امریکہ نے ایرانی ڈرون کو مار گرایا، اور اس سے Iran کے خلاف کھلے تانے بانے کا آغاز ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹر کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے پر بات نہیں کی تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔
ایک امریکی فوجی ترجمان نے بتایا کہ ایک F-35C لڑاکا طیارے نے یو ایس ایس ابراہم لنکن جنگی جہاز سے اڑان بھری تھی اور اس نے طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے ڈرون کو "اپنے دفاع میں" مار گرایا۔
جہاز ایرانی ساحل سے تقریباً 500 میل دور تھا جب ڈرون "غیر واضح ارادے" کے ساتھ اس کے قریب پہنچا۔ کسی امریکی سامان کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی سروس ممبر کو نقصان پہنچا۔
امریکی صدر Donald Trump نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے پر بات نہیں کی تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔
ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei نے پہلے خبردار کیا تھا کہ ملک پر کسی بھی حملے سے "علاقائی جنگ" شروع ہو جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کرنے والے امریکی خصوصی ایلچی Steve Blandy کو Iran کے وزیر خارجہ Abbas Arakchi کے ساتھStanbol میں ملاقات منانے کا موقع دیا گیا ہے۔
ایسے میں تو ایران سے کچھ نہیں ہوگا؟ وائٹ ہاؤس نے Iran پر ایک دھمکی دی اور اب تو ان کی جان بھی نہیں رہی گئی?
دونوں طرف کی دھمکیاں ایسی ہیں جیسے کہ سب سے پہلے ایک ڈراپ اور اب تو وارننگ ہوئی! مین یہ سوچتا ہوں گا کہ ایران کی جان بھی نہیں رہی گئی اور اِس معاملے میں کسی بھی بات چیت کرنے والا جو Iran سے بے پناہ ہوگا!
لیٹل تھنگ، مین کونسی فہم ہے کہIran کو اس طرح دھمکی دی جائے؟ وائٹ ہاؤس کی جانب سے وہی معاہدہ جو Iran نے پہلے کرنا چاہتا تھا، اب وہی کیا چاہتے ہو?
مین یہ سوچتا ہوں گا کہ اس معاملے میں کوئی ذمہ داری وائٹ ہاؤس پر نہیں ہے!
امریکہ کا اس کردار پر نظر ڈالنا اچھا نہیں تھا اور وہ سچائی کے مطابق کھڑے نہیں رہے، انہوں نے جو ہوا اس میں ایران کو ایک دوسرے پر زریعہ فائر کرنے کی اجازت دی اور اب وہ کہتے ہیں Iran کا جوہری پروگرام محدود کرنا پوری دنیا پر بھارپور اثر ڈالے گا!
امریکہ کی یہ کارروائی ایران پر کتنا اثر انداز ہو گیا ہے، نہیں تو اس سے Iran کو محرک لگ رہا ہے جو وائٹ ہاؤس کی اس پریشانی کو اس سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ America اور Iran کے درمیان فوجی کارروائی کا خطرہ ہی تو بڑھ گیا ہے، اس کے بعد کیا؟
بہت سارے لوگ تھے جنہوں نے اس جہاز پر حملہ کرنے کی جانشین بھی نہیں، اس نے کچھ ڈرون کو مار کرکے ایسا کیا؟ اور وہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات نہ کرنے پر دھمکی دی تھی؟ یہ بات بھی کہ اس جہاز کی حفاظت کے لیے ڈرون کو مارا گیا، تو وہ ڈرون جو کیا کام کر رہا تھا اور وہ ایرانی ساحل پر کیسے پہنچا؟ یہ سب بہت گہرے میزائل سے جڑے ہوئے مسائل ہیں، اس پر بات کرنا چاہئے
امریکہ نے ایرانی ڈرون کو مار گرایا تو خوفناک ہوا ہوئی . میتھو یقین نہیں کرتا کہ ہمیں ایسا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن دوسری طرف ایران کا جوہری پروگرام ساتھ ہی جاری ہو گیا تو اس پر کچھ نہ کچھ کیا جائے گا. وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹر کیرولین لیویٹ کی باتوں بے حد کامیاب ہوئیں، یہ جاننے کو ہمیں چاہیے کہ ایران نے معاہدے پر بات نہیں کی تو کیا فوجی کارروائی کیسے جائے گے?
یہ انسداد جہادیں کی دھمکیوں کی ایک پٹ ہے... ڈرون مار کرنے والی امریکہ کا یہ قدم تو Iran کے جوہری پروگرام پر نظر انداز ہے لیکن اس کا یہ منظر دیکھتے ہوئے خوف میں لپتے ہیں... وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی تو اس کا کوئی نقصان پہنچتا نہیں... لیکن اسی طرح میں Iran کے ساتھ ملنے والے امریکی خصوصی ایلچی کو Iran کے وزیر خارجہ کے ساتھ Stanbol میں ملاقات منانے کی بھی یہی صورتحال پیش آ رہی ہے...
