اقوام متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے،اسحاق ڈار

فوٹوگرافر

Well-known member
اقوام متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے، اسحاق ڈار نے انکی جانب سے پھونٹ کیا تھا

اسحاق ڈار کے مطابق اقوام متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے، جس پر انہوں نے اپنی جانب سے پھونٹ کیا تھا۔ اس معاملے پر عسکری قیادت اور وزیراعظم سے بات کرنے کو انہوں نے قرار دیا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ افغانستان کے تین دورے کئے اور اس میں ہمسائے تبدیل کرنے کی کوئی سازش نہیں ہوسکتی ہے، یہی وہی صورتحال پھیل گئی جس کا خاتمہ کیا گیا تھا، اور اس کے بعد نئے دور کی سازش ہوئی، افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل کرنا تھا لیکن وہ نہیں کر سکتی تھی، ان کے بارے میں بھی مسائل پیدا ہوگئے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ یہ بھی افغانستان کی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں کیا جائے گا، پاکستان کے پاس 40لاکھ سے زائد لوگ رہتے ہیں، جنہیں ان کی مرضی پر فوج کے ہاتھوں ماریا جائے گا اور دہشت گردوں کو اپنے گھروں میں سے باہر نکلوا دیا جائے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے فون کیا تھا کہ روس، ایران، قطر، ترکی، پاکستان اور افغانستان مل کر بیٹھ جائیں اور دہشت گردی سے نمٹنا ہو گا۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ یورپی یونین حکام کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے، امیر متقی کو ساتھ کھڑا کرکے فیصلوں سے عوام کو آگاہ کیا گیا تھا، اور پاکستان اور ازبکستان کے درمیان افغانستان کو لنک کرنا چاہتا تھا لیکن اس میں کوئی بہتری نہ ہوئی، اچھی چیزوں کی جاسوسی سے دوسری طرف کے رویے میں بدلاپہنچنا نہیں چاہئے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ ماسکو کا دورہ کامیاب رہا اور تمام ملاقات بھی اچھی رہیں، روس کی طرف سے گرمجوشی اور مثبت ردعمل رہا، یورپین یونین کے ساتھ بھی کھل کر بات ہوئی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب مسلم اور غیرمسلمان دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے اکھٹے ہو جائیں گے، پاکستان تعاون میں ایک قدم آگے جائے گا اور امت کے لیے ہونا چاہیے۔
 
عشاق ڈار کی باتوں سے بھرپور مضمون بن گیا ہے، انہوں نے دہشت گردی پر مکمل توجہ دی ہے اور اس کے حل کی جانے والی منصوبے کو بھی بڑی دیر سے چاہئے تھا۔ پٹیاں نہ کرنا بھی آسان نہیں ہے، اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی کی جان کو لینے والوں کو ان کی مرضی پر فوج کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
 
یہ پوری صورتحال کو سمجھنے کی اجازت نہیں دیتے یقیناً افغانستان سے باہر کام کرنا ہی دباؤ میں رکھتا ہے ، پاکستان کو اپنی جان پر قائم رہنا چاہئے اور کچھ نہ کچھ اس بات پر زور دیا جائے گا تاکہ مریض کی طرح نہ بنے .
 
اسحاق ڈار کی باتوں پر دیکھتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے ایک نئے دور کی hopes لے رہے ہیں، اور ان کا مقصد دہشت گردی کو ختم کرنا ہے جس کے ساتھ ساتھ امن و صلہ بھی حاصل کیا جا سکے گا.
 
اسحاق دار کی بات سے نکلتا ہے یہ تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ کیسے اس مظالم پر فوج اور عوام کو مڑا رکھنا چاہتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ افغانستان میں پورے ملک کو ایک ہی رویے پر لانے سے دہشت گردوں کو ختم کرنا ہو گا؟ یہ تو بہت سچ اور صاف ہے لیکن وہ لوگ جو اس معاملے کا علم رکھتے ہیں انہیڰا پتا چلتا ہے کہ یہ ایک بہت ہی خطرناک رواج ہو گا۔
 
اسحاق ڈار کی جانب سے افغانستان کے بارے میں بات کرنا کو ایک بڑا معاملہ بن گیا ہے، میں سوچتا ہوں کہ وہ اپنی باتوں پر اچھی طرح سے غور کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے فون بھی کیا گیا ہے تاکہ کسی کو نقصان نہ پہنچے، اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی سے نمٹنا مشکل ہے اور وہ ٹی ٹی پی کی مشکل کو حل کرنے میں بھی ناکام ہوئے، لیکن وہ افغان حکومت سے بات کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا اور اس کے بعد کے نتیجے کا مشورہ کیا ہے، میں اس بات پر اچھا خیال کر سکتا ہوں کہ افغانستان کے بارے میں معاملات کو حل کرنے کے لئے کسی بھی ایسے قدم کو اٹھایا جائے گا جس پر وہ ذمہ دار رہیں، اس کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے پورا پاکستان دہشت گردوں کے خلاف لڑنے میں مدد فراہم کرے گا
 
اسحاق ڈار کی بات پر فخر ہو سکتا ہے، لیکن پھونٹ کیا ہوا تھا یہ تو دوسرے سے پوچھنا چاہئیے اور ڈار صاحب کی باتوں پر ایک ڈسپلے بنایا جائے گا، اس کے بعد ہی یہ بات واضح ہوجائے گی کہ وہ کون سے اہم فیصلے لائے تھے اور ان پر کیوں پھونٹ کیا گیا تھا، نہایت ضروری ہے کہ یہ بات پہلے سے واضح کے جسے اسحاق ڈار صاحب کو سچ لگ کر کی تھی اور اس لیے ان پر ایک نئی رائے بھی دی جا سکتی ہے
 
اسحاق ڈار کی بیٹھکی سے یہ بات زہر رہتی ہے کہ وہ افغانستان میں امن کا خواہاں ہیں اور وہ اپنے ملک کی جانب سے فوج کا استعمال نہیں کرتے گا۔

[diagram: ایک ٹرسول پر ایک ایم پی میگا سائن تھی جس پر "افغانستان کو امن اور صحت" لکھا تھا ]
 
اسحاق ڈار کی بات سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر توڑ پُودے کے طور پر کام کر رہے ہیں، ابھی انھوں نے افغانستان سے پاکستان اور دنیا بھر کے دوسرے ممالک کے درمیان دہشت گردی کو ختم کرنے کے معاملے پر بات کی ہے، لیکن انھوں نے ابھی تک کبھی ایسا معاملہ توڑ پُودے کی طرح نہیں کیا ہے، اس حقیقت سے انھیں آگاہ کرنا چاہئے کہ ان کے پیروکار پاکستان اور دنیا بھر میں دوسرا معاملہ توڑ پُودے کی طرح دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے کیوں نہیں کیا ہے؟
 
واپس
Top