ارب پتی افراد میں کون سب سے آگے؟ جان کر دنگ رہ جائیں گے

کنسول پرو

Well-known member
دنیا کے امیر ترین 12 شخصیات کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی، یہ معلومات اعلیٰ فلاحی ادارے ‘آکسفیم‘ کے مطابق ہیں جس نے بتایا ہے کہ دنیا میں ان لوگوں کے پاس چار अरب سے زائد افراد کے مقابلے میں زیادہ دولت ہے۔

یہ معلومات یوں اٹھائی گئی ہیں جیسا کہ دنیا کی معیشت میں تیز رفتار ترقی اور امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافے سے معاشی ناہمواری بڑھتی جا رہی ہے، اس کے نتیجے میںPolitics میں طاقت حاصل کرنے کے لیے دولت کی ایک نئی طاقت بن چکی ہے۔

ابھی ہی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی اس تعداد میں تین سو سے زائد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم تھرڈرام نومز۔

آکسفیم کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی مجموعی دولت 2025ء تک 18.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس میں سے 16.2 فیصد اضافہ ہوا اور وہاں دنیا کے امیر ترین لوگ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک بھی شامل ہیں۔
 
چال آئی، یہ بات تھوڑی غبراہت کن ہے کہ دنیا میں ان لوگوں کی دولت اور طاقت ایسی حد تک پہنچ گئی ہے کہ وہ معاشی ناہمواری کو بھی خود میں لپٹ رہے ہیں، یہ تو اپنی دنیا کی ایک دوسرے دیکھنے کو نہیں آتا، اور ابھی وہ کیا جائے گا؟ 🤯
 
ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافے سے معاشی ناہمواری اور غیر مساوی معیشت کے مسائل بڑھ رہے ہیں 🤔

اگلی صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ امیر ترین لوگ اپنے مال و دولت کا استعمال کرکے عام لوگوں کو بھی معاشی طور پر مستقل اور समृद्ध بنانے کی کوشش کریں

اس لیے یہ ضروری ہو گا کہ امیر ترین افراد نے اپنی دولت کو معاشی ایمپائرٹیز سے بھی استعمال کیا جائے، اور انھوں نے اس بات پر توجہ دھین کی کہ وہ اپنے مال کو فیکلٹیز اور بینچ مارکسیسٹ پروجیکٹ سے بھی استعمال کریں

اس طرح معاشی ناہمواری کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور عام لوگ ایسے منصوبوں میں شامل ہو سکیں گے جو معیشت کو بھی انصاف سے سمجھ سکیں گے
 
دنیا کی معیشت میں تیز رفتار ترقی تو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہی ساتھ معاشی ناہمواری اور عدم مساوatism کا باعث بن رہا ہے؟ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی مجموعی دولت 18.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اس سے یہ بات بھی اٹھانی چاہیے کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں ابھی بھی پوری دنیا کی معاشیات پر انحصار کرتے ہوئے دولت حاصل کرنے کی چاہت نہیں ہوتی لیکن یہ حالات تو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دنیا میں معاشی عدم مساوatism بڑھ رہا ہے

ایسے سے وہ لوگ جو اپنی دولت پر قابو پانے کی چاہت رکھتے ہیں ان کو اور اس معاشی نظام کو ایک نئی طاقت کی طرح کے یہ حالات ہیں جس سے Politics میں طاقت حاصل کرنے کا راستہ بھی پورا ہو رہا ہے
 
یہ بات تو صاف ہے کہ امیر لोगوں کی تعداد زیادہ ہونا معاشی ناہمواری کو بڑھاتا ہے، ایسے میڈیا ٹرولز کر رہے ہیں کہ یہ سب معاشرے کی معیشت پر برا اثر ڈالتے ہیں، پھر بھی آکسفیم کے مطابق دنیا کے امیر ترین لوگوں کی دولت بھی زیادہ نہیں ہوگی، اس کی تعداد میں تین سے زائد امریکی صدر اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم انٹرنیٹ پر سب سے پہلے رکھ گئے ہیں؟
 