یہ بھی کہیں نہیں پہنچ گیا کہ ایران کو واضح طور پر انہیں اس میڈیا میں بتایا جانا چاہیے کہ وہ ایسے معاہدوں میں شامل ہوئے ہیں جو ان کی ملکیت ہیں اور ان کی مدد سے وہ اپنے مقاصد کو پورا کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایران کو اپنی جانب سے اس معاہدوں کی چنت نہیں کرنا پڑے، اور وہ اس وقت تک ایسے معاہدوں میں شامل رہے جتھے ان کے لئے کسی بھی جانب سے بھارپور مدد مل سکے۔
میری رائے یہ ہے کہ امریکہ نے Iran پر دھماکوں کی لگن اٹھا لی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایران کو پورے عالمی نظام کے سامنے ایک ہی طرف ہیں۔ امریکہ اور Iran دونوں اپنی اور اپنے خلاف کارروائی کرتے رہتے ہیں۔
میری نیند نہ اٹھ سکتی ہے کہ ایسے حالات میں کتنے بچے اور اپنے دوسرے لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ ان کی جان چھوڑتے رہتے ہیں۔ میری دل میں ایک سوچ ہے کہ اس پر کسی بھی طرح سے جواب دینا نہیں چاہئے، بلکہ دنیا کی ایسی معاملات پر غور کرنی چاہئیں جہاں لوگ اپنے گھروں میں ساتھ ہی رہتے ہوں۔
ایسا تو نئی دہلی کی بات نہیں تو آمریکا کی جانب سے کیا کر رہا ہے؟ پہلے Iranian دروان کو مار گرایا تھا، اب واپس آگے بڑھتے ہیں... ساتھ ہی آمریکا نے ایک اور دھمکی دی ہے۔ جبIran کے سپریم لیڈر Ali Khamenei نے پہلے خبردار کیا تھا تو اب وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی ایسی ہی بات کی جا رہی ہے۔
ایران کو اس معاہدے پر بات نہ کرنے کے بعد آمریکا نے جو فوجی کارروائی کی ہے وہ نائاب دوسرے درجے کا بھی نہیں ہے۔ Iranian Drwan کو مار گرایا جاسکتا اور اب اس سے زیادہ آگے کی فوجی کارروائی کی جا رہی ہے...
لگتا ہے ایران کے خلاف کارروائی کے دوران کوئی بات پابند نہیں رہے گا...
ایس اور اس کی بھی گزری ہے Iran پر America کا دھمکی چڑھانا، پچھلے سے وہاں میں اچانک ہٹنا تو ایسی بات نہیں ہوگی اس طرح USA کوIran کی جانب سے کچھ بھی قابل یقینی نہیں دیکھا جاسکتا
ایسا لگتا ہے ایران نے پچھلے برسوں میں اپنے جوہری پروگرام پر پورے عالمی اداروں کے ساتھ بات چیت کی، مگر اب وہی انفرادی طور پر لے رہے ہیں؟ امریکہ نے بہت دیر تک یہ معاہدے سنبھالنے کے لیے کہہ دیا تھا مگر اب وہ ایسا کر رہا ہے؟ ہم اتنے بڑے ملکوں میں نہیں یہاں تک کہ ایران کو جوہری پھنڈے سے محفوظ رکھنا ہوگا؟
ایران کی جانب سے پچھلے دنوں میں جو یورپ میں انسداد وائراسول کے معاہدے پر بات چیت کر رہی تھی وہ اب کہلے تانے بانے کی طرف بدل گئی ہے۔ USA کی جانب سے Iran کے خلاف کارروائی نے شام اور Iraq میں بھی متعین توجہ حاصل کر لی ہے۔ Iran کا جوہری پروگرام کم کرنے پر بات نہ کرتے ہوئے USA ایران کی جانب سے ایک انتہائی خطرناک کارروائی نے اڑان بھرائی ہے جس سے ایک امریکی فوجی ملازم کا ڈرنا پتھرا محفوظ رہ گیا ہے।
یہ اچھا کیوں نہیں کہ امریکہ نے ایران کو ایک لازمی پیغام دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر بات کریں؟ اس نہ ہونے پر فوجی کارروائی کی گئی تو یہ بھی اچھا۔ اس میں بھی ایک معاملہ ہے جس سے Iran کا جواب دیتا ہے اور اس سے معاشرے کی بات چیت ہوتی ہے۔
دھمکی دی گئی تھی اور پہلے یہ فوجی کارروائی ہو گئی تو اب نکل کر دھمکی لگا رہی ہے۔ ایسا نہیں کیا جاسکتا؟
ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei نے بھی اس میں اپنی تازہ ترین رائے دی ہے اور اب وہ کیا کیوں نہ کرے?
