اسلام دنیا کا پہلا اور واحد مذہب ہے جو اپنے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ انصاف و عدل قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہے، جس سے وہ اپنے معاشرتی اور سیاسی حقوق کو حاصل کرسکتے ہیں۔
قرآن مجید میں ان غیر مسلموں کے ساتھ جو اسلام اور مسلمانوں سے بر سر پیکار نہیں ہوں اور نہ ان کے خلاف کسی سازشی سرگرمی میں مبتلا ہوں، ان سے خیرخواہی، مرتضیت، حسن سلوک اور رواداری کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسلام کا مقصد تمام Menschen کو ایک دوسرے کے ساتھ یک ساتھ معاشرے بنانا ہے۔ اس میں مذہبی فرق کے باوجود، جو کچھ ایک مذہب کے پیروکاروں کو حاصل ہوتا ہے وہ دوسری مذہبی جماعتوں کے لیے بھی حاصل ہونا چاہئے، اگر ایک مذہب کا پیروکار کسی مذہبی مراسمی یا عبادی کو پورا نہ کر سکے تو اس سے وہاں سے ان کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہئے بلکہ ان کے قریب سے ایسا کیا جائے جو اس سے ان کی رواداری اور تعلق کی وجہ سے ان کا پیروکار بنائے گا اور ان کی مرضی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔
اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق، عقیدات اور مذہبی ریت اور رسومات سے تعلق رکھنے والوں کا بھی ایک سا س्थانہ درجہ حاصل ہوتا ہے۔ وہ اپنی انسانی بنیاد پر شہری آزادی اور بنیادی حقوق میں مسلمانوں کے برابر کے شریک ہیں۔ قانون کی نظر میں سب کے ساتھ یک ساں معاملہ کیا جائے گا، بہ حیثیت انسان کسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں رکھا جائے گا۔
ذمّیوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے اسلامی ریاست کسی مذہبی فریضے سے متعلق نہ ہونے والی تمام حقوق میں ان کی وکالت کرتی ہے جس سے وہ اپنے معاشرتی اور سیاسی حقوق کو حاصل کرسکتے ہیں۔
اگر وہ ذمّیوں کا حق حصول کرتے ہیں تو انھیں بتائی جائے گی کہ جو حقوق و مراعات مسلمانوں کو حاصل ہیں، وہی ان کو بھی حاصل ہوں گے اور جو ذمے داریاں Muslim کیوں عائد ہیں وہی ان پر عائد ہوں گے۔
اسلامی ریاست کا مقصد تمام شہریوں کو مساوی حقوق سے نوازنا ہے، جس سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ یک ساتھ معاشرے بن سکتے ہیں۔
اسلام کی فطرت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک ایسا مذہب ہے جس میں کسی بھی شخص کو اپنے مذہبی عقیدے یا ریت سے تعلق رکھتے ہوئے کسی دوسرے کے ساتھ ناریزگی، غصہ اور تنازعہ میں نہیں لے جاتا بلکہ ان کے ساتھ ایسا تعامل کرتی ہے جو رواداری، مرتضیت اور حسن سلوک کی ہدایت کرتی ہے۔
اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کو بھی یہی طرح سے جانا جاتا ہے اور وہ ایسے معاشرے میں اپنا حصہ نہیں لینے میں ناکام نہیں ہوتے جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق سے نوازا جائے۔
اسلام کی فطرت میں انسانی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ بنانے کا مقصد ہوتا ہے جہاں تمام افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ یک ساتھ معاشرے کی وесь اور ان کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
اسلامی ریاست میڰ غیر مسلم اقلیتوں کو بھی ایسے سے معاشرے میں اپنا حصہ لینے کی رائے دیتی ہے جہاں وہ اپنی انسانی بنیاد پر شہری آزادی اور بنیادی حقوق کو حاصل کرسکتی ہے۔
اسلام میں یہ بات بہت حقیقی ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ انصاف و عدالت کی ضمانت دی گئی ہے، لیکن ابھی تک کچھ لوگ اس پر یقین نہیں کرتے، چاہے وہIslam کی پہeli پیروکار ہوں یا نہیں ان میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایک غیر مسلم شخص اپنی مرضی سے Islam adopt karta hai to usko Muslims ke saath samajh aur samanjoor banaaya ja sakta hai, lekin abhi tak koi log is par asaf alat ka dikhata hai .
