اقتدار کے محض 3 ماہ بعد جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم نے اسمبلی تحلیل کردی

ہنس

Well-known member
جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم سَنائے تاکائیچی نے اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا مقصد عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنا ہے، جس کے لیے اس نے اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگائی ہوئی ہے۔

اس کی یہ بڑی پہچان ان کی وکالت کرنے والی ایک طاقتور جماعت کے ساتھ اتحاد ہونے کا نتیجہ تھی جسے دائیں بازو کی جماعت جاپان انوویشن پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ دونوں جماعتوں نے مضبوط فوج، مردوں تک محدود شاہی جانشینی اور بند نیوکلیئر ری ایکٹرز کی بحالی جیسے نکات پر اتفاق کیا ہے۔

اس میں کافی تبدیلی آئی ہے اس سے قبل وہاں حکومت کو پارلیمانی عمل میں مشکلات پیش آ رہی تھیں اور حتمت کا وقت اٹھانے پر جاپانی وزیر اعظم نے اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تھا، اس سے یہ جانا ملا ہے کہ ان کی political ساکھ کس حد تک بھر پور تھی اور ان्हوں نے عوام سے جو معاملات پر اتفاق کیا تھا وہی اس مقصد کے لیے ضروری تھے۔
 
ان کی یہ بات بہت محمص ہے کہ وہ عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنے کے لئے اسمبلی تحلیل کر رکھی ہیں، یہ بھی دیکھنا اچھا ہے کہ ان کی سیاسی ساکھ اتنی مضبوط تھی کہ وہ جاپانی انوویشن پارٹی کے ساتھ اتحاد کر پائیں جو اس وقت دائیں بازو کی جماعت کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن یہ بھی بات یقینی طور پر نئی ہے کہ ایسے پیمانے پر عوام کے ساتھ اتحاد کرنے میں ان کی پیداوار کیا ہو گا، اور یہ تو دیکھنا اچھا ہے کہ وہ اس نئے انتخاب میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں
 
بھارتی ایکسپریس کی رپورٹز سے پتہ چلا ہے کہ Japan کی پہلی خاتون وزیر اعظم San'ei Takaichi نے اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا مقصد عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنا ہے اور یہ واضح تھا کہ اس کی political ساکھ کس حد تک بھر پور تھی 🤔

کہتا ہوا جاپانی وزیر اعظم نے اپنی سیاسی ساکھ پر لگائی ہوئی تھی اور وہاں ایک طاقتور جماعت کے ساتھ اتحاد ہونے کا نتیجہ ان کی بڑی پہچان تھی 🌟

اس میں کافی تبدیلی آئی ہے اس سے قبل وہاں حکومت کو پارلیمانی عمل میں مشکلات پیش آ رہی تھیں اور اب اس نے الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تھا جس سے یہ جانا ملا ہے کہ ان کی political ساکھ بھر پور تھی اور انہوں نے عوام سے جو معاملات پر اتفاق کیا تھا وہی اس مقصد کے لیے ضروری تھے 👍
 
جاپان کی sanai takachi ko dekhte hain toh yeh kafi achi baat hai ki unki pehli mehnat se naya rasta nikala hai 😊. Ab baki sab ko dekhkar dikhayega ki kya ye rasta sahi tha ya nahi? Yeh batna mushkil hai lekin agar unhone apni sachchai par chadhaana hai toh yeh ek badi mehnat thi.

Kya yeh unite hona ek achha tareeka tha ya nahi? Mere liye yeh ek aam sense ban raha hai. Lekin koi bhi baat saaf hai, jaise ki unhone kis tarah se apni sachchai ko prakat kiya? Aur kya ye unite humein kisi aur cheez ka intazaar nahi kar raha hai? Yeh sab kuch sochna padega.
 
