چوروں کو کراچی کے اسٹیل مل سے گرفتار کر لیا گیا
چوری شدہ سامان سے بھرپور ٹکसال
کراچی کے اسٹیل مل سے چوری میں ملوث 4 ملزمان کو پولیس نے اور قائم کر لیا گیا۔ ان میں سے دو سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے جو اندرونی سہولت کاری کے ذریعے چوری کی وارداتوں میں ملوث نکلے۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 80 کلو گرام کاپر وائرز برآمد کیں، جو اس چوری کو بڑھا دیتے تھے۔ ان ملظموں نے گاڑی کے ذریعے چوری شدہ سامان کو کارخانے میں منتقل کر رہے تھے۔
کراچی کے اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث 4 مللمان عمیر ضیاء اور نعیم اختر سمیت ان کے دیگر رانہوں اور عبدالقادر شاہ نے ہوئے ہیں۔
ملzmanوں کی کارگاڑی کرولا کو بھی پولیس نے تحویل میں لیا ہے۔ ان ملزمان نے چوری شدہ سامان مختلف اسکریپ ڈیلرز اور کباڑیوں کو فروخت کرتے تھے۔
ملzmanوں کی مہارت سے بھرپور ٹکسال ہوئی ہے، جس کا مطالعہ کرنا پڑega۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس نے مزید تفتیش کا آغاز کیا ہے۔
ਆرے ویلو! یہ چوری گiri اور غلطیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ان ملzmanوں نے چوری شدہ سامان کو اسٹائل کرکے سچائی کو پھٹا دئیے ہیں، اب وہ اپنی مہارت کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ لوگ انہیں چوریوں کا شکار نہ بنے۔ لاکھوں روپئے کی دھातوں کو چوری سے بھاگنے والے ہیں، اور وہ لوگ اپنی چوری کا انکشاف کرنے کے بجائے انہیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں...
یہاں اور میتھوں سے چوری کیسے ہوتی ہے؟ ان لوگوں کو تو پکڑ لیتے ہیں بلکہ جس کی پکڑ بھی کرنے میں تو کم نہیں اور کچھ لوگ سیکورٹی سے بھی ملے دلاتے ہیں؟ ابھی تو ان کا فائدہ اٹھانے کا موقع ملا تو چوری کو بھی زیادہ نہ کرنا چاہئیے۔
اس چوری میں اسٹیل مل کے ملازمین بھی شامل تھے تو یہ کچھ نہ کچھ ہوتا۔ اگر ان کی مہارت سے بھرپور ٹکسال ہو رہی ہے تو اس کا مطالعہ کرنا پڑega. لیکن، یہ بات واضع ہے کہ چوری شدہ سامان کو فاسلے سے فرار نہیں ہوتا. پھر بھی یہ بات یقینی نہیں کی جاسکتی کہ تمام ملازمتوں میں بدلوپت بھی شامل تھے یا نہیں. 80 کلو گرام کاپر وائرز برآمد کرنا تو بالکل اچھا نہیں ہوتا، مگر یہ بھی بات ہے کہ پولیس کو کافی کام ہوگا.
تھوڈا اچھا بات ہے کہ چوری شدہ سامان کو اٹھانا پڑا ہے، لیکن ہمے نہیں، ان ملzmanوں کو بھی پھنسی کے ساتھ جلا دیا جا سکتا ہے۔ چوری کی سزا اٹھانے والے لوگ تو دھندے ہوتے ہیں، ایسے میں ان سب کو بھی گرفتار کر لیا جاسکتا ہے۔ اور پھر یہ بات کتنی ضروری ہے کہ ان کی کارگاڑی کو بھی چوری شدہ سامان سے منسلک کردیا جائے تو یہ دھندے میں اچھے ہوتے ہیں۔
یہ سوچو کہ چوری کی وہ مہارت، جو آج ہر جگہ موجود ہے، اس کے پیچھے کیوں ہے؟ یہ تو اکیلے نہیں بلکہ سماجی پہلوؤں سے بھی متعلق ہے۔ ماڈرن تہذیر کا ایسے نظام جس میں غنائیں اور کپڑے ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں، اس کے تحت لوگوں کو اپنی ضروریات سے بھی زینت لگنے کی فہمی ملتی ہے۔
عقل میں یہ سوچنا مشکل ہے کہ جو لوگ چوری کی وہ مہارت رکھتے ہیں ان کا دماغ کیسے تازہ ہوتا ہے اور ان کی ذہنی طاقتیں کیسے بڑھتی ہیں؟ سچائی یہ ہے کہ اس سے قبل وہ لوگ ہو گئے تھے جو آج کی دنیا میں چوری کر رہے ہیں، اور ان کی ذہنی طاقت بھی ان کے وقت سے ہی بدل رہی ہے۔
اس چوری میں سے دو سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے، یہ تو ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ملزم نہیں تھا بلکہ ان کی جاسوسی وغیرہ کی وہی گئی تھی جس کی پولیس نے اس چوری میں ملوث 4 ملزمان کے قبضے سے ٹکسیال کو بڑھایا ہے اور ان سے ٹکسیال کو مزید بڑھانے کی پریشانی نہیں ہوسکتی۔
اس چوری میں ملوث 4 ملzman کو گرفتار کر لیا گیا، اور یہ تو چھٹکلیوں سے بھرپور ٹکسال ہوئی ہے۔ ان ملزمن کے نالے کی گئی مہارت سے پتہ چلا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر ایسا مواد دھونڈ کرنے میں مصروف تھے جو بکھیرنا مشکل ہوتا ہے۔ اور اب یہ وہی کھیل جاری ہے کہ انہیں بچانے کے لیے سارے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسٹیل مل سے چوری شدہ سامان کی جڑیں اچھی طرح پٹی ہوئی ہیں! ان میں سے دو لوگ ٹیکسٹائل کے رینویرنگ کیے جانے والے اسکریپ ڈیلرز تھے، تو دوسروں نے کباڑیوں کی فروخت پر بھی کام کیا۔ ان لوگوں کو گاڑی میں پکڑ کر ساتھ لے جानاہیں بہت اچھا کھیل ہوا ہے! چوری کی گئی سامان کی قیمتی بھی ہمیں بتाई نہیں دیتی ہے، لیکن پولیس نے 80 کلو گرام کاپر وائرز برآمد کر لیے تھے، اس میں ایک بڑا حصہ ہو سکتا ہے!