اس معاملے پر بات چیت ہونا چاہئیے تو یہ ہی سبسٹیٹ مینٹریشن کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔
یہ بہت غمگستھ صورتحال ہے۔ دوسرے ملکوں کو اپنے فوجی کارروائیوں سے پہلے تو گہرا سوچ سوتا تھا، حالانکہ اب وہ ایسا ہی نہیں کر رہے ہیں۔ امریکی فوجی کے ایک کارروائی میں یہ حدیقہ کیسے پھلنا پڑ گیا؟ اس بات کو بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات نہ کی گئی تو وہاں یہ ہونے کا امکان تھا۔ اب یہ سوال ہے کہ کیا اس کے خلاف فوجی کارروائی کا مطلب ایسا کہنے کے لیے ہو گیا ہے کہ ان کی بھرپور لڑائی شروع کر دی گئی ہے؟
امریکہ نےIran کی جانب سے جوئی کیا تو بھی ایران نے ایسا جواب نہیں دیا، یہ دیکھنے کے لیے بے حسی ہے کہ کس طرح ہر جگہ تیز کارروائی اور جنگ کا خطرہ فैल رہتا ہے. وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک بھی بات نہیں کی گئی جو Iran سے صلح کے راستے پر قدم رکھے، تو اب ایران کو فوجی کارروائی کی ضرورت ہے؟ لگتا ہے کہ دونوں ممالک کو اس ناکام معاہدے پر بات کرنا چاہئے جو Iran کی جانب سے منصوبہ بند تھی.
ایسا لگتا ہے جیسا کہ امریکہ اور ایران کی دو بڑی طاقتوں نے اپنے منظر ناموں میں ایک نئی گھاس کو پہنا ہے۔ یہ جاننا اچھا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات نہ کرنے کی جس منزل پر امریکہ بستا ہوا ہے وہی جس سے امریکہ اپنی فوجی مہمات کو شروع کرتا ہے۔
ایک جانب ایران کی طرف سے بھی یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے پہلے ہی اپنے سپریم لیڈر Ali Khamenei نے ایسا ہی جانے والا بیان دیا تھا جس سے اب وہ امریکہ کے خلاف پھپھڑوں کی پھیرائی کر رہے ہیں۔
لیکن یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت اچھا ساتھ رکھنا ہوتا ہے جس سے کسی نہ کسی صورتحال میں امن کے راستہ پر رہا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کی ایسے وقتوں پر پورا تھا کہ اس کے درمیان دھمکیاں ہوتی رہتی ہیں، لیکن اب وہIran کے جوہری پروگرام سے لڑ رہا ہے جو دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے
ایسے وقتوں پر اس نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے پر بات نہیں کی تو وہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کر رہا ہے، اور اب اس کے درمیان ایک دھمکی کی لہر بھی شروع ہو گئی ہے
جہاز پر اس نے Iranian Drone کو "اپنے دفاع میں" مار گرایا، جس سے Iran کے خلاف کھلے تانے بانے کا آغاز ہوا ہے... یہ صرف ایک دھمکی نہیں تھی بلکہ اس کی بڑی جانبھولگی ہوگئی ہے
اس دuniya ka kaisa hai? America Iran ke liye ek aerodrome par drone ko maara hai, aur ab Iran ki taraf se open war shuru ho gayi hai. Main sochta hoon, yeh to bhi galat hai kyunki sabse pehle America ne Iran ko jo offer diya tha, us par thik karne ke liye America apni side par baithkar hi kuchh karna chahiye. Lekin ab taaki Iran ka kya dil? Maine sochta hoon, yeh to bhi ek dastaan hai ki America Iran ko 500 mile door tak pahunch gayi aur uski aag ahmiyat mehsoos ho rahi hai. Bas America kya dabaava le raha hai? Aur Iran ka Ali Khamenei kya socha tha? Maine yeh bhi suna hai ki America ne Stanbol mein Iran ke وزیر خارجہ Abbas Arakchi ke saath mulaqat karwani hai, lakin main sochta hoon yeh to bhi galat hai kyunki sabse pehle koi mushkila hal karna chahiye.
ایسے وقت بھی نہیں آتا جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک طاقتور چکر گھومنا پڑے۔ Iran کی جانب سے جوہری پروگرام پر بات کرنے میں عدم استحکام دکھایا جا رہا ہے، اس سے ایک منفی مثال کے طور پر ملتا ہے۔
مردم کے لئے بڑی بات یہ ہے کہ دنیا میں کتنی بھی تیز رفتار پریشانیاں آتی ہیں اور ملکوں کی بیرونی ماحولیات میں بھی ایسی مواقع پیدا ہوتے ہیں جس سے کسی نے سوچنا پڑتا ہے کہ یہ کتنی تیزی سے بدل رہا ہے۔
اس کی وجہ ایک بھی نہیں بلکہ ملکوں میں رہائش پرستوں اور فوجیوں کے درمیان تعلقات تیز ہوتے ہیں، اس لیے ایسے ماحوال میں بھی ان کا خاصہ ہی پورا کرتا ہے۔