امریکہ نے غزہ کو یوگوسلاویا کے طور پر متعارف کرایا ہے جس کی بنیاد پر دو برطانیہ اور فرانس کی تائیٹی ٹرس کے بعد نیوغزہ اور عربی لینڈ کی بنیاد رکھی گئی ہے، یہ منصوبہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے عالمی اقتصادی فورم میں پیش کیا تھا۔
غزہ کی دو سالہ جنگ میں 90 ہزار ٹن گولہ بارود کے استعمال سے ہزاروں لوگ مر چکے ہیں اور 60 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ کا دھرہ بن گیا ہے، اس لیے جنگ بندی کے بعد غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کرنا بڑی ضرورت ہے۔
کشنر کے مطابق شریعت غزہ کو مختلف زونز میں تقسیم کیا جائے گا جس میں رفح شہر اپنے رہائش کے لئے بنایا گیا ہے، اس کے بعد نیا غزہ بنایا جائے گا جس کی تعمیر نے صنعتیں اور بھی زیادہ تراب کے ساتھ رہائش والوں کے لیے ہوگی۔
کشنر نے ایک سلائیڈ شو پیش کیا جس میں ‘نیوغزہ’ کا ماسٹر پلان دکھایا گیا تھا، اس میں رہائش، ڈیٹا سینٹرز اور انڈسٹریل پارکس کے لئے مخصوص علاقے دکھائے گئے تھے۔
صدر ٹرمپ کے کہنے پر اس منصوبے میں چارٹر پر دستخط کرنے والوں نے غزہ کے ساتھ ان کے منصوبوں کو جود کرنا ہی نہیں بلاوہ اپنی جان دانی۔
آج یہ بات صرف ایک ہی کہنے کی آئے تھی کہ شریعت غزہ کوDifferent Zonez میں تقسیم کر دیا جائے گا… اور رہائش کے لیے رفح شہر بنایا جائے گا…
لیکن اس بات پر غور کرتے ہوئے، یہ سچ مچ ایک بڑی پریشانی ہے۔ یہ وہ شہر ہے جو دو سالوں سے لڑائیوں میں چھلکا چلا ہے… اور اس نے بے پناہ تباہی کی…
کتنے لوگ اس جنگ میں مر گئے ہیں؟ اور کتنے لوگوں کو اپنی رہائش کے لیے رفح شہر بنایا جائے گا… یہ صرف ایک سوال ہے، لیکن اس پر جو سچanswer نہیں ملتا۔
یقیناً شریعت غزہ کا ایسا منصوبہ پیش کرنا ایک بڑا کام ہوگا… لیکن یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب لوگوں کو اپنی رہائش اور مستقبل کی بات سے بات کرنے کی جگہ ملے۔
اس مضمون پر مجھے ایک گہری تنگی لگ رہی ہے ، یہ کہ آمریکا نے غزہ کو اس کی جگہ سربيا پر بنانے کا فیکٹری ڈھونڈ لیا ہے ، یہ بہت غلط اور غیر مشہور ہے، غزہ کی جنگ میں 90 ہزار ٹن گولہ بارود کے استعمال سے ہزاروں لوگ مر چکے ہیں اور 60 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ کا دھرہ بن گیا ہے، لہٰذا جنگ بندی کے بعد غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کرنا بڑی ضرورت ہے، مجھے یہ بات کو نہیں تھی کہ آمریکا نے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی اس پالیسی کی پیروی کر لی ہوگی، مگر مجھے یہ بھی بات تھی کہ غزہ کو عالمی جگہ پر ایک اور منصوبہ پیش کرنا چاہئے جو محنت کی بنیاد رکھے گا۔
امریکا کی یہ نیوز سنی کرنے پر میں اس سے پہلے کی جنگوں کے مابین جو منصوبے بنائے گئے تھے، وہیں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ راز کتنا مشکل ہوتا ہے۔ غزہ میں جو دھرہ بن گیا ہے وہ ایسا ہی ہو سکتا ہے جیسا کہ ہم نے اپنے ملک میں کیا تھا، راز کو چھپایا، لوگوں کو کہا کی چلنا، کبھی کہا اور بعد ازاں نہیں کیا گئا، پھر یہاں تک کہ اب بھی غزہ میں لوگ لاپتہ ہیں۔
اس منصوبے پر یقین رکھنے کی ضرورت ہے اور غزہ کی تعمیر نو کا ذمہ دار بننا چاہیے تاکہ وہ لوگ جو اس جنگ میں شہید ہوئے یا زخمی ہو کر بھی صحت یاب ہو جائیں۔
