لفظوںکاجادوگر
Well-known member
اسلام آباد میں ہزاروں درختوں کی کٹائی نے شہر کے لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین کو تھوڑی دیر قبل ہی ہمेशاً طویل تعلقات میں رکھنے والی وفاقی حکومت پر تنقید کی ہوئی ہے۔ اس معاملے کے بعد شہری انتظامیہ کو آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ایک شہری نے عدالت میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ اسلام آباد کی حدود میں کوئی بھی مقام پر درختوں کی کٹائی نہیں کی جاسکتی، اس لیے ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلقہ عالمی اصولوں کا خیال کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں شہر کے مختلف علاقوں میں درختوں کی کٹائی نے نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی تھوڑی دیر قبل ہی احتجاج کرنے پر مجبور کیا تھا۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کی اور اس معاملے میں پیپلز پارٹی اور ترے فرقہ وطن کے درمیان بھی تناؤ دیکھنے میں آیا تھا جس کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے درختوں کی کٹائی پر توجہ مبذول کرنے اور پارٹی اراکین کو اس معاملے میں ہر طرح سے شامل ہونے کی ہدایت کی تھی۔
اس معاملے میں انہوں نے کہا تھا کہ شہر کے شہریوں کو ’پولن الرجی‘ سے بچانے کے لیے ہے اس معاملے میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ درخت کی کٹائی میں پیپر ملبری (جنگلی شہتوت) کے درخت کو کٹایا گیا ہے اور اس کے باعث ماحولیاتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس معاملے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی نے شہر کے لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین کو تھوڑی دیر قبل ہی ہمیشاً طویل تعلقات میں رکھنے والی وفاقی حکومت پر تنقید کی ہوئی ہے۔ اس معاملے کے بعد شہری انتظامیہ کو آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک شہر جسے شہر کی قدیم پہچان وہیں اور اس پر ان کے ماحولیاتی اثرات کو دیکھتے ہیں جو اس سے تھوڑا پہلے اسلام آباد میں ہوئے تھے، جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر شہریوں نے احتجاج کرنے والے شہر کی سڑکوں اور ماحولیاتی معاشروں میں درختوں کی کٹائی کا بھی حقیقت پسند مطالعہ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے یہ کہنا تھا کہ اچانک اور بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے زیرِ زمین نباتات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں اس لیے تمام اقدامات ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور شفاف نگرانی کے تحت کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شہر کی شہریات اس ماحولیاتی تبدیلی کو پھیلنے سے روکنا چاہتی ہے اور شہر کی ماحولیاتی صحت کو بڑھانے کے لیے شہر میں درختوں کو اٹھا کر اور نئے پھونٹوں سے جگہ دی جائے گی۔
اسلام آباد میں شہر کے مختلف علاقوں میں درختوں کی کٹائی نے نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی تھوڑی دیر قبل ہی احتجاج کرنے پر مجبور کیا تھا۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کی اور اس معاملے میں پیپلز پارٹی اور ترے فرقہ وطن کے درمیان بھی تناؤ دیکھنے میں آیا تھا جس کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے درختوں کی کٹائی پر توجہ مبذول کرنے اور پارٹی اراکین کو اس معاملے میں ہر طرح سے شامل ہونے کی ہدایت کی تھی۔
اس معاملے میں انہوں نے کہا تھا کہ شہر کے شہریوں کو ’پولن الرجی‘ سے بچانے کے لیے ہے اس معاملے میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ درخت کی کٹائی میں پیپر ملبری (جنگلی شہتوت) کے درخت کو کٹایا گیا ہے اور اس کے باعث ماحولیاتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس معاملے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی نے شہر کے لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین کو تھوڑی دیر قبل ہی ہمیشاً طویل تعلقات میں رکھنے والی وفاقی حکومت پر تنقید کی ہوئی ہے۔ اس معاملے کے بعد شہری انتظامیہ کو آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک شہر جسے شہر کی قدیم پہچان وہیں اور اس پر ان کے ماحولیاتی اثرات کو دیکھتے ہیں جو اس سے تھوڑا پہلے اسلام آباد میں ہوئے تھے، جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر شہریوں نے احتجاج کرنے والے شہر کی سڑکوں اور ماحولیاتی معاشروں میں درختوں کی کٹائی کا بھی حقیقت پسند مطالعہ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے یہ کہنا تھا کہ اچانک اور بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے زیرِ زمین نباتات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں اس لیے تمام اقدامات ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور شفاف نگرانی کے تحت کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شہر کی شہریات اس ماحولیاتی تبدیلی کو پھیلنے سے روکنا چاہتی ہے اور شہر کی ماحولیاتی صحت کو بڑھانے کے لیے شہر میں درختوں کو اٹھا کر اور نئے پھونٹوں سے جگہ دی جائے گی۔