امریکہ کے صدر دونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک جسمانی تقریب میں غزہ امن بورڈ کی بنیاد رکھنے پر دستخط کردیئے ہیں۔
انہوں نے اس تقریب کے دوران مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششوں کو دھیلا، غزہ امن بورڈ میں بہت سے ممالک شامل ہونے کی طرف اشارہ کیا اور انہوں نے اس بورڈ میں شریک ممالکو کا شکر گزار کیا۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنگوں کو رکایا جانا اور ناممکن کام کیے جانے سے بعد میں انہیں معترف بننے کا موقع ملتا ہے، جیسا کہ وہ پچھلے دس ماہ میں ہی ایسے تمام ممالکو سے جو بھرپور جنگوں میں حصہ لیا تھا انہیں معترف بن چکے ہیں، اسی طرح وہ 10 ملین جانیں بچانے میں اور پاک بھارت جنگ میں بھرپور کوشش کی ہے۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے آپنے بیان کے دوران حماس کو غیر مسلح قرار دینا تو چاہئیں گے، اسی طرح وہ ایران پر حملے کرکے جس نے جوہری تنصیبات کو ختم کر لی ہیں اس کا مقصد بات چیت کرنا ہے۔
انہوں نے اس تقریب کے دوران مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششوں کو دھیلا، غزہ امن بورڈ میں بہت سے ممالک شامل ہونے کی طرف اشارہ کیا اور انہوں نے اس بورڈ میں شریک ممالکو کا شکر گزار کیا۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنگوں کو رکایا جانا اور ناممکن کام کیے جانے سے بعد میں انہیں معترف بننے کا موقع ملتا ہے، جیسا کہ وہ پچھلے دس ماہ میں ہی ایسے تمام ممالکو سے جو بھرپور جنگوں میں حصہ لیا تھا انہیں معترف بن چکے ہیں، اسی طرح وہ 10 ملین جانیں بچانے میں اور پاک بھارت جنگ میں بھرپور کوشش کی ہے۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے آپنے بیان کے دوران حماس کو غیر مسلح قرار دینا تو چاہئیں گے، اسی طرح وہ ایران پر حملے کرکے جس نے جوہری تنصیبات کو ختم کر لی ہیں اس کا مقصد بات چیت کرنا ہے۔