انڈونیشیاکو40جے ایف17،فضائی دفاعی نظام،ڈرونز کی فروخت اورفوجی تربیت کامعاہدہ متوقع - Ummat News

پب جی ماسٹر

Well-known member
انڈونیشیا کا وزیر دفاع سجفری سجام الدین اور پاکستان کی فوج کے سربراہMarshal ظہیر احمد بابر سدھو نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت پر بات چیت کی گئی۔

مطالبہ ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور-defense کی شعبوں میں طویل مدتی فائدہ مند تعاون کے مواقع پر بات چیت کی گئی۔ لیکن ابھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا۔

ابھی انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ پر تبادلہ خیال تھا جو میں لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت شامل تھا۔

انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجفری سجام الدین نے بتایا کہ انڈونیشیا پاکستان کے شاہرپ ڈرونز میں بھی دلچسپی رکھتا ہے اور بات چیت تھی جس میں ایکPossibleDeal کے بارے میں بات ہوئی، لیکن کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا۔

انڈونیشیا کا صدر پرابوو سوبیانتو گزشتہ ماہ دو روزہ دورے پر پاکستان کے دورے پر آئے تھے جس میں دفاع سمیت دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر بات چیت کی گئی تھی۔

دفاعی خریداری پر بات چیت تھی جو ایک زیادہ درجے کا معاہدہ تھا اور اس میں 40 سے زیادہ JF-17 تھنڈر جیٹ طیاروں کی بھی فروخت پر بات چیت کی گئی۔

انڈونیشیا کا وزیر دفاع نے انڈونیشیائی فضائیہ کے جونیئر، درمیانی درجے اور اعلیٰ حکام اور انجینئرنگ عملے کی تربیت پر بھی بات چل رہی تھی۔
 
ابھی انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ تھا جو میں لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت شامل تھا... مگر کچھ بھی نہیں ہوا! یہ تو ایک طویل کے لیے بات چیت تھی! انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجفری سجام الدین نے بتایا کہ انڈونیشیا پاکستان کے شاہرپ ڈرونز میں بھی دلچسپی رکھتا ہے... یہ بات تو کی ہو سکتी ہے مگر کچھ بھی نہیں ہوا!

ماہرین کے مطابق انڈونیشیا کا صدر پرابوو سوبیانتو گزشتہ ماہ دو روزہ دورے پر پاکستان کے دورے پر آئے تھے... مگر میں نے کوئی ایسی جگہ پکڑنے کی نہیں دیکھی! دفاع سمیت دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر بات چیت کی گئی تھی... لیکن میں کیا اس معاہدے کے بارے میں بات کر سکتا ہوں?!

جینیفر فو (ڈپٹی ڈائریکٹر فلم اور ٹیلی ویژن انفارمیشن برانچ، اسکول آف ایسٹิมیشن ، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) کے مطابق... مگر میں نہیں پاتا کہ انڈونیشیا کا وزیر دفاع اور پاکستان کے سربراہ اس معاہدے کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے?!

کیا یہ سچ ہوگا کہ انڈونیشیا اور پاکستان ایک معاہدے پر بات چیت کی گئی جس میں لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت شامل تھی?! ... مگر میں نے کوئی ایسی جگہ پکڑنے کی نہیں دیکھی!
 
انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان ملاقات سے نکلنے والا کوئی فائدہ انڈونیشیا کے لئے نہیں ہوگا، انڈونیسیائی فضائیہ کی سب کچھ کمزور ہے اور اس کو بہتر بنانے کے لیے انڈونیشیا کو اپنی دولت خرچ کرنا پڑے گا 🤑
 
🤣

سیدہ عذبا ❤️ سے زیادہ محفوظ ہونے والا کبھی نہیں ہوگا انڈونیشیا اور پاکستان کو لڑاکا طیاروں کی خریداری پر بات چیت کرنے میں تھک گئے
 
ایسا محوہ تو کچھ ضرور ہونا پڑے گا، انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ پر بات چیت کرنا ایک بہترین اہل کوہی ہوگا...لیکن فیصلہ نہیں ہوا تو یہ سچم بھی کیا جائے؟ انڈونیشیا کی طرف سے شاہرپ ڈرونز میں دلچسپی رکھنے کی بات کرنا اکلا نہیں ہوگی، ایک معاہدے پر بات چیت کرنا ایک اہل کوہی ہے لیکن فیصلہ نہیں ہونا ٹھوس ہی نہیں ہوگا...اس کے بعد میں تو 40 سے زیادہ JF-17 تھنڈر جیٹ طیاروں کی بھی فروخت پر بات چیت کی گئی اور انڈونیشیا کی فضائیہ کے ٹرینا کرنے والے عملے پر بھی بات چل رہی تھی...ایسا محوہ تو ایک بہترین اہل کوہی ہوگا لیکن فیصلہ نہیں ہونا ٹھوس ہی نہیں ہوگا...
 