چوری شدہ سامان کی ٹکصال اچھی ہے، پولیس کو بھی اچھی مہارت ہوئی ہے! चوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے بھی ٹکصال ہوئی ہے! مگر یہ بات ضروری ہے کہ چوری اچھی نہیں، یہ کھل کر نہیں چلنا چاہئے!
یہ تو ایک دھمکی ہے! چوری میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کرنا بہت آسان اور سہولت تھی? انھوں نے گاڑی کے ذریعے اپنے سامان کو چوری شدہ تھیلوں میں لپٹا کر پالٹ کر رکھا تھا، انھوں نے چوری شدہ سامان کو اسکریپ ڈیلرز اور کباڑیوں سے بھی بھگادھرکیا تھا!
جب پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا تو انھوں نے انھیں بھی چوری کی واردات سے ملوث کرنے والے انٹرنی ہائیروں کو بھی گرفتار کیا، اس سے انھیں مزید جال میں پکڑا گیا!
اس ٹکسال کی وجہ سے کبھی اچھا ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگ جو چوری کر رہے ہوتے ہیں انھیں گرفتار کر لیا جائے گا، لیکن وہاں بھی ایک بڑی سہولت ہوتی ہے!
ہاں بھی چوری کی گئی تھی! ان لوگوں کو ہم سب سے پہلے دھندے بناتے ہیں تو اور اب پھر پولیس نے ان کے جواب میں جواب دیا ہے. ان کی مہارت سے بھرپور ٹکسیال ہوئی ہے، یوں تو چوری کرنے والے لوگ واپس نہ آئیں گے! اور اب کراچی کے اسٹیل مل سے بھی چوری شدہ سامان کو فروخت کر رہے تھے، یوں تو ان کی مہارت بڑھ جائے گی! لگتا ہے انھیں پھر نئی دھندلیں لگائیں گے.
اللہ کی فضل سے پھر انصاف ہوگا! یہ چور چوری دھنڈے بے ایمان ہیں. انھوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی معاون بنایا ہے جس سے ٹکسیال زیادہ بڑھ گئی۔ کیا یہ کہنا کہ انہیں پہچانا نہیں چلا سکا؟ انہوں نے 80 کلو گرام کاپر وائرز برآمد کرائیں اور ابھی بھی گاڑی کے ذریعے چوری شدہ سامان کو کارخانے میں منتقل کر رہے تھے. مزید یہ کہ ان سے چوری کی وارداتوں میں بھی ملوث ہونے والے سیکیورٹی اہلکار کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا، تو پھر ٹکسیال کس حد تک ہوگا؟
اور یہ سڈی نہیں، چوروں کو گرفتار کر لینا ہی ان کی نیند آتا ہے! اور یہ بات بھی کچھ پریشان کن ہے کہ ان چوری شدہ سامان سے ملوث لوگوں کو ٹکسال مل گئی ہے... مینے اسی طرح کا خیال کر رکھتا ہوں، جس کی وجہ سے بھی وہ لوگ چوری نہیں کر سکتے!
اور یہ بات تو انہیں لاکھ لاکھ پیسے مل گئے ہوں گے... مینے بھی اپنی فیکٹری میں چوری کی حد کو لگایا ہوں، حالات بدل رہے ہیں!
کراچی کے اسٹیل مل سے چوروں کو گرفتار کرنا بھی بھی بھو تھا... اور اب یہ کچھ دیکھتے ہیں!
اس چوری کی جگہ انھوں نے انھیں پورا ٹکسال دیا ہے اور پولیس بھی انھیں مکمل طور پر اچھا بھی کیا ہے #ٹیکسالمشق۔ میری نایاب سوچ ہے کہ اس چوری کی جگہ کتنے لوگ آؤٹ اور ان کا ٹکسال بھی رکھنے والے بھی ہیں #چوری #کراچیاسٹیلمل #پولیس #ٹیکسالمشق