وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا عظیم فیصلہ کرلیا ہے، جس سے نئے بلدیاتی نظام کے تحت ایک سے زیادہ میئر اور نائب میئر ملें گے۔ اس فیصلے کے تحت وفاقی دارالحکومت کو نئے نظام کے تحت 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کی تیاری مکمل کی گئی ہے، جس سے ہر ٹاؤن میں الگ میئر اور نائب میئرز تعینات کیے جاچکے ہوں گے۔
اسلام آباد میں بلدیاتی نظام پنجاب ماڈل پر تشکیل دینے کی منظوری دی گئی ہے، جس سے ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور 2 نائب میئرز تعینات کیے جاچکے ہوں گے۔
اسلام آباد میں نئے نظام کے تحت میئرز کو صفائی، نکاسیٔ آب اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے جب کہ بلدیاتی سطح پر انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
نئے نظام کے تحت ایک یونین کونسل کے چیئرمین بالواسطہ طور پر میئر اور نائب میئرز کا انتخاب کریں گے، جس سے عوام کے حوالے سے میئر اور نائب میئرز کی منتخب کیے جانے کے بجائے بلديہ کی ذمہ داریوں کو انتظام کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نظام کو ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور وفاقی کابینہ نے بلدیاتی ترامیم کی منظوری دی ہے، جس کے بعد صدارتی آرڈیننس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
اسلام آباد کو ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ تو بڑا اچھا تھا، اب اس کی کبھی بھی ایک سے زیادہ میئر اور نائب میئر نہیں مل سکتے۔
لیکن یہ بات کوئی بھول جائی نہ سکتی کہ آج کل وفاقی دارالحکومت میں ایسا نظام ہوتا ہے جو لوگوں کے لیے بہت ناکام ہو رہا ہے، اس لیے اس میں کمیں اور improvements ضروری ہیں۔
اب وفاقی دارالحکومت میں ٹاؤن کارپوریشنز کا نظام 3 حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، پھر بھی یہ بات کوئی بھول نہ سکتی کہ اس سے لوگوں کے لیے بہتر نتیجہ نہیں ملے گا، کیونکہ وفاقی دارالحکومت میں ایسا نظام ہوتا ہے جو لافز ہی کرتا ہے اور عوام کو بے فائدہ پہنچاتا ہے۔
علاوہ ازیں یہ بات تھی کہ اسلام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن کی منصوبہ بندی سے ناکام رہی، اس نے ٹاؤن کو ایک موثر نظام میں ترقی دینے کی پوری کوشش کی لیکن اس نے ابھی بھی نتیجہ نہ دیا ہے۔ لہٰذا یہ فیصلہ ٹھیک ہوگا۔
بھیڑ بھڑ کر ایک نئے نظام کو لانے کے لیے آپنی سرزہ کر رہی ہو۔ وفاقی دارالحکومت میں ٹاؤن کارپوریشنز کی تقسیم پر غور غور کرنا چاہئیے، یہ دیکھنا چاہئیے کہ نئے نظام کس طرح آپنے فائدے میں لیتا ہے یا آپ کو آگے بڑھانے کا راستہ دکھای گا؟
اس اسلام آباد کی بڑی تبدیلی کی بات کر رہے ہوں تو کیا یہ سچ میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت ایک سے زیادہ میئر اور نائب میئر مل جائیں گے؟ یہ بہت حیرت انگیز ہے، نہیں تو ہم نے پہلے بھی یہی واضح کیا ہے کہ ایک سے زیادہ میئر اور نائب میئرز کے لئے نازعہ ہو گیا تھا، لیکن اب یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اس نظام کو اپنایا جاega؟ تو سچ میں بھی یہ کیسے ہوسکے گا؟ اور ایسے میئرز کی انتخاب کی جائے گی؟ یہ سب کچھ تازہ ہوا ہے، نہیں تو پہلے ہی ان کو منتخب کر لیا جاتا تھا۔
ایک بھی بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ اچھا لگتا ہے، کیونکہ اس سے بلدیاتی نظام میں زیادہ پاکیزگی اور انتظام برپا رہے گا۔ وفاقی حکومت نے بھی ٹاؤن کارپوریشنز کو منظم کرنے کا انحصار بلديہ کے ہاتھ سونے کا کام، جس سے اسے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ہوگا اور ٹاؤن کی برقراریت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
ایسا کہنے میں مشکل نہیں ہوگا کہ ایسی تبدیلیوں سے اسلام آباد میں تیزی سے ترقی ہوسکتی ہے، اور اس نئے نظام کے تحت بلدیاتی سطح پر ذمہ داریاں بھی مؤثر طریقے سے منتقل کی جا سکتی ہیں۔ پہلے وہ ٹاؤن کارپوریشنز تینوں میٹرو کو کسٹمиз کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اب ان کی یہ تبدیلی نے نئی اور مختلف پالیسیوں پر غور کیا ہے۔ اس سے مگر نتیجہ نہیں نکلے گا۔
اس्लام آباد کو ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر اس لیے کہ ابھی تک دوسری شہروں کی طرح اس کی بھرپور انتظامی ادارے موجود نہیں تھے.
