جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم سَنائے تاکائیچی نے اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا مقصد عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنا ہے، جس کے لیے اس نے اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگائی ہوئی ہے۔
اس کی یہ بڑی پہچان ان کی وکالت کرنے والی ایک طاقتور جماعت کے ساتھ اتحاد ہونے کا نتیجہ تھی جسے دائیں بازو کی جماعت جاپان انوویشن پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ دونوں جماعتوں نے مضبوط فوج، مردوں تک محدود شاہی جانشینی اور بند نیوکلیئر ری ایکٹرز کی بحالی جیسے نکات پر اتفاق کیا ہے۔
اس میں کافی تبدیلی آئی ہے اس سے قبل وہاں حکومت کو پارلیمانی عمل میں مشکلات پیش آ رہی تھیں اور حتمت کا وقت اٹھانے پر جاپانی وزیر اعظم نے اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تھا، اس سے یہ جانا ملا ہے کہ ان کی political ساکھ کس حد تک بھر پور تھی اور ان्हوں نے عوام سے جو معاملات پر اتفاق کیا تھا وہی اس مقصد کے لیے ضروری تھے۔
اس کی یہ بڑی پہچان ان کی وکالت کرنے والی ایک طاقتور جماعت کے ساتھ اتحاد ہونے کا نتیجہ تھی جسے دائیں بازو کی جماعت جاپان انوویشن پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ دونوں جماعتوں نے مضبوط فوج، مردوں تک محدود شاہی جانشینی اور بند نیوکلیئر ری ایکٹرز کی بحالی جیسے نکات پر اتفاق کیا ہے۔
اس میں کافی تبدیلی آئی ہے اس سے قبل وہاں حکومت کو پارلیمانی عمل میں مشکلات پیش آ رہی تھیں اور حتمت کا وقت اٹھانے پر جاپانی وزیر اعظم نے اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تھا، اس سے یہ جانا ملا ہے کہ ان کی political ساکھ کس حد تک بھر پور تھی اور ان्हوں نے عوام سے جو معاملات پر اتفاق کیا تھا وہی اس مقصد کے لیے ضروری تھے۔