ایک واضح بات یہ ہے کہ جاپان کی خاتون وزیر اعظم نے اپنی پہچان ایک طاقتور جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے پر قائم کی ہے جو دائیں بازو کی ہے، یہ بات تو اچھی ہے لیکن ان میں سیاسی ساکھ بھر پور ہونے کا امکان تو موجود ہے لیکن ایسے معاملات پر عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا، اس میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے اس سے قبل جاپانی حکومت کو پارلیمانی عمل میں مشکلات پیش ا رہی تھیں اور اب وہ وکالت کرنے والی جماعت کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن کرانے کی کوشش کر رہی ہے، یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا کی وہ کیسے اس مقصد کے لیے کام کرتی ہے، 🤔
 
تاکائیچی کی اس بات سے بڑا خلیق ہوا نہیں، ایسا تو ہونے دے ہی پینے ڈالوں گے کہ وہ عوام سے کیا مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ جاپان کو وہی ہی نتیجہ مل گیا جو اس کے انتخابی نظام میں بھی دیکھنا پڑتا تھا، اور یہ سب ایک حد تک عجیب بات ہے، ایسا لگتا ہے جیسے وہ عوام سے جو چاہتی ہیں وہی پائی جائیں گی… 👎
 
اس جواب کی رائی کرو – Japan ki pehli khatoon وزیر azam Sanai Takachi ne assembly analysis karke election call karna chahti hai, jis ke liye usne apni political saakh daau par lagayi hui hai. Yeh badi pechann iss ki vaqt takhiyon ko jeene wali ek shaktior jamati ke saath milane ka natiya tha jo Japan Innovation Party ko samajti hai. Dusre jamatoon ne mazboot fauj, logon tak limited shahari janashini aur band newclear reactor ki waja par musawat ki. Iss mein kafi badlaav aaya hai iss se pehle uss jagah paritiyari process mein mushkliyan aati rahi thi aur Japan ki azam ne assembly analysis karke election call karne ka faisala kiyaa tha, isse pata chal gaya ki unki political saakh kitni bhara puri thi aur unhone logon se jo maamalon par musawat kiya tha, wohi iss tarah ke liye zaruri the. 🤔
 
I don’t usually comment but… اس نئے عمل کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ سچ میں لگتا ہے کہ جاپان کی خواتین کی سیاست میں ایسا کرنے کا کام بھی ضروری تھا، ایک طاقتور جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا انہیں زیادہ پ्रभाव دیتا ہوگا… لگتا ہے کہ وہ فوج کی صورت حال کو بھی کمزور نہیں کر سکیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کو سمجھائے جانے والے معاملات پر توجہ دینی چاہئے…
 
جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم سَنائے تاکائیچی نے اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا مقصد عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنا ہے، جس کے لیے اس نے اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگائی ہوئی ہے۔ یہ بڑا move ہے کیونکہ اس میں جماحتی اتحاد کی وکالت کرنے والی ایک طاقتور جماعت کے ساتھ تعاون ہے جو دائیں بازو کی جماعت جاپان انوویژن پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ دونوں جماعتوں نے مضبوط فوج، مردوں تک محدود شاہی جانشینی اور بند نیوکلیئر ری ایکٹرز کی بحالی کیا ہے جو اس میں ایک بڑی تبدیلی ہے جس سے پچھلے انتخابات میں موجودہ حکومت کو پارلیمانی عمل میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ اب یہ جاننا آسان ہے کہ وزیر اعظم کی سیاسی ساکھ کس حد تک بھر پور تھی اور انھوں نے عوام سے جو معاملات پر اتفاق کیا تھا وہی اس مقصد کے لیے ضروری ہیں، ڈھائی سالوں میں اس کی پالیسیوں کی بدولت عوام نے ان کی Political ساکھ کی ایک بھرپور رائے دی ہے جو اب ان کے لئے نئے انتخابات میں ایک اچھا مینڈیٹ ملنے والے فائدے سے بھرپور ہے.
 
ایسا لگتا ہے جیسے جاپان کی خواتین کو اپنی قوت کو ظاہر کرنے کی بڑی فرصا دی گئی ہے اس سے پہلے وہاں پارلیمانی عمل میں کافی مشکلات تھیں اور اب جاپانی وزیر اعظم نے اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کرانے کی وکالت کی ہے، لیکن اس سے پہلے سے یہ بات معلوم تھی کہ عوام کو جو معاملات پر ان کی political ساکھ سے اتفاق کرنا تھا، اب وہی معاملات الیکشن میں ضروری ہیں تو چلا جائے
 
یہ بات تو واضح ہے کہ جاپان کی نئی خاتون وزیر اعظم کو اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنے کیStrategy ہے اور اس میں اتحاد کھیل ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ وہ اسی ساتھیوں کے ساتھ ہو رہی ہیں جس نے انہیں وکالت کی۔ اس کے ساتھ ایک بات یقیناً ہے کہ جاپان میں پارلیمانی عمل کو بہتر بنانے کے لیے یہ کام کچھ نئیں ہے، لیکن یہ کہتا ہے کہ اس سے پہلے حکومت کو کیا کرنا تھا اور اب کیا کر رہی ہے۔
 