جب تک ان لوگوں کو اپنی زندگی کی بحالی کا راستہ نہیں ملتا تو اس منصوبے کی اقدامیت کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟
اس سے پہلے بھی اس غزہ کو یوگوسلاویا کے طور پر پیش کرنا نہ تو ایک قابل فہم نظریہ تھا، وہاں تک کہ نیوغزہ کی بنیاد رکھنی بھی ایسا ممکن نہیں ہوا اس لیے آج کو غزہ کے ساتھ ان منصوبوں پر چلنا یقینی بات ہے۔
اس منصوبے کی حقیقی صلاحیتت ہمیشہ یہ رہی ہوگی کہ غزہ کو پھر سے نئا بنایا جائے اور اس کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کیا جائے، کیونکہ اس جنگ میں 90 ہزار ٹن گولہ بارود کے استعمال سے ہزاروں لوگ مر چکے ہیں اور 60 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ کا دھرہ بن گیا ہے، اس لیے اس منصوبے کو کام پر لانے کے بعد غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کرنا بڑی ضرورت ہے۔
اس سلیڈ شو میں رہائش، ڈیٹا سینٹرز اور انڈسٹریل پارکس کے لئے مخصوص علاقے دکھائے گئے تھے، اس کے علاوہ شریعت غزہ کو مختلف زونز میں تقسیم کرنا بھی ہوگی جس میں Rifah شہر اپنے رہائش کے لئے بنایا گیا ہے، اس کے بعد نیا غزہ بنایا جائے گا جس کی تعمیر نے صنعتیں اور بھی زیادہ تراب کے ساتھ رہائش والوں کے لیے ہوگی۔
[ڈائاگرام]
+-----------+
/ \
Rifah Shah +-------> New Gaza
| |
+-----------+
| |
Industrial Parks ڈیٹا سینٹرز ہاؤسز
| |
+-----------+
۔۔۔۔۔۔
اس میں یہ بات یقینی طور پر نہیں ہے کہ اس منصوبے سے غزہ کی زندگی بھی بدل جائے گی، وہ لوگ جو اس منصوبے میں شامل ہوں گے انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ غزہ کے لوگ بھی اپنا انتخاب کرنا چاہتے ہیں نہیں وہاں کی لوگوں کو کسی طرح کے منصوبے سے پرہیز کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی، اور یہ بھی بات یقینی ہے کہ اس منصوبے سے غزہ کے لوگوں کو کافی معیشتی اور زندگی کے وسائل ملنے چاہیے، کیونکہ انھوں نے دو سال پہلے وہ مریمت سے پلاڈر انٹرنیٹ پر بھی جانا ہوتا تھا…
بدرعلیہ یہ کام یقینی بنانا مشکل ہوگا، غزہ کی جنگ کی سایہ توڑی مملکت بننے والی صورتحال میں کچھ لوگ رہتے ہیں اور کچھ لوگوں کو گھروں کا ایک نئا جسمان بننا پڑ رہا ہے۔
غزہ کی تعمیر نو کے لیے بہت سارے منصوبوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ آئیٹھم بننے چاہیے۔
تجارت کو فروغ دینے والے منصوبوں پر توجہ دی جائے، اور وہ لوگ جو غزہ کی سڑکوں پر چل رہے ہیں ان کو سہارے دیا جائے۔
ایک نئے غزہ کے لیے یہ ایک بڑا کام ہوگا، اور وہ لوگ جو اب رہتے ہیں ان کو اس میں شامل کرنا چاہیے۔
عرب دنیا میں جنگ کی بدولت ہونے والی معاشیں گھملی ہوئی ہیں اور غزہ کی وہی صورتحال ہے جو نیوغزہ کے موقع پر بھی تھی جب یوگوسلاویا کے ساتھ ساتھ فرانس اور برطانیہ نے تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی، اب وہی معاملہ ہے۔ اس لیے غزہ کی تعمیر نو کی ضرورت بڑی ہے اور یہ منصوبہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے پیش کیا تھا، آج تک کوئی ملک ان کی جانب سے معاونت نہیں کی ہے۔
اس خوفناک جنگ کی وجہ سے غزہ کی وہی پوری تباہی کچھ نہ کچھ ہوا ہو گی... آج جس شریعت کی بات ہوئی، اس میں کیسے لوگ اپنی زندگی بنائیں گے ؟ یہ منصوبہ صدر ٹرمپ کا تو ہی نہیں لاکھوں کے قائد کی بھی کچھ اہمیت ہو گی... رہائش، ڈیٹا سینٹرز اور انڈسٹریل پارکس کے لئے مخصوص علاقے دکھائے گئے تھے، یہ سب جھوٹے ہیں...
