پھانسی گھاٹ سے رہائی سے قاتل گولی کا نشانہ بننے تک؛ معمر قذاقی کے بیٹے کی داستان | Express News

سیف الاسلام کی جانب سے ہوئی ایک دھمکی لگ گئی ہے، وہ اس وقت اچانک قتل ہو گئے تھے جب ان کا وارنٹ گرفتاری جاری تھی! یہ تو بہت بدسلوکی ہے، اس طرح ان پر دوسرے الزامات بھی لگائے گئے ہوں گے۔

اس لیے اب انہیںPolitics میں قدم رکھنے کا موقع نہ مل سکا، اور وہ پوری زندگی اپنے والد معمر قذاقی کی حکومت کے حامی تھے، وہ ان پر سفری پابندی لگائی گئی اور عالمی فوجداری عدالت نے بھی ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کی تھی، اب ان پر الزامات اور عدالتی کارروائیاں ہو رہی ہیں!

یہ تو ایک دہشت گرد زنتان میں قائم قبضے کا ایک نتیجہ ہے، جس سے Politics اور فوجداری کے درمیان بھی ایک اچھا تعلق بن گیا ہے!
 
اب یہ بات بھی پتا لگ رہا ہے کہ لیبیا میں فوجی کارروائیوں میں 100 سے زائد افراد شہید ہوئے! 🤯 اور اچانک قتل کیسے ہوا؟ وہ یہ بھی تین سالوں سے پہلے اپنی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا اور ان پر پابندیاں لگائی گئیں تو اس نے کیا؟ ان پر یہ الزامات بھی ہیں کہ وہ وارنٹ گرفتاری جاری تھی، اور عالمی فوجداری عدالت نے بھی وارنٹ grabs کر لیا تھا! 🚔

اس کے علاوہ سیف الاسلام کی تحریک میں 10 سے زائد ملions افراد شامل تھے اور انہوں نے ایک بڑے پیمانے پر قائم معاشرتی نظام بنایا تھا، لیکن اب وہ کیا ہو گئے؟ 🤔 وہ یہی نہ رہے انہوں نے خیراتی کارروائیوں میں بھی سرگرمی کی تھی اور ایک ایسا رہنما سمجھا جاتا تھا جو عالمی حکمرانی سول سوسائٹی کے کردار سے متعلق اپنا مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی! 📚
 
بائلر سیف الاسلام کو قتل کرنا ایک حقیقت ہے لیکن ان کا قتل یہی نہیں بلکہ ان کی زندگی بھی ایک حقیقت ہے اور ان پر یہ قتل ایک Political Statement ہے جس سے لیبیا میں political Situation مزید تاریک ہو گئی ہے ہارم نہیں لیکن یہی دیکھنا پڑ رہا ہے کہ ان کی ساکھ پر ایسا تو اچانک بھاری Pabandi nahi lag sakti hai

@LbyaNews ۔
اسٹوڈنٹس اور پروفیسرز کے لیے ہارم یہی نہیں، وہ کس کی پابندی میں نہیں اور وہ قاتل کی جانب سے اسے قتل کرنے میں کون فایڈا دے رہے تھے؟
 
اس بہت ہی غضباکاری کے بعد اچانک قتل کے واقعے نے لے لیا، ایک جیسے واقعہ 2011 میں ہوا تھا جب معمر قذاقی اور ان کے بیٹے معتصم کو فوجی کارروائیوں سے قتل کر دیا گیا تھا، وہاں تک کہ لیبیا میں ایک دوسرے بعد فوجی کارروائیاں شروع ہوئیں اور اس کے نتیجے میں معمر قذاقی کو 2011 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اس واقعات کے بعد جب لیبیا کی خانہ جنگی شروع ہوئی تو سیف الاسلام نے اپنے والد کی حکومت کی جانب سے لڑائی کہہ کر اپنی سیاسی پابندیوں کو چھوڑ دیا اور وہ اس وقت politics میں قدم رکھنا شुरू ہوئے، اور وہ یقین دلاتے تھے کہ ان پر ان کے والد کے خلاف الزامات نہیں ہیں۔

اس کی ایک اور بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے بغداد میں سول سوسائٹی کے کردار سے متعلق اپنا مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی، اور وہ عالمی حکمرانی سول سوسائتیات کے کردار سے متعلق ایسی چیلنجز پیش کرتا تھا جس نے اسے اپنی سیاسی رہنمائیوں میں شامل کر لیا تھا، اور وہ ان معاملات میں بھی سرگرم ہوئے جن میں یہوری پروگرام سے متعلق مذاکرات اور لاکر بی بم دھماکے کے متاثرین کو معاوضے میں شامل رہا تھا۔
 
واپس
Top