دنیا کے امیر ترین افراد، جو چار ارب سے زیادہ لوگوں سے زائد دولت کے مالک ہیں، کون سر۞فرست ٹیسلا اور سپیس ایکس کی سربراہی کر رہے ہیں؟
دنیا میں پہلی بار چار ارب سے زیادہ لوگوں سے زائد امیر ترین افراد کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے، جس کی وجہ 2025ء کے اوقات میں ریکارڈ سطح پر دولت کا معاملہ ہے۔ اس رپورٹ کی آزماط ایک ارب پتی افراد کی مجموعی دولت 18.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو سے ایسے معاملات میں اضافہ ہوا ہے جیسے امریکا کی صدر کے حوالے سے پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن سے دنیا بھر میں امیر ترین افراد کو فائدہ ہوتا ہے اور ان عالمی معاہدوں کو کمزور کرنے کے ذریعے ان کی دولت میں اضافہ ہوا ہے۔
موجودہ دنیا میں اگر امیر ترین افراد کی دولت کا معاملہ تو ان کے پاس چار ارب سے زیادہ لوگوں سے زیادہ دولت موجود ہے، جو دنیا بھر میں معاشی ناہمواری کی وجہ سے پھیلتی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عوامی حقوق کو نقصان اور سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لیے ان امیر ترین افراد پر یہ طاقت محفوظ ہو رہی ہے۔
اس وقت کی دنیا میں امیر ترین افراد کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ بات سچ ہے کہ انھوں نے اپنی دولت کو اس لیے بڑھایا ہے کہ وہ دنیا کی سیاست میں بہت زیادہ اثر انداز ہیں اور ان کی دولت انہیں زیادہ طاقت فراہم کرتی ہے۔
بھائی یہ بات اتنی حقیقی ہے کہ دنیا میں چار ارب سے زیادہ لوگ کو دولت مل چکی ہے، لاکھ لاکھ افراد کو گhar ki aafat ہو رہی ہے اور انھیں معاشرے میں بھلائی اور سیکھنے کا موقع نہیں مل رہا، پھر بھی دنیا کی امیر ترین افراد نے اپنی دولت کو ایک ساتھ رکھا ہے اور یہ معاملہ انھیں اچھی طرح استعمال کرنے کی مجاز دے رہا ہے، اس کے لیے مجھے بھی غلط نہ لگے گا کہ دنیا میں انھیں معاشرے کے لیے زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔
یہ بات تو ظاہر ہے کہ دنیا کی امیر ترین دھندلوں کی تعداد اب چار ارب سے زیادہ ہو گئی ہے، لیکن یہ پہلے سے بھی جیسا ہے، صرف اس میں کمی نہیں ہوئی، اس کی وجہ کہ ان کے پاس دنیا بھر میں معاشی ناہمواری کو پھیلانے والے اور انہیں مزید دولت میں اضافہ کرنے والے معاہدوں کی موجودگی ہے۔ یہ واضح طور پر بات ہے کہ اس عالمی معاشرے کو چیلنج کرنا بہت مشکل ہو گا، اور ان امیر ترین افراد کی طاقت کمزور نہیں ہوسکیگی۔
ایسے میں ٹیسلا اور سپیس ایکس کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے دنیا بھر میں امیر ترین لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کا معاملہ تو عجیب نہیں، لیکن یہ بات دیکھنا اچھی گئی کہ اس طرح کی دولت کے ذریعے امیر ترین لوگ کیسے معاشی ناہمواری میں پھیلائی ہوئی ایسی عوامی حقوق کو نقصان دیں؟
یہ تو ایسا بھی سچ ہے کہ دنیا کی امیر ترین افراد نے اب تک چار ارب سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر دولت کی سرزمین پر اپنی فتوحات قائم کی ہیں... ان کی دولت کا معاملہ ایک بڑی problem ہے، کیونکہ یہ معاملہ دنیا میں پھیلتی ہوئی معاشی ناہمواری کو تیز کر رہا ہے... عوام کے حقوق پر یہ طاقت اسی شخص کے پاس محفوظ ہے جو اپنی دولت سے کبھی بھی انhuminity کرنے والے ہیں...
اس میں ایک بات بات چیت نہیں، یہ معاملہ ہمیشہ سے موجود ہے لیکن اب اسے ایسی سطح پر سمجھنا مشکل ہو رہا ہے جس کے لیے ہم اپنے معاشرے کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہیں...
اس دنیا کی مصلحت میں چار ارب سے زیادہ لوگوں سے زیادہ دولت والے شخصتوں کا معاملہ، مجھے یہ بات دلچسپ لگتی ہے کہ ان کی دولت میں اضافہ کرنے کے ذریعے دنیا کو کیا فائدہ ہو گا؟
میں سوچتا ہوں کہ یہ معاملہ صرف وہ لوگوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے جو اس معاملے میں شامل ہیں، بلکہ اس سے متعلق دنیا بھر میں عوام کو فائدہ حاصل ہونا چاہیے۔ اس لیے یہ ضروری ہو گا کہ ہمیں ان معاہدوں کی طرف اشارہ کرنا ہوگا جو ان امیر ترین افراد کو فائدہ دیتی ہیں، اور یہ بھی کہ ہم انہیں اس بات پر توجہ دلاتے ہیں کہ ان کی دولت میں اضافہ کرنے سے عوام کو نقصان نہ ہو اور ان کی طاقت کو ایسا استعمال نہ کیا جائے جو عوامی حقوق کو نقصان دے۔
یہ بہت غلط ہے کہ لاکھوں لوگوں کو ساتھ لے کر امیر ترین شخص کو اتنا ملازمت دی جا سکتی ہے...
جس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر ایک شخص کو پوری دنیا میں اس کی دولت کا استعمال کرتے ہوئے انھیں بہت زیادہ ملازمت دی جاتی ہے...
اس میں ساتھ لے کر بھی ایک دوسرے کی معشوق بننا نہیں ہوتا اور ملازمت کا ایک نئا معاملہ پیدا ہوجاتا ہے جس پر کسی شخص کو زیادہ ملازمت دی جانا بھی نہیں چاہیے...