مگر یہ کیسے Possible hai? امریکہ نے غزہ کو یوگوسلاویا کے طور پر متعارف کرایا ہے؟ پھر اس کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کرنا بھی کیسے Possible hai جب دو سالہ جنگ میں کتنی سے زبردستDamage ho gaya hai?
تین سال قبل 90 Thousand ٹن گولہ بارود کا استعمال اور ابھی تک نا پیدل شہر میں 60 Million metric ton ka debris ho gaya hai. یہاں پر غدیر غضب کی بھی لگ رہی ہے۔
نئے غزہ کے منصوبے سے علاوہ کیا ہوا؟ پتہ نہیں چلے گا اور یہاں پر ایک بار دیگر سے زلزلہ آئے تو کتنے لوگ مر جائیں گے?
اس کیس میں یہ بات بالکل لازمی نہیں کیوں کے کہ غزہ کا ماسٹر پلان وہی ہو گیا جو اس سے دو دھپوں کے بعد بھی یہ کہا جاتا ہے کہ غزہ کو نیوغزہ سے بدل دیا جائے گا، ایسا تو ابھی وہی ہوا تھی مگر اس پر ٹھرک کر نا چاہئے تھا، یقیناً غزہ کی تعمیر نو کے لئے ایک اچھا منصوبہ پیش کرنا ضروری ہوگا لیکن اس سے پہلے یہ بات کوئی بات نہیں کیوں کہ اس میں تو ان تمام معاملات کو شامل کرنا ہوتا ہے جو غزہ کے لیے اچھا رہن سہن کے لئے ضروری ہیں
امریکہ کی اور یوگوسلاویا کی بات تو ایسے میں نہیں، پھر کیا غزہ کو نیوغزہ کہا جائے گا؟ یہ کیسے ہونے دوں گا کہ رفیح شہر بھی اپنی جان دائیں اور نئی غزہ میں شامل کرلیں گا؟ اور اس منصوبے سے جو انسپائر کر رہے ہیں وہ کیسے بنے گا جس میں صنعتیں بھرپور ملبہ کی طرف لے جاۓ گئیں؟ اور صدر ٹرمپ کے رہنما ہونے کی بات تو ہمارے لیے چیلنجنگ ہے، کیوں کہ انہوں نے اپنی جان بھی جود کرلی ہو گی...
امریکا کی یہ پلیٹ فارم غزہ پر ہمیشہ کے لیے ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے وہ فلسطینیوں کو اپنی تاریخ کی پھر سے شروع کرنے دیں گے. یہ تو اس وقت تک کے لیے جواب نہیں دے گا...
اس دنیا میں کیوں ہم پھر سے غزہ کی جنگ کا شکار ہوئے؟ دو سالہ جنگ میں 90 ہزار ٹن گولہ بارود کے استعمال سے ہزاروں لوگ مر چکے ہیں، اور اب انھیں ایسا منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس میں شریعت کو مختلف زونز میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد نیا غزہ بنایا جائے گا جس کی تعمیر نے صنعتیں اور زیادہ تراب کے ساتھ رہائش والوں کے لیے ہوگی۔ لیکن یہ سوال ہے کہ غزہ کی جنگ کا خاتمہ کیسے ہوگا؟
امریکہ اور اس کے حامیوں نے غزہ کو یوگوسلاویا کی طرح متعارف کرایا ہے، لیکن اگر یہ تو ایک منصوبہ سے بھی زیادہ ایک ایملیٹری اقدار ہوتا ہے تو یہ انتہائی خطرناک ہوگا
غزہ کی دو سالہ جنگ میں پچاس لاکھ لوگوں کے جسم ایک سایہ میں گئے ہیں، اور اب ان پر منصوبہ بنانے کا منظر جھوم رہا ہے، یہ لگتا ہے کہ امریکہ نے اس سے اپنی جان کی قیمت ادا کرنے کا موقع دیکھ لیا ہے
شریعت کی طرح نیوغزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کرنا ایک بڑی نہالی ہوگا، یہ سچ نہیں کہ غزہ کوIndustrial زون میں تبدیل کیا جائے گا، یہ صرف ایک ایملیٹری اقدار ہوگی۔
بہت تھوڑا بڑا پالہ تھا یہ رپورٹ میں، اچھا ایسا لگتا ہے جیسے یہ اس کے بعد غزہ کو دوبارہ تعمیر نو کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ مگر توڑی پھڑک دیکھتے ہوئے یہ سچ ہی نہیں ہوگا، گزہ کی تعمیر نو کے لئے پہلے کچھ حل بنائے جانے چاہیے تاہم ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر منصوبے میں ایک الٹی مٹ بھی ہوتی ہے