امریکہ نے افغان جنگ میں 763 ارب ڈالر ڈبو دیے؛ افغانستان پر ہوئے خرچے کی رپورٹ جاری

وہ امریکی انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ سے پورا خوفناک ہوا کر رہا ہے. اس سے واضح ہوتا ہے کہ افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کیا گیا اور یہ نتیجہ ریاستی ڈھانچے کی کمزوری کے ساتھ ملا ہوا ہے. وہ یوں ڈالتا ہے کہ افغانستان میں تعمیر نو کے لیے امریکہ نے ایسے بڑے پیمانے پر خرچ کیے ہیں جیسے یورپ کے مارشل پلان سے زیادہ، لیکن ان میں کرپشن سب سے بڑا رکاوٹ بنتا ہے.

امریکہ نے جنگ میں 763 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، لیکن افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے صرف 90 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں. یہ غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہیں ہوا اور امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں.

وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ افغان سیکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود رہتے ہیں، اور فورسز کے لیے مختص ایندھن بڑے پیمانے پر چوری ہوتی رہتی ہے.

ایک بات یقینی ہے افغانستان میں تعمیر نو کی لگن ایسی ہے کہ اس کو دیکھ کر بھی نا محسوس رہتا ہے.
 
امریکا کی اس خامیوں کو دیکھتے ہوئے، میں سوچتا ہoon کہ یہ بھی ایک دوسرا جاننے والا ہیں؟ یقیناً وہ پوری جائیداد کو امریکی اسسٹنٹس سے روknay wale logon ko ساتھ لے چuke hain. نوجوان افغانوں کی ایک وہ جماعت بھی ہوسکتی ہے جو اس پورے معاشی منصوبے کو توڑنے اور انہیں دوسری جانب مائل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں.
 
اس امریکی رپورٹ کو پڑھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں بہت سARIں خرچ کیے ہیں لیکن وہ سبھی اسٹریٹجک کے لئے تھے، کہاں تک یہ دیکھنا مشکل ہے اور انہیں کیا نتیجہ پہنچا، وہ ہمارے لیے ایک بھرپور یادگار بن گئے ہیں.
 
واپس
Top