میری رائے ہے کہ یہ اعلیٰ فلاحی اداروں پر بھی نہیں تو ہمارے سماج میں بھی اس بات کا تعاقب ہونا چاہیے کہ ان امیر ترین لوگوں کی دولت سے معاشی ناہمواری میں اضافے کو روکنے کی کوشش کی جائے۔
اس لئے میری رائے ہے کہ یہ دولت سے بھی اس معاشرتی نظام کا تعین کرنا چاہیے جو ہم اپنے سماج میں چاہتے ہیں۔
 
اس نئے ریکارڈ کی تکمیل کرنے والوں میں ابھی تو سرفہرست لوگ شامل ہیں، اور اب یہ بات سامنے آئی کہ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی مجموعی دولت 18.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے... یہ تو سوشل میڈیا پر اسٹرس تھام کر رہا ہوں گا کہ کوئی بھی دوسرا کیسے روکے گا؟

دنیا کی معیشت کی تیز رفتار ترقی تو ایک سائن پچکن ہے... لوگ اپنے دولت میں اضافے کی وجہ سے خود کو اچھی طرح غلبہ میں رکھ لیتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا وہی ہو کر جارہی ہے۔

ایسا بھی بات سائن کرتا ہوں کہ اس تعداد میں تین سو سے زائد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم تھرڈرام نومز شامل ہیں، یہ تو اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ politics میں طاقت حاصل کرنے کے لیے دولت کی ایک نئی طاقت چل رہی ہے...
 
اس تعداد میں ابھی تک اس سے پہلے کے امیر ترین لوگوں کی معلومات زیادہ نایاب تھیں، لیکن اب یہ بات صاف واضح ہو گئی ہے کہ معاشی جڑوں میں تبدیلی ہوتے ہی ہی معیشت کو متاثر کرنے لگتی ہیں اور امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافا اسے بھی اچھی طرح دکھایا دے رہا ہے۔ اب کہا جاتا ہے کہ دنیا کے امیر ترین لوگ چار अरب سے زیادہ افراد کی دولت کے مقابلے میں دولت تھپتھپ کر رہے ہیں، تو یہ بات بھی نتیجہ ہے کہ معاشی عدم استحکام کا معاملہ بھی ان کی طاقت کو دیکھنا پڑ رہا ہے۔ 🤑
 
امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافہ سے معاشی ناہمواری بڑھ رہی ہے، یہ تو کہنا چاہئے کہ اسے دور کرنے کے لیے کوئی اچھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

جب تک ان لوگوں کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہ معاشی ناہمواری کو حل کرنے کے لیے اس پر عمل نہیں کر رہے، اور یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں فیل ہو رہا ہے۔

دنیا کے امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافہ سے Politics میں طاقت حاصل کرنے کے لیے دولت کی ایک نئی طاقت بن چکی ہے، یہ تو خوفناک ہے۔
 
اس دuniya mein apne logon ko ek dusre se compare karna bhi ek mazza nahi ban raha, sab log sirf apni ikattha money dikhata hua hai, aur yeh bhi sach hai ki abhi tak 3000 se zyada log hain jo ke apne paise ko sahi tareeke se istemal kar sakte hain. lekin bas ek sawal hai ki kya is tarha ke logo ka matlab kya hota hai? aur yeh bhi kya koi samajh sakta hai ki logon ki zindagi mein paise sirf ek cheez nahi hai, par ek jeevan ki cheez bhi hai.
 