یہ فیصلہ ایک نئی اور بہتر صورتحال پیش کرنے کا Hope ہوگا لیکن اچھی طرح دیکھنا پڑے گا کہ یہ نظام کچھ چیلنجز کے ساتھ کامیاب ہو گا یا نہیں.
نئے نظام میں ایسے منصب کا بھی تعین لگایا گیا ہے جس کے ذمہ دار اپنے ہی یونین کونسل کے چیئرمین ہوں گے، جو اس سے ان میں نوجوانوں اور نئے خیال رکھنے والوں کو بھی شامل کرنا پڑے گا.
یہ بات تو چیلنجنگ ہے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کرنا، اس سے نئی پالیسیوں کو لگتھنے اور مقبولیت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنا مشکل ہے کہ کیا لوگ اس نظام میں اچھی طرح آگہ ہوں گے یا پھر وہ ہی نظام رکھتے ہیں جو موجود تھا اور اب نئی فasal کی چلائی جائے؟
اسلام آباد کے میئرز کے لئے یہ نئی بھرپور سے بھری ہوئی چیلنج ہے اور یہ دیکھنے منہ جائے گا کہ وہ اس کے لئے تیار ہوں گے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ عوام کی رايہ ہمیں یہ بتا دے گی کہ وہ کس طرح اپنی برادری کی ترقی میں مدد کرے گا.
یہ فैसलہ کچھ زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے… اور اس میں بہت سارے نئے مواقع پیدا ہون گے… مگر یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اگر ہم انٹرنیٹ پر رہتے ہیں تو اس میں بھی اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے… کچھ لوگ بلاشبہ یہاں سے معاملات منظر عام پر لانے اور دوسروں کو کھینچنے کے لیے آئندہ کی بات کرتے ہیں… یہ نہایت غیر عادتی بات ہے …
بڑی بڑی شہروں میں رہنے والوں کو یہ بات چنگی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ اپنی بلدیہ کے انتظامات کے بارے میں خود کو آگاہ کریں۔ اسلام آباد نے اپنے ٹاؤن کارپوریشنز کو ان کی منصوبوں سے بھر پور کیا ہو گا، اس لئے نئے نظام میں ایسا ہونا ضروری ہے تاکہ بلدیہ کی ذمہ داریاں اچھی طرح سے انتظام کی جا سکواں۔ یہ بھی دیکھنا اچھا ہوگا کہ نئے نظام میں صاف پانی، نکاسی اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں سارے تصرفات اچھے سے انتظام کی جا سکے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی کابھی وفاقی اور صوبائی حکام کو ایسے فیصلے کرنا ہوتا ہے جس پر عوام کی توقع نہیں کی جاتی، اب انہوں نے اسلام آباد کو ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کر دیا ہے جو دوسرے شہروں کے مقابلے سے منافقت کا باعث بن سکتا ہے، پھر یہ بھی واضح نہیں ہے کہ عوام کی رائے اور پیش کشوں پر انہوں نے کتنے سمجھ میں لیا ہے، یا یہ صرف وفاقی دارالحکومت کو ماخذ اور معاونตھانے کی اجازت دی گئی تھی؟
کمی سے سمجھنے میں مشکل بات یہ ہے کہ اسلام آباد نئی ٹاؤن کارپوریشنز کے تحت کیسے کام کرے گی؟ اس نظام کو چلانے کے لیے بڑا ماحول کا تعادل پاتھا ہو گا۔ ان میئروں اور نائب میروں کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہو جائیں گی، ایسے میں اسے چلانے میں مشکل ہو جائے گا۔
اسلام آباد میں ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنا ایک بہتر ناکام کھیل ہو گا، کیونکہ یہ اس بات کو حل نہیں کرتا جو ماضی میں ایک بار تو اسے حل کرنے پر ف focس ہوا تھا۔
اسلام آباد کی انفراسٹرکچر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، میں سمجھتا ہوں کہ نئے نظام میں صفائی اور نکاسی کے کام پر مزید توجہ دی جانی چاہیے۔
اسلام آباد میں وہ لوگ جو صحت سے پڑتال ہوئے ہیں ان کی مدد کو لینے کے لئے نئے نظام میں ایسے مینجمنٹ سسٹم کو شامل کیا جानا چاہیے جو لوگوں کے مسائل کو حل کر سکے۔
علاوہ ازیں اس نئے نظام کے تحت بلدیات میں جو سافٹ ویریجں اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ہوں گا، وہ کچھ بھی نہیں ہونگے... یہاں تک کہ میرے گارڈن میں کچھ سے موٹر لائٹ بھی مل جائیں گی! ابھی بلدیاتی نظام کے بارے میں بات کر رہو تھا، اس کا تعلق ایک دوسرے شہروں کے ساتھ ہونگے اور یہاں تک کہ ہم اپنے گارڈی میں بھی لائسنس کی چیک کر رہو تھا!
اس्लام آباد کو ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنا ایک بھرپور عظیم فیصلہ ہوگا
اس لیے کہ نئے نظام کے تحت ایک سے زیادہ میئر اور نائب میئرز ملن گے، جو کیٹیگریز کے لحاظ سے مختلف مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے:
+ میئر: صفائی اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اختیارات
+ نائب میئر اور ایک دوسرا نائب میئر: انتظامی امور پر نظر رکھنے اور اس کا انتظام کرنے کا دعویٰ