ہاکی پلیئر
Well-known member
لیبیا کے بائلر سیف الاسلام قذافی جس نے اپنے والد معمر قذاقی سے جدوجہد کی تھی وہ آج ان کی رہائی کے بعد اچانک دوسری طرف جھوٹ پڑتے ہوئے قتل ہو گئے، پھر ایک پہلے سے لگاتار تھا ناکام کردار ادا کیا جس کے بعد وہ فوجی کارروائیوں اور اس کی انصاف کے لیے اپنے بیٹے معتصم کے ساتھ جان دی گئی تھی۔
جیسا کہ 2011 میں جب لیبیا خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو سیف الاسلام نے اپنے والد کی حکومت کو دفاعیں شروع کر دیں اور اس وقت ان پر مخالفین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے سنگین الزامات لگ گئے۔
اس لیے اسے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا اور ان پر سفری پابندی لگادی گئی اور عالمی فوجداری عدالت نے بھی ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کی تھی۔
لیبیا میں ایک دوسرے بعد فوجی کارروائیاں شروع ہوئیں اور 2011 میں معمر قذافی اور ان کے بیٹے معتصم کے قتل ہو گئے تو سیف الاسلام کو اپنے والد کی حکومت سے دور رہنا پڑا لیکن بعد میں زنتان پر قابض ملیشیا نے انہیں رہائی دی جس کے بعد وہ politics میں قدم رکھنے لگے اور 2021 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نامزد ہوئے لیکن ایسا نہ ہو سکا کیونکہ وہی سیاسی رہنما تھے جو پچیس سال سے اس شہر میں رہتے تھے اور 2011 کے بعد سے زیادہ تر وقت زنتان میں گزارے۔
سیف الاسلام کو مغربی تعلیم حاصل ہوئی اور ان کی politics میں وہ ایک ایسا رہنما سمجھا جاتا تھا جو عالمی حکمرانی سول سوسائٹی کے کردار سے متعلق اپنا مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
وہ یہی نہ رہے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات، لاکربی بم دھماکے کے متاثرین کو معاوضے اور برلن نائٹ کلب و یو ٹی اے فلائٹ 772 جیسے معاملات میں بھی سرگرم رہے۔
انہوں نے بلغاریہ کے پانچ طبی عملے سمیت چھ غیر ملکی طبی کارکنوں کی رہائی میں کردار ادا کیا جن پر لیبیا میں بچوں کو ایچ آئی وی منتقل کرنے کا الزام تھا، ان سے ان کی ساکھ پر ہمیشہ بھاری پابندیاں لگائی گئیں۔
سیف الاسلام نے “اسراطین” کے نام سے فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے ایک سیکولر یک ریاستی حل کی تجویز بھی پیش کی تھی، انہوں نے فلپائن میں مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا تھا جس سے وہ اپنے سیاسی حلقوں کی طرف سے گزشتہ صدیوں سے محفوظ رہتے تھے، لیکن 2011 کی خانہ جنگی کے دوران ان پر عائد الزامات اور بعد ازاں عدالتی کارروائیاں ان کی ساکھ پر اچانک بھاری پابندیاں لگائیں۔
اصلاح پسند سیف الاسلام اپنے والد معمر قذاقی کے حامیوں کے لیے امید کی علامت تھے جبکہ مخالفین ان کو ماضی کی آمریت کی ناقیات سمجھتے تھے، اور زنتان میں ان کا قتل ایک اور اہم موڑ بن گیا ہے جس سے خانہ جنگی اور بحران کا دور مزید طویل اور کٹھن تر ہونا کا امکان ہے۔
جیسا کہ 2011 میں جب لیبیا خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو سیف الاسلام نے اپنے والد کی حکومت کو دفاعیں شروع کر دیں اور اس وقت ان پر مخالفین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے سنگین الزامات لگ گئے۔
اس لیے اسے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا اور ان پر سفری پابندی لگادی گئی اور عالمی فوجداری عدالت نے بھی ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کی تھی۔
لیبیا میں ایک دوسرے بعد فوجی کارروائیاں شروع ہوئیں اور 2011 میں معمر قذافی اور ان کے بیٹے معتصم کے قتل ہو گئے تو سیف الاسلام کو اپنے والد کی حکومت سے دور رہنا پڑا لیکن بعد میں زنتان پر قابض ملیشیا نے انہیں رہائی دی جس کے بعد وہ politics میں قدم رکھنے لگے اور 2021 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نامزد ہوئے لیکن ایسا نہ ہو سکا کیونکہ وہی سیاسی رہنما تھے جو پچیس سال سے اس شہر میں رہتے تھے اور 2011 کے بعد سے زیادہ تر وقت زنتان میں گزارے۔
سیف الاسلام کو مغربی تعلیم حاصل ہوئی اور ان کی politics میں وہ ایک ایسا رہنما سمجھا جاتا تھا جو عالمی حکمرانی سول سوسائٹی کے کردار سے متعلق اپنا مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
وہ یہی نہ رہے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات، لاکربی بم دھماکے کے متاثرین کو معاوضے اور برلن نائٹ کلب و یو ٹی اے فلائٹ 772 جیسے معاملات میں بھی سرگرم رہے۔
انہوں نے بلغاریہ کے پانچ طبی عملے سمیت چھ غیر ملکی طبی کارکنوں کی رہائی میں کردار ادا کیا جن پر لیبیا میں بچوں کو ایچ آئی وی منتقل کرنے کا الزام تھا، ان سے ان کی ساکھ پر ہمیشہ بھاری پابندیاں لگائی گئیں۔
سیف الاسلام نے “اسراطین” کے نام سے فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے ایک سیکولر یک ریاستی حل کی تجویز بھی پیش کی تھی، انہوں نے فلپائن میں مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا تھا جس سے وہ اپنے سیاسی حلقوں کی طرف سے گزشتہ صدیوں سے محفوظ رہتے تھے، لیکن 2011 کی خانہ جنگی کے دوران ان پر عائد الزامات اور بعد ازاں عدالتی کارروائیاں ان کی ساکھ پر اچانک بھاری پابندیاں لگائیں۔
اصلاح پسند سیف الاسلام اپنے والد معمر قذاقی کے حامیوں کے لیے امید کی علامت تھے جبکہ مخالفین ان کو ماضی کی آمریت کی ناقیات سمجھتے تھے، اور زنتان میں ان کا قتل ایک اور اہم موڑ بن گیا ہے جس سے خانہ جنگی اور بحران کا دور مزید طویل اور کٹھن تر ہونا کا امکان ہے۔