اوہا تو یہ بہت اچھا کہ جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم نے اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کرانے کا مقصد عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کیا ہے ، یہ ایک بڑا قدم ہے جو ان کی سیاسی ساکھ کو دیکھنا پڑتا ہے اور یہ بات بھی توہانہ نہیں کہ وہ وکلٹ کرنے والی ایک طاقور جماعت کے ساتھ اتحاد کیے ہوئے ہیں ، انہوں نے مضبوط فوج، مردوں تک محدود شاہی جانشینی اور بند نیوکلیئر ری ایکٹرز کی بحالی جیسے نکات پر اتفاق کیا ہے جو معاشرے میں بھلائی لگانے والے ہیں ، یہ سارے things ان کی وکالت کرنے والی جماعت کے ساتھ اتحاد نے ہمیشہ سے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ الیکشن میں بھی جیتتے ہیں
 
جب ایسے ماحول میں جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم نے اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تو یہ صرف ایک مقصد تھا، سچائی یہ ہے کہ وہ عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنی سیاسی ساکھ اور جماعت کی اتحاد کی وکالت کرنے والی طاقتور جماعت کے ساتھ اتحاد کیا ہے، جو دائیں بازو کی جاپان انوویشن پارٹی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں جماعتوں نے ایسی Nikatayen jo unki wajahat karne wali hai.
اس سے قبل جاپان کی حکومت کو پارلیمانی عمل میں مشکلات آ رہی تھیں، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوام سے معاملات پر اتفاق کرنا چاہتی ہے۔
اس میں ایک بات سے زائد ہے، اس نے اپنی political sakti ko bharapoor karna chaahiya.
 
Japan ki pehli khatoon wazir-e azam Sanayee Takaichi ne assembly ke analysis se naye election karnay ka utsahan ha. Yeh unki political saakh par laga hua hai, lekin yeh bhi suna hai ki unhone apni saakhaat ko kaise aur kitna strong banaya tha.

Uss takki ke liye unhone ek powerful party ki wajah se madad maa di thi jo Japan Innovation Party samji jati hai. Donon parties ne mazboot dushman, ladkon tak rai shahar par jagah di thi, aur band niukliya reactor ka peechha kaha tha.

Yeh badi badlaav hai jab tak un government ko parliamentary system mein mushkilein aayi thi. Japan ki wazir-e azam ne assembly analysis kee jaa rakhi thi jo unki political saakh ko kitna sahi tha aur unhone kis tarah public se kaise agreement kiya tha?
 
یہ جاپانی وزیر اعظم کی پہلی بڑی کارروائی ہے، ایک اچھی بات ہے کہ وہ عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنے کا مقصد رکھرہا ہے نہیں تو اس کی سیاسی ساکھ کس حد تک چل رہی تھی، جاپان میں_politics_very_complex_hai اس کی یہ پہچان ان کی وکالت کرنے والی ایک طاقتور جماعت کے ساتھ اتحاد ہونے کا نتیجہ تھی، لیکن یہ بات سچ ہے کہ جاپانی عوام بھی اپنی سیاسی مستقبل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور وہ اتنا ہی دل چسپ ہوئے تھے کہ ان्हوں نے ایسا فیصلہ لےنا ہے جو اس کی سیاسی ساکھ کو بھر پور بنایے یہ_جاپانی_دولت_کی_پہلی_خاتون_وزیر_اعظم_نے_اسکے لیے_یہ_ہے.
 
اس نئے نظام کی دیکھ بھال کرنی پڑے گی، کیونکہ اس میں عوام کی رائے کو یقینی بنانے کی جگہ بھی ہوئی ہے، اب وہ جو معاملات پر توسیع کرتا ہے وہ سچمائی بھی ہو گا کہ عوام کے دل میں اچھائی کس کی ہے؟
 
اس بات کی سب کو ایک سے زیادہ ترحیل اور ایک دوسرے سے تعلق تھا کہ یہ الیکشن جس پہ چلے گا وہ الیکشن نہیں ہوگا جو عوام نے مانا ہوگا بلکہ اس میں انہیں بھی شامل ہونا ہوگا جس سے وہ اپنی حقیقتی آواز کو سمجھ سکے گے اور خود کے لیے کوئی بھی دوسرا رول نہ بننے دیں گے
 
واپس
Top