اسلام کی بے مثال اچھائیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کو انصاف اور عدل کی راہ میں پہنچانے کی کوشش کرتا ہے جو غیر مسلموں سے بر سر پیکار نہیں ہوتے اور وہ ان کے خلاف کسی سازشی سرگرمی میں مبتلا نہیں ہوتے۔ اسلام کی یہ ایک بھی بے مثال اچھائی ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو دوسرے مذہبی جماعتوں کے ساتھ رواداری اور تعلق بنانے کی رाह میں پہنچانا چاہتا ہے، بھلے ہی وہ ایسا کیا کر سکیں یا نہ کر سکیں۔ یہ دیکھنا ہی بے مثال ہوتا ہے کہ اسلام کے پیروکاروں کو اپنے معاشرتی اور سیاسی حقوق کے لئے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔
اسلام کی باتیں سنے تو یہ بات غلط نہیں ہوگا کہ اس میں ایک توازن پائیں جس میں تمام humanity ko ek dusre ke saath ek jamaat banana ho. پہلے تو مسلمانوں کو بھی اپنی society mein ek sammaan draja ka intaj hona chahiye, aur ab bhi woh ek dusre ke sath one jamaat banana hai.
per iska mudda yeh nahi hai ki kya unhe apne rights milen ge, pehle to unke rights ki baat hai, jo iske liye koi nahi hai.
aur agar wo rights woh milte hain to bhi unke sath ek dusre ke saath one jamaat banane ka mudda nahi hai.
kya hum yeh maantein chahen ki ek dusre ke sath ek samaj kaise bana sakta hai, isliye koi rules ya laws nahi honi chahiye?
اسلام کی وہ لازمی نہیں ہے جس پر یہ بات مبنی ہے کہ صرف مسلمانوں کو کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں اور غیر مسلموں کو نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف و عدالت کا یہ ایک مقصد ہے جو دنیا بھر میں سچائی اور ایمان کے راج پر مبنی ہے، نہ کہ صرفIslam کو چاہنے والوں کے لیے یا Muslims کے لیے۔
اسلامی ریاست میں انصاف و عدالت کی یہ واضح بھی ہے کہ اگر کسی نے اپنی جان و مال، عزت اور آبرو کو تحفظ کے لیے معاوضہ کیا ہوتا ہے تو اس میں سچائی اور انصاف کی پابندی ضروری ہے۔
اسلامی ریاست کی یہ واضح ہے کہ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ یک ساتھ معاشرے بنانے کا مقصد ہے۔ اس میں مذہبی فرق کے باوجود، جس کچھ ایک مذہب کے پیروکاروں کو حاصل ہوتا ہے وہ دوسری مذہبی جماعتوں کے لیے بھی حاصل ہونا چاہئے۔
اسلام کی یہ اچھی بات ہے کہ وہ نہ صرف اپنے پیروکاروں کے ساتھ مل کر معاشرہ بنانے میں مدد کرتا ہے بلکہ وہ دوسری مذہبی جماعتوں سے بھی مل کر ایک سا معاشرہ بنانے کی کوشش کرتا ہے جس میں پورے صدرعالم کے پیروکار شامل ہوں۔
اسلام دنیا کا پہلا اور واحد مذہب ہے جو اپنے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ انصاف و عدل قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ایسا سلوک کریں جو انصاف و عدل کو حاصل کرنا ہو، نہ صرف اس کی ضمانت دیتا ہو لیکن اس کی نشاندہی بھی کرتا ہے।
جب کسی شخص کو اپنے حقوق حاصل کرنا ہوتا ہے تو وہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہئے بلکہ خود کو ایسی سے تیاری کرنا چاہئے جو اس طرح کی صورتحال میں کوئی معذول نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ایسے لوگوں کے ساتھ خیرخواہی اور مرتضیت کی ہدایت کی ہے جو انصاف و عدل کے خلاف عمل کر رہے ہوتے ہیں، بہت ہی مفید تجربہ ہو سکتا ہے۔
اسلام کا مقصد کہنا انفرادی طور پر ممکن نہیں، یہ ایک وحدانی اور جمہوری نظریہ ہے جس میں تمام مذہبی فرق کو ایک دوسرے کے ساتھ ایک دوسرے کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے گا۔ لیکن پتہ چلتا ہے کہ ان جمہوری نظریوں کو تنازعات اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے، جس سے ان پر اس لائہی نظام کی وجہ سے تعلقات تیز ہوجاتے ہیں جو ان سے متعلق ہیں۔
