اسٹوڈنٹ ویزا: آسٹریلیا نے بھارت کو سب سے - Latest News | Breaking New

تتلی

Well-known member
آسٹریلیا نے 8 جنوری سے ہندوستانی طلبہ کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال کو سخت کردیا ہے، اس کے بعد ہندوستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جیسے نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان اور پاکستان کے ویزاء میں "سب سے زیادہ خطرہ" کا درجہ دیا گیا ہے۔

وزیر تعلیم جولین ہل نے کہا ہے کہ ان تبدیلیوں کی وجہ سے آسٹریلیا اب "بڑے چار” ممالک میں "کم سے کم برا انتخاب" بن گیا ہے جس کی وجہ سے نئی درجہ بندی کی وجہ سے دستاویزی فراڈ، سرقہ اور بدلوانی کے مسائل زیادہ بھرپور ہو گئے ہیں۔

آسٹریلیا میں ہندوستانی طلباء کی تعداد 140,000 تک پہنچ چکی ہے جو چین کے 190,000 طلباء سے کم نہیں، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ آسٹریلیا میں ہندوستانی طلباء کی تعداد بڑھنے سے اس ملک میں تعلیم کی معیشت پر بھی اہم اثرات پڑ رہے ہیں۔
 
اس وقت کیا کیا جائے وہ جاننا مشکل ہے، آسٹریلیا نے ایسے ہندوستانی طلباء کو منع کر دیا ہے جو اسٹوڈنٹ ویزا طلب کر رہے تھے اور اب ان کے لیے بھی یہ ممکن نہیں ہے، یہ بات تو پوری طرح ظاہر ہوئی ہے کہ اس ملک میں بھی حالات اس کی حد تک بدل گئے ہیں اور اب انہوں نے نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان اور پاکستان جیسے ممالک کو "سب سے زیادہ خطرہ" درجہ دیا ہے۔

مگر وہ یہ بھی تھا ایک فیملی پریزنٹیشن کرتے ہوئے، کیونکہ آسٹریلین طلباء کی تعداد 140,000 تک پہنچ چکی ہے جو چین سے کم نہیں اور یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اس ملک میں تعلیم کی معیشت پر یہ تعداد بڑھنے سے بھی خاص اثرات پڑ رہے ہیں، تو آج کا یہ فیصلہ کیا جائے وہ کوئی جاننا مشکل ہے
 
ارے یہ بات تو بتایا کے آسٹریلیا نے ہندوستانی طلباء کو ایسا ماحول دیا ہے جو اس طرح دھمکی دوڑی اور ساتھیوں کی چوری کرنے لگے؟ وہ کیسے بھارت کی پہلی رینج میں پھنس گئے، یار تو ان کا شکار کرنا ہوتا ہے اور پھر وہ فریٹ کو چوری لگاتے ہیں؟
 
اس کے بعد کیا؟ آسٹریلیا نے ہندوستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جیسے پچھلے گزشتہ سال ان میں سے زیادہ بڑی اور آسان شعبے تھے۔ اب یہاں پر ایسے نوجوانوں کے لیے ویزا کا راستہ بھی کمزور ہو گیا ہے جس کے لئے پچھلے کچھ سال سے اس وقت تک تیسری یا چوتھی درجہ کی فہرست میں شامل ہونے پر کبھی کبھار ویزا ملتا تھا۔
 
ایسے لگتا ہے کہ آسٹریلیا نے اپنے اسٹوڈنٹ ویزا منصوبے میں ایک بار فिर نئی جانچ پڑتال کھیل دی ہے، اور یہ جانچ پڑتال ان لوگوں کو زیادہ مشکل بنا دیتی ہے جو نئی تعلیم کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔

میرے خیال میں اس بات کو کھینچنے کے بجائے، آسٹریلیا کو اپنی تعلیم کی معیشت پر غور کرنا چاہیے اور اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ ان لوگوں کو کیے جانے والے فیصلوں سے آپ کس طرح فائدہ ہوسکتا ہے؟

ان 140,000 ہندوستانی طلباء کی تعداد بڑھنے سے آسٹریلیا کی معیشت میں ایک نئی طاقت پیدا ہو رہی ہے، لیکن اس بات کو یقیناً کھینچنا چاہیے کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا استحکام کا تعلق ہے؟
 
اسٹوڈنٹ ویزا میں تبدیلیاں کچھ عجیب ہیں 🤔. جسے آسٹریلیا نے اپنی فہرست میں شامل کیا ہے وہ بھی ایک ساتھ ہی شامل ہوا ہے جو کہ نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کو پریشانی کی Situation میں ڈालے ہیں. China کے 190,000 طلباء سے انھیں کم تعداد والا دیکھ کر عجیب ہی ہے, اور یہ بھی بات ہے کہ 140,000 تک پہنچنے والے ہندوستانی طلباء نے آسٹریلیا میں تعلیم کی معیشت پر بھی اپنا اثر چھوڑا ہے. اس لئے کہ Australia mein Indian Students ki number increase hone se economy par bhi effect pad rahe hain.
 
ایسا محض ویزا کے لئے چلو نہیں، آسٹریلیا میں ہندوستانی طلباء کی تعداد تو بڑھ رہی ہے لیکن پھر بھی اس کی وجہ سے ان کے لئے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو آپ سب جانتے ہوں گے، یہ معاشرہ زیادہ تر تعلیم کی پرچھائی کر رہا ہے اور ویزا کی ایسی پریشانیوں کے باعث بھی اس نے ہندوستانی طلباء کو اپنی مدد سے باہر رکھ دیا ہے، آپ کو یہ بات غور کرنی چاہئے کہ ویزا لینے کا نہیں صرف ایسا پہلے تو لگتا تھا جس سے ہم فائدہ اٹھا سکے، بلکہ اب بھی آپ کو اسے لینے کے بعد یہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
 
واپس
Top