مگر یہ قدرے خطرناک بات ہے، پوری دنیا میں ایسی شخصیات کی تعداد زیادہ ہوتی چلی گئی ہے جو اپنی دولت کے ذریعے Politics میں Control حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ یہ معاشی ناہمواری کے نتیجے میں ہے، دنیا کی معیشت میں تیز رفتار ترقی کے باوجود People کی معاشیات پر Control حاصل کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی چلی گئی ہے... 🤑💸📈

جب لوگ اپنی دولت کے ذریعے Politics میں Control حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ پوری دنیا پر Control حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ قدرے खतरناک بات ہے... 😬👊

دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی دولت کے ذریعے Politics میں Control حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ لوگ بھی ہیں جو دنیا کو بھلائی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں... 🌎👍
 
ایسے مینے نہیں سोचتا تھا کہ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی تعداد چار अरب تک پہنچ جائے گی، لگتے ہیں اب یہ تعداد 3000 سے بھی تجاوز کر گئی ہے! یہ معاشی ناہمواری کا مظاہر ہے جس سے politics میں طاقت حاصل کرنے کے لیے دولت کی ایک نئی طاقت بن چکی ہے...

اسے یوں کھانے کے لیے بھی آپ کو 18.3 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے، تو کس طرح لوگ اپنی دولت کو سمجھتے ہیں؟ ایک ملوث شخص نے بتایا تھا کہ یہ تعداد صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم تھرڈرام نومز کی دولت سے ہی حاصل ہوتی ہے...
 
میں تو سوچتا ہوں کہ 3000 سے زائد افراد کی تعداد میں اضافہ کیا ان لوگوں کے پاس معاشی استحکام نہیں ہوا؟ یہ عجیب ہے اور مجھے یہ بات بھی تباہ کن لگ رہی ہے کہ ان لوگوں کی دولت کا 16.2 فیصد اضافہ دنیا کی معیشت کو کیسے سمجھاتا ہے؟ یہ طاقت کا سدباب ہے، جس کی وجہ سے Politics میں طاقت حاصل کرنے کے لیے دولت کی ایک نئی طاقت بن گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ معاشی ناہمواری کو کم کرنے کے لیے ہمیں ایسے سہولتوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو ایکFair معاملہ دیں، اس لیے یہ بات بھی تازہ دلی لگتی ہے کہ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافے سے کیا کچھ نایاب ہوا؟ 😐
 
یہ دیکھنا تو بہت نچستہ ہے کہ دنیا کی معیشت میں تیز رفتار ترقی سے عالمی معاشی ناہمواری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور ابھی یہ تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے جس کے نتیجے میںPolitics میڰ طاقت حاصل کرنے کے لیے دولت کی ایک نئی طاقت بن چکی ہے، یہ تو خوفناک ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ان تعداد میں شامل ہیں؟
 
دنیا میں امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافے سے معاشی ناہمواری بڑھ رہی ہے اور یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ابھی ہی 3000 کے قریب لوگ دنیا کی امیر ترین لیسٹ میں شامل ہو گئے ہیں... ان کی دولت ایک نئی طاقت بن چکی ہے جوPoliticsمیں بھی اپنا اثر پڑا رہا ہے۔ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی مجموعی دولت 2025 تک 18.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے... یہ بات حیرت انگیز ہے! 🤯
 
دنیا میں امیر ترین لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے سے معاشی ناہمواری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ توจรور ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اگر ان لوگوں کو اپنی دولت کا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تو کیا معاشی ناہمواری سے بچا جا سکta ہے؟

دونوں دuniya میں امیر ترین لوگوں کی تعداد میں اضافے اور ان کی دولت میں اضافے کے اسباب کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ بات صریح ہے کہ دنیا بھر میں امیر ترین لوگوں کے پاس اپنی دولت کو کیسے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی?

دونوں ان کے پاس کیا فایڈ برائے دuniya ہے؟ یہی سوال آئے دن پوچھا جاتا رہے گا اور اس کا جواب بھی ایسی ہی ہوگا
 
اس عالمی معیشت میں 3000 سے زائد لوگوں کے پاس تینوں ارب سے زیادہ دولت ہونی تو بہت خشامتی ہے، اور ابھی اس تعداد میں ریکارڈ سطح پر پہنچنا تو ایک جانب سے عجीब نہیں ہے، لیکن تیز رفتار ترقی اور معاشی ناہمواری کے بھی اس کو لینا چاہئے।
 
واپس
Top