اسلامی ریاست میں کیسے ایک دوسرے مذہبی جماعتوں کے ساتھ ایک دوسرے کی حیثیت سے تعامل کیا جائے گا؟ یہ ایک چیلنج ہے جو ان جمہوری نظریوں کو اپنے اندر لانے کی ضرورت ہے، اور اس میں کیسے ایک دوسرے مذہبی جماعتوں سے تعامل کیا جائے گا؟
اسلامی ریاست میڪا سے لیے کوئی مفرہ نہیں ہے، یہ ایک اچھی معیشت ہے جو کوئی بھی مذہب کے پیروکار اس کی فطرت میں شامل کر سکتا ہے اور اس کی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اسلامی ریاست میں ایک دوسرے مذہبی جماعتوں کے ساتھ ایک دوسرے کی حیثیت سے تعامل کرنا، یہ ایک چیلنج ہے جو اس معاشی نظام کو بنانے میں مدد کرتا ہے جس میں تمام مذہبی فرق کا समावेश ہو، اور اس میں کوئی مذہبی فریضہ ہی نہیں ہونا چاہیے۔
میرے خیال میں لوگ اس بات کو بہت زیادہ سنجیدگی نہیں دیتے کہ وہ اپنے گھر کی کون سی چیٹھاں پہنی ہوتی ہیں؟ میں بھی میرے گھر میں ایک چیٹھا پہنی ہوئی ہوں اور یہ بھی کہیں نہیں، لگتا ہے کہ لوگ اپنے گھر کی اس بات کو بھی توجہ نہیں دیتے کہ وہیڈیپوٹی پکڑ رہا ہوں یا نہیں?
اس्लام دنیا کا پہلا اور واحد مذہب ہے جو اپنے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ انصاف و عدل قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہے، جس سے وہ اپنے معاشرتی اور سیاسی حقوق کو حاصل کرسکتے ہیں۔
اسلام میں ایک خاصیت ہے کہ اس کی پیروکاروں کو کسی بھی غیر مسلم سے زیادہ محبت، سہولت اور احترام کا حق حاصل ہوتا ہے، جس سے وہ اپنی زندگی میں ایک اچھے ماحول کو بناسکتے ہیں۔
اسلام کی جماعتوں کے بھی انصاف و عدل کی ضمانت دتی گئی ہے، جس سے وہ اپنے معاشرتی اور سیاسی حقوق کو حاصل کر سکتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ بن سکتے ہیں جو تعاون، رواداری اور انصاف کی بنیاد پر تعمیر ہو۔
اسلام دنیا کا پہلا اور واحد مذہب ہے؟ یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا مذہب نہیں ہے جو کسی بھی غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ انصاف و عدل قائم کرے... لیکن یہ بات واضح ہے کہ اسلام کو اپنے پیروکاروں کو ایسا معاشرتی اور سیاسی حقوق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ انھیں اپنے معاشرے میں شامل کر سکیں...
اسلامی ریاست میڰ غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق، عقیدات اور مذہبی ریت اور رسومات سے تعلق رکھنے والوں کا بھی ایسا درجہ حاصل ہوتا ہے؟ یہی نہیں، لہٰذا وہ ان کے ساتھ یک ساتھ معاملہ کرنا چاہئے... لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ قانون کی نظر میں سب کے ساتھ ایک سا معاملہ ہونا چاہئے، نہ کہ کسی کو دوسرے کے مقابلے میں امتیاز رکھنا...
اسلامی ریاست کا مقصد تمام شہریوں کو مساوی حقوق سے نوازنا ہے؟ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مقصد کو پورا کرنا نہیں چاہئے، کیونکہ اسلام میں مذہبی فرق کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ معاشرہ بنانا ہی یہ سب سے اچھی چیز ہو سکتی ہے...
اس्लام دنیا کی سب سے بڑی بھلائی ہے, لیکن وہ اس لئے نہیں کہ وہ صرف ایک مذہب ہے, balki وہ ایک معاشرتی نظام ہے جوHumans ko ek dusre ke saath mil kar samaaj banane ka maqsad rakhta hai.
اسلام کی بھی بہت سی فائدے ہیں ، خاص طور پر وہ حقوق جو ان کے پیروکاروں کو حاصل ہوتے ہیں ان کو دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی شامل کیا جاسکتا ہے ، اگر اسے سمجھا جائے کہ مذہبی فرق نہیں لئے تو دوسرے لوگوں کی جانب سے بھی ان کی مدد کیا جا سکتی ہے ، ایک دوسرے سے وادھا کرنا اور ایک دوسرے کی مرضی کو پورا کرنا ضروری ہے