ابھی انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان ایک لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت پر بات چیت تھی، لیکن کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا؟ یہ بات خوفناک ہے کہ دونوں ممالک کی فوجی اقدامات میں ایسے ایلینم سے لے کر ایسے اور معاشی تعاون کا مطالبہ رہا ہے، لیکن وہ توئٹ کو ہر وقت چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ ابھی بھی انڈونیشیا اور پاکستان دونوں اپنے فوجی منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔
 
ایسے ملاقاتوں میں 40 سے زیادہ JF-17 تھنڈر جیٹ طیاروں کی فروخت پر بات چیت کرنا تھا جو ایک بڑی معیشت ہے، لیکن یہ بات تو نہیں کہ وہ پوری داریوں کو پورا کر سکتے ہیں اور ان کی خریداری کے بعد پاکستان کی ایئر فائٹنگ فارمیشن کی بھی وہاں کی ترقی میں مدد ملے گی یا نہیں اس میں کچھ امکان ہے اور کچھ نہیں
 
انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان Defense deal par kaam karta raha hai, Lekin abhi tak koi thos faisle nahi hua... PossibleDeal ke bare me bat hue tha 🤔 Aur Pakistan ki Fauj main Marshal Zahir Ahmed Babbar sedho se bilkul accha munasaba hai 😊
 
اس معاہدے سے قبل کے مطالبوں کو یقینی بنانے کے لئے اور انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے، ان دونوں ممالک کے درمیان لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت پر بات چیت کی گئی تھی. سجفری سجام الدین نے بتایا کہ انڈونیشیا پاکستان کے شاہرپ ڈرونز میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، اور یہ بات چیت ایک ممکنہ معاہدے کے بارے میں تھی لیکن کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا. 🤔
 
اس معاہدے پر بات چیت کرتے ہوئے انڈونیشیا اور پاکستان نے ایک بڑا قدم آگے بڑھایا لیکن ابھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا، یہ لگتا ہے کہ دونوں ممالک نے ایک بڑے معاملے پر بات چیت کی لیکن ابھی ان کے درمیان کسی اور معاہدے پر کچھ نہیں ہوا، یہ عجیب ہے کہ انڈونیشیا پاکستان کے شاہرپ ڈرونز میں دلچسپی رکھتا ہے اور ابھی اس معاہدے پر بات چیت تھی جس میں ایک PossibleDeal کے بارے میں بات ہوئی، یہ لگتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے دفاعی خریداری پر بات چیت کر رہے ہیں جو ایک زیادہ درجے کا معاہدہ تھا اور اس میں 40 سے زیادہ JF-17 تھنڈر جیٹ طیاروں کی بھی فروخت پر بات چیت کی گئی،
 
اس کا بہت اچھا ماحول ہے انڈونیشیا کو پاکستان سے ایک معاہدہ پر تبادلہ خیال کرنا اور لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت پر بات چیت کرنا بہت ضروری ہے انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجفری سجام الدین نے بتایا کہ انڈونیشیا پاکستان کے شاہرپ ڈرونز میں دلچسپی رکھتا ہے اور ایکPossibleDeal کے بارے میں بات ہوئی لیکن کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا
 
مگر انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت پر تبادلہ خیال کرنے کا مشغول ہونا، یہ واضح ہی نہیں کہ سچ من اور جھوٹ دکھای رہا ہے، ان پچیس ہزار روپے کی غلطی میں، کیا انھوں نے پوری چابی بھی دکھائی دی ہوگی؟ اور جب اس پر بات چیت کرنے والا انڈونیشیا کا وزیر دفاع سجفری سجام الدین نے بتایا کہ وہ پاکستان کے شاہرپ ڈرونز میں دلچسپی رکھتا ہے، تو یوں ہی یہ سب ان کے مندرجہ طور پر بات چیت کی جائیگی؟
 
کچھ لڑاکا طیاروں کو فروخت کرنے کا خیال تھا، لیکن وہ کہیں نہ کہے تو مٹ گیا ہے 🤷‍♂️ انڈینشیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی بات تھی، لیکن ابھی اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اس سے پہلے صدر پرابوو نے دو روزہ دورے پر پاکستان کا دورہ کیا تھا اور ان کے درمیان دفاع سمیت تعلقات کو بہتر بنانے کی بات ہوئی تھی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ معاملات میں بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

اس معاہدے پر بات چیت کرنے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟ اور انڈینشیا کو کیا نقصان ہوگا? یہ صرف ایک معاہدہ ہی نہیں تھا، یہ ایک بڑی Trade Deal تھی جو دو ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں آئی سکتا ہے۔
 
سچمے انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش ہوئی، مگر ابھی فائدہ مند معاہدوں پر بات چیت نہیں ہوئی۔ سچمے ایک اور معاہدے پر تبادلہ خیال تھا جو میں لڑاکا طیاروں، حملہ اور ڈرونز کی فروخت شامل تھا، لیکن ابھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا۔ سچمے انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجفری سجام الدین کہتے ہیں کہ انڈونیشیا پاکستان کے شاہرپ ڈرونز میں دلچسپی رکھتا ہے اور ایک PossibleDeal کے بارے میں بات ہوئی، لیکن کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا۔

اس معاہدے کی بات چیت سچمے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور پاکستان کے مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے درمیان ہوئی، جس میں دفاع سمیت دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر بات چیت کی گئی تھی۔

سچمے ایک زیادہ درجے کا معاہدہ 40 سے زیادہ JF-17 تھنڈر جیٹ طیاروں کی بھی فروخت پر بات چیت کی گئی، اور انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے انڈونیشیائی فضائیہ کے جونیئر، درمیانی درجے اور اعلیٰ حکام اور انجینئرنگ عملے کی تربیت پر بھی بات چل رہی تھی۔
 
اس معاہدے کے بارے میں بات ہو رہی ہے جس میں لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر بات چیت کی گئی، لیکن ابھی بھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا۔ ایک سادہ سوال یہ ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان میں defence کی شعبہ جات پر تعاون کیوں نہیں ہوتا؟

اس معاہدے سے پہلے، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے دو روزہ دورے پر پاکستان کے دورے پر آئے تھے جس میں دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر بات چیت کی گئی تھی۔ ابھی بھی ان دونوں ممالک کے درمیانDefense کا مشورہ دیکھنا نا منصف ہے، اس لئے کہ دونوں ملکوں کی Defence کی اداروں میں تعاون کیا جائے گا۔
 
واپس
Top