج کچھ نہ کچھ رہیں، اور ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے اس پر صرف 7.3 ارب ڈالر خرچ کیے، جیسا کہ انسدادِ منشیات پروگرام پر بھی!

جھوٹ بولتے رہو؟
 
اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ افغان جنگ میں امریکہ نے کیا اور اس کے نتیجے میں کیا ڈالا? امریکی انخلا کے بعد بھی انسدادِ منشیات پروگرامز پر دھ्यान نہیں دیا گیا لاکر پوری ملک بھر میں منشیات کی دہanterہ چلاتی رہی! 12 ارب ڈالر کا وعدہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے کیا، لیکن اس سے پہلے انسدادِ منشیات پر صرف 7.3 ارب خرچ ہوئے! 😱
 
افغانستان میں امریکی جانب سے لائے گئے 144.7 ارب ڈالروں کا اس بے کار منصوبہ نہ صرف افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کرنے پر مجبور کیا تھا بلکہ اسے نتیجتاً ریاستی ڈھانچے کی کمزوری بھی ڈالی گئی ہے.

تہیہ کرتا ہوں، امریکی جانب سے لائے گئے پینڈو منصوبے نے افغان عوام کو بہت سے معاشی اور سیکھرائی مشنوں سے بھی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس کا یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ افغان عوام کو کچھ لاوارز میں بھی پینڈو سے فائدہ اٹھانا نہیں ہوگا.

کروپشن کا خاتمہ کرنے کی بھی 142 ملین ڈالر کا یہ منصوبہ ناکام رہا تھا جس سے اس بات کا واضح رخ کیا تھا کہ امریکی حکومت کو افغانستان میں کسی بھی منصوبے کی چالاوازی پوری کرنے کی ہمت نہیں تھی.
 
امریکی انسپیکٹر جنرل کی جانب سے جاری کی گئی یہ رپورٹ کو پڑھ کر میں سوچتا ہوں کہ افغانستان میں تعمیر نو کی لگن بھی، کرپشن کی تیز رفتار دکھائی دے رہی ہے۔ अमریکی انخلا کے بعد بھی غیر ملکی فوجوں پر انحصار نہیں ختم ہوا، لگتا ہے جیسا کہ اس کے بعد رپورٹ میں بتایا گیا ہے، افغان سیکیورٹی فورسز نے تیزی سے بکھر گئی۔ یہ بھی دیکھنا اچھا ہوگا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے کرایہ میں خرچ کیے جانے والے پینسیلی نہ تو مؤثر رہتے اور نہ ہی اس کو ٹرکر بناتے۔
 
بہت دیر سے یہ بات چیت ہو گئی ہے کہ امریکا نے افغانستان میں کیے ہوئے خرچ پر انھوں نے ایک حتمی رپورٹ جاری کی ہے اور یہ بات بالکل واضع ہو گئی ہے کہ افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کر دیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میڰ ریاستی ڈھانچے کی کمزوری پیدا ہوئی ہے 💥

یہ تعمیر نو کا پمپ چلا رہا تھا جس پر अमریکی 144.7 ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں لیکن کچھ اور اس سے نکل آ رہے ہیں… یورپی مارشل پلان سے بھی زیادہ معاونت دی گئی تھی اور افغان حکومتوں میں کرپشن کو پورا ہاتھ نہیں لگ سکا۔

امریکا نے جنگ میں 763 ارب ڈالر خرچ کیے لیکن غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ ہوا اور امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں! ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود رہے ہیں اور ان کی وکالت کی کیوں نہیں کی گئی؟ 💔
 
ارے یو! پھینٹنے والی خبریں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس فیلڈ میں ایسی توڑپُڑاں زیادہ ہیں، جیسا کہ افغانستان میں تعمیر نو کے لیے امریکہ نے کیا ہے اور اس سے واضح رہ گیا ہے کہ ان کی کوششوں کے باوجود حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کر دیا گیا ۔ لگتا ہے انہوں نے صرف ایک بات سیکھی ہے کہ افغانستان کے حالات کا ان کے ساتھ کوئی اہم تعلق نہیں ہوتا ۔ یو اور یو! ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ اس میں کیا سبکہ ہے؟
 
یہ سب کچھ تو حیران کن ہے! امریکہ نے افغانستان میں 144.7 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، لیکن اس سے وہاں ریاستی ڈھانچے کی زندگی نہیں آئی! کرپشن کے پہلو سے لاد لگ رہا ہے اور غیر ملکی افواج پر انحصار ختم ہونا اس کی واضح بات ہے کہ افغان فورسز کو یہاں تک کہ گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات اور ہتھیار بھی نہیں ملے!
 
یہ رپورٹ واضع طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ افغانستان میں تعمیر نو اور سیکیورٹی کی پالیسیوں نے ملکی حکومت کو دوحہ پہنچایا ہے…
 
امریکی انسپیکٹر جنرل کی یہ رپورٹ صاف و سادہ ہے، تو ایسا نہیں کہ وہ افغان حکومت پر تنقید کرے اور اسے لگاتار نقصان دہ قرار دے 🙅‍♂️، کیونکہ یہ رپورٹ حقیقی جائزہ بھی دیتی ہے کہ امریکی کوششوں سے معاملات بدل نہیں س카۔

دنیا کی بڑی نجی اداروں، جو پچھلے میں امریکہ سے ملازمت کر رہی تھیں، اب اس کے لئے ایسے ہی کام کر رہی ہیں جیسا وہ پیش کرتے تھے، اور ان کی ذمہ داریوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا 😐۔
 
واپس
Top